Home » کالم » لائن آف کنٹرول پر علاج اور خدمت

لائن آف کنٹرول پر علاج اور خدمت

ہمارے دوست اور مہربان ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۃ امتیاز) گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے زخمی اور متاثر ہونے والے گھرانوں کی خدمت اور علاج کےلئے اپنی ٹیم کے ہمراہ چکوٹھی سے کھلانا گاءوں پہنچے ۔ کھلانایونین کونسل سطح سمندر سے 6000 فٹ کی بلندی پر واقع ہے ۔ خوبصورت وادی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دو تین جگہ تو گاڑیاں اک دم جھٹکے سے رک گئیں ۔ آرمی آفیسرز نے بڑی احتیاط سے گاڑیاں آگے بڑھانے کو کہا تھا کیونکہ بالکل سامنے انڈین چیک پوسٹیں تھیں جہاں سے اکثر و بیشتر فائرنگ ہوتی رہتی ہے ۔ جس دن فائرنگ ہو جائے اسی دن پورے علاقے کی آبادی محصور ہو کے رہ جاتی ہے ۔ لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں اور جام شہادت بھی نوش کرجاتے ہیں ۔ لائن آف کنٹرول پہ رہنے والے غریب کشمیری مسلمان بڑی بہادری اور ہمت سے بھارتی جارحیت کا مقابلہ کررہے ہیں ۔ کشمیر مسلمان مرد اور عورتیں خود دار ہیں ۔ محنت مزدوری کر کے اپنا گزارا کرتی ہیں کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتیں ۔ کھلانا جاتے ہوئے راسے میں پیدل چلتی ہوئی کئی غریب عورتیں نظر آئیں ۔ گاڑی روک کر ان کی خدمت میں ہدیہ پیش کیا ۔ فوراََ لینے کی بجائے انہوں نے بار بار پوچھا کیوں دے رہے ہیں ۔ ہم نہیں لیں گی ۔ اصرار کر کے کہا کہ یہ پاکستانیوں کی طرف سے ہے ۔ تو انہوں نے لے لیا ۔ کھلانا پہنچے جہاں رورل ہیلتھ سنٹر کے سٹاف کے ساتھ کام کا آغاز کیا ۔ کھلانا کے معتبر شخص نے بتایا کہ وہ پچھلے 72 سال سے انڈین فائرنگ کا مقابلہ کر رہے ہیں اور یہاں کے غیور لوگوں نے اپنے علاقے سے کبھی نقل مکانی نہیں کی ۔ اکتوبر 2005 زلزلے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی طرف سے لائن آف کنٹرول پہ رہنے والوں کے لیے کسی قسم کا کوئی ریلیف آیا ہے ۔ اس وقت کشمیر کی جنت نظر مقبوضہ وادی انگار وادی بنی ہوئی ہے ۔ بھاری بر بریت کا شکار ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مگر غیور مسلمان گزشتہ 27 دنوں سے بھاری فوج کے کرفیو کی وجہ سے اپنے گھروں میں محصور ہیں ۔ روزانہ کشمیری مسلمان نوجوان کرفیوں کی پابندیاں توڑ کر گھروں سے نکلتے ہیں ۔ اپنے وطن کی آزادی کےلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں ۔ کھلانا;827267; میں غریب مردوں اور عورتوں کی کثیر تعداد جمع تھی ۔ ان مین راشن اور کیش تقسیم کیا ۔ عورتیں کے لیے خوبصورت شالیں بھی لے کر آئے تھے ۔ جو اُن میں تقسیم کیں ۔ بچوں کو بھی تحاءف دیے ۔ عورتیں اور بچے راشن لے کر خوش ہوئے ۔ چکوٹھی کے اہم علاقے کھلانا کے سامنے پتراج ہے جہاں پاکستان کے پہلے نشان حیدر کیپٹن سرور شہید مدفون ہیں ۔ علاقے کی آبادی تیس یا 35 ہزار ہے ۔ زیادہ تر لوگ غریب ہیں ۔ محنت مزدوری کر کے گزارے کرتے ہیں ۔ عورتیں اور بچیاں بہت کمزور اور خون کی کمی کا شکار نظر آتی ہیں ۔ یہاں ادویات نہیں ملتیں اور بھی مسائل ہیں ۔ ہم نے اسی لئے ایک ماہ کےلئے ضروری ادویات رورل ہیلتھ سنٹر کے حوالے کیں ۔ پرخطر راستوں اور فائرنگ کے منڈلاتے خطروذں سے بچتے ہوئے کھلانا اور چکوٹھی کی خوبصورت وادیوں اورپہاڑوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے رات گئے مظفرآباد پہنچے ۔ بندہ اللہ کے راستے میں نکلتاہے ۔ تو اللہ ہر طرح سے مدد بھی کرتے ہیں اور اعزاز اکرام بھی فرماتے ہیں ۔ 2005 کے زلزلے میں مظفر آباد بالکل تباہ ہوگیا تھا ۔ اس وقت کے وزیراعظم آزاد کشمیر نے بجا کہا تھا کہ مجھے لگتا ہے میں قبروں کا وزیراعظم ہوں ۔ اسٹیٹ گیسٹ ہاءوس کی عمارت ترکی کے عظیم اور انسان دوست صدر طبیب اردوان نے بنوا کر دی ۔ دوسرے دفاتر بھی بعد میں بنوائے گئے ۔ صبح سویرے پانڈو پہاڑی کی طرف نکلے جو سطح سمندر سے 9000 فٹ کی بلندی پر ہے ۔ پانڈو پہاڑی کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس سے پاکستان کو ہندوستان پر دفاعی اور تزویراتی برتری حاصل ہے ۔ اسے مجاہدین اور قبائیلیوں نے 1948 میں آزاد کروایا ۔ ہندوستان نے اس پر قبضہ کی پھر کوشش کی ۔ پانڈو پہاڑ پر فوج کے زیر انتظام میڈیکل کیمپ اور راشن کے لیے بہترین انتظام تھا ۔ مختلف کیبن بنے ہوئے تھے ۔ تھوڑی دیر میں مریضوں کی آمد شروع ہوگئی ۔ ظہر تک 150 مریضوں کا چیک اپ ہوا ۔ ادویات دیں ۔ غریبوں اور ناداروں میں کیش بھی تقسیم کیا ۔ ظہر کے بعد بھی کیمپ جاری رہا ۔ شام گئے واپسی کا رُخ کیا ۔ پانڈو پہاڑی کے دوسری طرف ہندوستان کا آڑی سیکٹر ہے جہاں اکثر مسائل ہوتے رہتے ہیں ۔ پانڈو پہاڑی اور یہاں مستعد بہادر اور جذبے والی پاکستانی فوج اور اس کی قیادت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج کتنے خاصا حالات میں بہادری اور بے جگری کے ساتھ وطن کا دفاع کرتی ہے ۔ ان حالات میں رہنا اور ہر وقت جان ہتھیلی پہ رکھنا پاک فوج کے جوانوں کا کمال ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative