Home » کالم » قومی اسمبلی کا تاریخی اقدام………قبائلی نشستیں بڑھانے کے بل کی منظوری
adaria

قومی اسمبلی کا تاریخی اقدام………قبائلی نشستیں بڑھانے کے بل کی منظوری

قومی اسمبلی میں تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے 26 واں آئینی ترمیمی بل متفقہ طورپر منظور کرلیا ہے، بل کی مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا، وزیراعظم نے 26 ویں آئینی ترمیم کی حمایت کرنے پر تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبائلی عوام کو نمائندگی ملے گی، ہم ملکی ترقی میں پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا چاہتے ہیں ، دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دوران قبائلی علاقوں میں جس طرح تباہی ہوئی اور ان سے جو مسائل سامنے آئے قوم چاہتی ہے کہ یہ مسائل حل ہوں اور ان لوگوں کی آواز سنی جائے ۔ یہاں پر وزیراعظم نے یہ بھی کہاکہ مجھے ادراک ہے کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے صوبوں کو بعض خدشات موجود ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ فاٹا میں جو تباہی ہوئی ہے اس تباہی کا ازالہ کے پی کا صوبہ اپنے فنڈ سے نہیں کرسکتا اس سلسلے میں باقی صوبوں کو بھی اپنا کردارادا کرنا چاہیے ۔ مشرقی پاکستان کے سانحے کابڑا واقعے کی بنیادی وجہ بھی احساس محرومی تھا، یہ بات وزیراعظم نے بالکل درست کہی کہ جب حقوق کی حق تلفی ہوتی ہے تو پھر لوگ اپنا حق لینے کیلئے نکلتے ہیں ، اس حق کیلئے شکست و ریخت ہوتی ہے ۔ قومی اسمبلی میں تاریخ میں پہلی بار پرائیویٹ ممبر بل پر26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ۔ آئینی ترمیم کے حق میں 288ارکان نے ووٹ دیا جبکہ کسی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی ۔ بل کے تحت آئندہ مردم شماری تک سابقہ فاٹا کی قومی اسمبلی میں 12نشستیں دوبارہ بحال کر دی گئیں ہیں جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کیلئے سابقہ فاٹا کی نشستیں 16سے بڑھا کر24کر دی گئی ہیں ، بل کے تحت بل کے نفاذ کے بعد 18ماہ کے دوران الیکشن کروائے جائیں گے ۔ قومی اسمبلی سے منظور ی کے بعد 26ویں آئینی بل سینیٹ میں پیش کیا جائیگا ،سینیٹ کی منظوری کے بعد صدر مملکت عارف علوی کے دستخط سے بل آئین کا حصہ بن جائیگا ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں آزاد رکن محسن داوڑ نے26ویں آئینی ترمیم کا بل (دستور ترمیمی بل 2019)پیش کرنے کےلئے تحریک پیش کی، سپیکر نے تحریک پر رائے شماری کروائی، بل کی شق 2 کے حق میں 281 اور شق 3کے حق میں 282ارکان نے کھڑے ہو کر ووٹ دیئے، بل کی شق وار منظوری کے بعد بل کی حتمی منظوری کےلئے ایوان کی تقسیم کا طریقہ کار اپنایا گیا ۔ سپیکر نے ایوان میں ارکان کو بل کی حتمی رائے شماری کے طریقہ کار سے متعلق ارکان کو آگاہ کیا ، بل پر رائے شماری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے آئینی ترمیم کے نتاءج کا اعلان کیا ،پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار نجی ;200;ئینی ترمیمی بل کو حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا، قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے ۔ تمام صوبے این ایف سی میں 3 فیصد فاٹا کو دیں گے، صوبوں کو اس میں کچھ تحفظات کم ہوں گے کیونکہ مالی مسائل ہیں ،لیکن سابقہ فاٹا میں دہشت گردی کیخلاف جنگ کے باعث بہت نقصان ہوا، فاٹا میں ترقیاتی منصوبے کیلئے بڑی رقم کی ضرورت ہے ۔ خیبرپختونخوا کے ترقیاتی فنڈ سے فاٹاکے ترقیاتی منصوبے مکمل نہیں ہوسکتے، مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، ہ میں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، کسی کو یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان ان کوحق نہیں دے رہا اورجب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھنا چاہیے ۔ پسماندہ علاقوں کو ترقی دے کرمرکزی دھارے میں لایا جائے، پاکستان کے دشمن احساس محرومی کو منفی مقاصد کیلئے استعمال کرسکتے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ہے، فاٹا کی آوازاب ہر جگہ سنی جائے گی، فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کےلئے وہاں سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی بڑھائی جارہی ہیں ، فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، تمام جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں ۔

کوءٹہ دھماکہ، دہشتگرد مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے

کوءٹہ میں ایک دفعہ پھر دہشت گردی سر اٹھا رہی ہے، خصوصی طورپریہاں پولیس کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے، گوادر پر حملہ، لاہور میں داتا دربار کے باہر حملہ اور اب پھر کوءٹہ میں ہونے والا حملہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں نظر آتی ہیں اور اس کے پیچھے یقینی طورپر’’را‘‘ ملوث ہوگی، کیونکہ لاہور کے خودکش بمبار کا جوتا بھی بھارتی برانڈ کا تھا، یہ بات خصوصی طورپر دیکھنے میں آئی ہے کہ جیسے ہی ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ شروع ہوتا ہے تو بھارت اپنی مذموم سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتا ہے لیکن پاکستان اور اس کی قوم بھارتی عزائم کو کسی صورت بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دے گی ۔ کوءٹہ میں ہونے والے دھماکے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 11 افراد زخمی ہوگئے ۔ ریسکیو ذراءع کے مطابق کوءٹہ کے علاقے منی مارکیٹ میں پولیس موبائل کے قریب دھماکا ہوا ۔ ڈی ;200;ئی جی نے بتایا کہ دھماکہ خیز مواد موٹر سائیکل پر نصب تھا، دہشت گردوں کا نشانہ پولیس اہلکار ہی تھے ،کرائم سین کو محفوظ کرلیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے سیٹلاءٹ ٹاءون میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ۔ گھناءونی سازش کے تحت امن کی صورتحال خراب کرنےکی کوشش کی جارہی ہے، عدم استحکام پیدا کرنے والوں کا مقابلہ پوری طاقت سے کیا جائےگا ۔ سیکیورٹی انتظامات کا از سر نو جائزہ لے کر مزید بہتر بنایا جائے گا ۔ خیال رہے کہ ہفتے کے روز بلوچستان کے ضلع گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل پر 3 دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا جس کے نتیجے میں ایک نیوی اہلکار سمیت 5 افراد شہید اور 6 زخمی ہوگئے تھے ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جب تک ہم آئی ایم ایف کی طرف دیکھتے رہیں گے تومجبوری اورلاچاری بڑھتی رہے گی،ہ میں اپنے اداروں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہ میں اپنے ملک کے اندر وسائل کو بروے کار لانا ہوگا،آئی ایم ایف سے ڈیل میں دیر نہیں ہونی چاہیے تھی یہ کام پہلے ہوجانا چاہیے تھا،وزیراعظم اسد عمر کے ہوتے ہوئے بھی آئی ایم ایف سے ملے ہیں ،اسد عمر ایک ایماندار آدمی ہے اورپی ٹی آئی کا اثاثہ ہے، اپوزیشن کو آئی ایم ایف کی ٹرم اینڈ کنڈیشن پر اعتراض ہے،جو ٹیکس دے رہے ہیں ان کو تنگ نہ کریں بلکہ ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائے،حکومت کو چاہیے کہ ٹیکس بیس کو بڑھانا چاہیے، مجھے تو شبر زیدی کی باتوں سے کوئی ایسا نہیں لگتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات کررہے ہیں ،حکومت کو چاہیے کہ اپنے محکمے ٹھیک کرے ،ٹیکس نیٹ ورک کو بڑھائیں ،حکومت کو چاہیے کہ کاروباری لوگوں کو سہولتیں دے،اوگرا اورنیپرا کے اپنے محکمے ان کی مانتے ہی نہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative