Home » کالم » قومی ذمہ داریاں
asgher ali shad

قومی ذمہ داریاں

asgher ali shad

پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور بابائے قوم کے وژن کے مطابق امن کا خواہا ں ہے۔ جنگی آلات سے لیس تربیت یافتہ فوج ہی جنگ روک سکتی ہے اور ایک پیشہ ورانہ فوج ہی امن کی ضمانت دیتی ہے ۔ غیر جانبدار حربی ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کی جری افواج نے ایک سے زائد مرتبہ اس بات کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا کہ وہ دنیا کی چند بہترین افواج میں سے ایک ہے۔ دوسری جانب دہلی کے حکمرانوں نے وطن عزیز کے خلاف اپنی منفی روش کو بھرپور طریقے سے جاری رکھا ہوا ہے اور بھارتی سازشیں ہیں کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہیں حالانکہ وزیراعظم پاکستان نے کئی مرتبہ اس امر کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اپنے سب ہمسایوں سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور انھوں نے اس ضمن میں بھارت کو خصوصی پیش کش بھی کی کہ اگر وہ ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان اس کے جواب میں دو قدم آگے چلے گا مگر بد قسمتی سے بھارت نے خاطر خواہ ڈھنگ سے مثبت جواب نہیں دیا۔ یہاں یہ امر بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پچھلے کچھ دنوں میں امریکہ کی جانب سے اس نوع کے اشارے دیئے گئے کہ وہ افغانستان میں موجودہ اپنی افوج کے انخلاء کو تیز کرنے جا رہا ہے مگر تاحال اس ضمن میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی کیونکہ کئی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ پچھلے تقریباً اٹھارہ سال میں امریکہ بے پناہ نقصان اٹھا چکا ہے مگر ایسے میں بھی کچھ امریکی حلقے افغانستان میں اٹھنے والی ہزیمت کا کھلے بندوں اعتراف کرنے پر آمادہ نہیں۔ اس وجہ سے معاملات نتیجہ خیزی کی جانب نہیں بڑھ رہے اور اس بابت یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ بھارت بھی براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح سے امریکہ کی تمام تر معاونت کر رہا ہے تا کہ افغانستان میں حالات بہتری کی جانب نہ بڑھنے پائیں اور یوں بھارتی عزائم کو بتدریج تقویت ملتی رہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی یاد رکھی جانی چاہیے کہ اس ضمن میں یہ پراپیگنڈا تسلسل اور تواتر کے ساتھ کیا جا رہا ہے کہ اگر افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا فوری طور پر عمل میں آیا تو خطے میں عدم استحکام کی سی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے جس کے دیر پا اثرات پورے ریجن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس نکتہ نظر کی سب سے زیادہ وکالت دہلی اور بعض افغان عناصر کر رہے ہیں، حالانکہ یہ بات پوری طرح اظہر من الشمس ہے کہ جنوبی ایشیاء میں دیر پا امن کا واحد راستہ امریکی افواج کا خطے سے انخلا ہے جس کے نتیجے میں توقع کی جا سکتی ہے کہ حالات بہتری کی جانب جائیں۔ اس ضمن میں یہ امر بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے جو بیش بہا قربانیاں سر انجام دی ہیں ان کا اعتراف عالمی سطح پر کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان عرصہ دراز سے خود عالمی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ ایسے میں ضرورت تو اس امر کی تھی کہ دنیا بھر کے حلقے نہ صرف عالمی دہشت گردی کیخلاف پاکستان کے ناقابل فراموش کردار کا کھل کر اعتراف کرتے بلکہ ہر ممکن کوشش کرتے کہ دنیا بھر میں جاری دہشت گردی کے اس ناسور پر قابو پایا جا سکے مگر المیہ یہ ہے کہ الٹا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا ایک فیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسے میں یہ امر توجہ طلب ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری پراپیگنڈے میں چند مزید نکات بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان میں قائم ملٹری کورٹس کو ہر طرح سے ہدف تنقید بنانا مغربی حلقوں کے بنیادی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ غیر اخلاقی اقدار اور کلچر کو فروغ دینے کے حوالے سے بھی مہم جاری ہے ۔ اس کے علاوہ پاکستان میں دہشت گردوں کو دی جانے والی پھانسی کی سزائیں بھی کئی عناصر کو بری طرح کھٹکتی ہیں اور آزادی اظہار رائے کے نام پر کئے طرح کے فسانے گھڑے جانا بھی معمول کی بات ہے۔ یہ امر بھی کسی المیے سے کم نہیں کہ وطن عزیز کے میڈیا کے بعض حلقے اس ضمن میں گویا ہراول دستے کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ اسی تناظر میں سنجیدہ طبقات کا کہنا ہے کہ دورِ حاضر میں ’’5th جنریشن وارفیئر ‘‘ایک کلیدی ہتھیار کی صورت اختیار کر چکا ہے اور بے بنیاد پراپیگنڈے کو بنیاد بنا کر کسی خاص ملک کی بابت حقائق کو مسخ کرنا ایک ’’آرٹ‘‘ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ایک بڑا حلقہ بھی جانتے بوجھتے یا نادانستگی میں پاک مخالف قوتوں کا مہرہ بنا ہوا ہے ۔ المیہ یہ بھی ہے کہ ایسا کرنے والے اپنی مکروہ روش پر بے پایاں مسرت سے پھولے نہیں سما رہے۔ شاید ان کو پوری طرح اس امر کا گماں بھی نہ ہو کہ اپنے اس طرز عمل سے وہ ملک دشمنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یوں تو عالمی میڈیا کا ایک بہت بڑا حلقہ عرصہ دراز سے پاکستان کیخلاف بے بنیاد اور شرانگیز پراپیگنڈے کا ایک طوفان برپا کیے ہوئے ہے اور اس حوالے سے جھوٹ کے ایسے ایسے تُومار باندھے جاتے رہے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔ بہر کیف امید کی جانی چاہیے کہ عالمی برادری اس ضمن میں تعمیری روش اپنائے گی اور وطن عزیز کے سول سوسائٹی کے سبھی حلقے اپنی انسانی اور قومی ذمہ داریاں موثر ڈھنگ سے نبھائیں گے۔

About Admin

Google Analytics Alternative