Home » کالم » لاکھوں غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم،قابل ِقدر اقدام
adaria

لاکھوں غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم،قابل ِقدر اقدام

حکومت نے ملک کے سب سے کمزور طبقے کو معاشی اور سماجی حقوق کی فراہمی میں مدد کے لیے احساس پروگرام شروع کر رکھا ہے جس کے تحت معاشرے کے پسے ہوئے طبقے کو اپنے قدموں پر کھڑا کیا جائے گا ۔ غربت مٹاو پروگرام احساس کے سلسلے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ، خاتمہ غربت اور چیئرپرسن احساس پروگرام ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے ایک پریس کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ حکومت 10 لاکھ غریب لوگوں کیلئے راشن اسکیم لا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیلئے شفاف طریقے سے کارڈ تقسیم کئے جائینگے، تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیئے جائیں گے، پروگرام کے خدو خال بتاتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ معذوروں کوویل چیئر،آلہ سماعت، سفید چھڑی مفت دی جائیگی، اسٹریٹ چلڈرن، جبری مشقت کے شکار بچوں کے تحفظ کیلئے نیا ادارہ بنے گا، نیا پاکستان ہاءوسنگ اسکیم میں بھی معذور افراد کیلئے 2فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے، کفایت شعار پروگرام کے تحت70 لاکھ غریب خواتین کو وظاءف دیئے جائینگے، یتیموں کیلئے ایک نئی پالیسی لائی جا رہی ہے جو کہ یتیم خانوں کی حالت بہتر بنائے گی اور ضرورت کے مطابق انکی تعداد میں اضافہ کریگی، ہر ماہ 80ہزار بیروز گارافراد کو بلا سودقرضے ،سلائی مشینیں ، مال مویشی، دکان کا سامان دینگے،غریب طالبعلموں کیلئے انڈر گریجویٹ اسکالرشپ اسکیم،ٹیوشن فیس، ہاسٹل کا خرچہ اور وظیفہ دیا جائیگا ۔ بلاشبہ یہ ایک جامع پروگرام ہے جس پر صحیح معنوں میں عمل در;200;مد سے ملک سے غربت اور بے روزگار کے خاتمہ میں مدد ملے گی ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں غربت اور بےروزگاری کی شرح تشویشناک ہے ۔ ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں بیروزگاری کی شرح چھ فیصدکے لگ بھگ ہے ۔ اگر ہم اپنے اردگرد کے قریبی ممالک پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوگا پاکستان میں بیروزگاری کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے سنگاپور میں 1;46;8فیصد، بھوٹان میں 2;46;4فیصد، مالدیپ اور نیپال میں 3;46;2فیصد، بھارت میں 3;46;5فیصد،کوریا میں 3;46;7فیصد، بنگلہ دیش میں 4;46;1 فیصد،چین میں 4;46;6فیصد، سری لنکا میں 5فیصد ہے جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح 6فیصد سے زائدہے ۔ اسکے علاوہ ایسے غریب اور ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جہاں بیروزگاری کا تناسب انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے جیسے کمبوڈیا میں 0;46;3فیصد، بیلاروس میں 0;46;5 فیصد اورمیانمار میں 0;46;8 فیصد ہے ۔ جبکہ پاکستان میں بیروزگاری کی سطح گزشتہ 13سالوں میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے اوربیروزگاروں کی زیادہ تعداد میں ان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد شامل ہیں ۔ بیروزگاری کے اضافے میں توانائی کے بحران، امن وامان کے مسائل اور مہنگائی کا کلیدی کردار ہے ۔ تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اس جانب عملی اقدامات اٹھانے شروع کر رکھے ہیں ۔ ان اقدامات کو نہ صرف اندرون ملک اہم قرار دیا جا رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی نگراں ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیاء نے غربت کے خاتمے کے حکومتی منصوبے احساس کو سراہا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا تھا کہ خوراک، ہاوَسنگ، تعلیم اور صحت کے حقوق ایک ایسی بنیاد رکھتے ہیں جن پر ایک باوقار زندگی تعمیر کی جاسکتی ہے ۔ پریس کانفرنس سے مخاطب ہوتے ہوئے احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ شدید معاشی حالات میں بھی سماجی تحفظ کے بجٹ کو دو گنا کر دینا وزیر اعظم عمران خان کا ایک اہم اور جرات مندانہ قدم ہے، یہ فلاحی ریاست کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے ضمن میں تین گروپ ہیں جن کو پالیسی کور دینا ہے، پہلا گروپ وہ ہے جو سالہا سال سے غربت میں گھِرا ہوا ہے، دوسرا ;200;فت زدہ گروپ ہے جو کسی ;200;فت کی وجہ سے غریب ہو رہا ہے اور تیسرا گروپ ہمارے معذور بہن بھائیوں کا گروپ ہے ۔ پاکستان کے 2 اعشاریہ 5 فیصد لوگوں کو کسی نہ کسی معذوری کا سامنا ہے، ان افراد کی تعداد 5 لاکھ بنتی ہے ۔ رواں سال کے بجٹ میں معذور افراد کے لیے اہم پالیسیاں ہیں جن میں تمام مستحق افراد کو ویل چیئر مفت دی جائے گی، سماعت سے محروم مستحق افراد کو مفت ;200;لہ سماعت دیئے جائیں گے، بینائی سے محروم تمام مستحق افراد کو سفید چھڑی مفت مہیا کی جائے گی، جبکہ تمام مستحق معذور افراد جو نادرا میں رجسٹرڈ ہیں انہیں انصاف کارڈ دیا جائے گا تاکہ وہ اپنا اور اپنے خاندان کا علاج حکومتی خرچے پر مخصوص ہسپتالوں میں مفت کروا سکیں ۔ ملک کے20پسماندہ اضلاع میں مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جہاں پر خصوصی افراد کے لیے مصنوعی اعضا تیار کیے جائیں گے ۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ بے روزگارافراد کے لیے ایک نئی اسکیم کے بارے میں ;200;گاہ کیا جس کے تحت ہر ماہ 80 ہزار افراد کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضے دینے کا بھی اعلان کیا ۔ اسی طرح غریب طلبہ کے لیے ایچ ای سی کے تعاون سے نئی انڈر گریجوایٹ اسکیم بارے بھی بتایا کہ انڈر گریجوایٹ طلبہ کی یونیورسٹی اور ہوسٹل فیس حکومت ادا کرے گی ۔ وزیراعظم کا احساس پروگرام ایک انقلابی پروگرام ہے جس میں تمام سماجی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئیں ہیں ۔ حکومت کی توجہ نہایت بنیادی مسائل پر ہے جن کا حل کسی معاشرے کے لئے اشد ضروری ہوتا ہے ۔ ان بنیادی ایشو میں سے ایک بے روز گاری ہے اور حکومت اس جانب خصوصی توجہ دے رہی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بے روزگاری کے اثرات جہاں معاشرے کومتاثر کرتے ہیں وہیں جرائم ، سماجی اورنفسانی مسائل بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ حکومت جہاں انقلابی پروگرام متعارف کرا رہی ہے وہاں اس نے اگر مالیاتی بحران کوحل کرنے پر فوری توجہ نہیں دی تومعاشرے میں پھیلی بے چینی اورانحطاط کوکوئی نہیں روک سکے گا ۔

امریکہ کی بھارت پر نوازشات،جنوبی ایشیا کےلئے خطرناک

خطے میں طاقت کا توازن خراب کرنے میں جہاں بھارت پیش پیش رہتا ہے وہاں امریکہ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتے نہیں تھکتا ۔ جنوبی ایشیاجو اس وقت گولہ بارود کا ڈھیربن چکا ہے امریکہ نے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دے دی ہے ۔ اس کے ساتھ فضائی اور دفاعی میزائل نظام کی فروخت کی بھی پیش کش کی ہے ۔ مسلح ڈرونز کا معاہدہ ڈھائی ارب ڈالرکا بتایا جا رہا ہے ۔ مودی اور ٹرمپ کے درمیان جون 2017 میں بھارت کونگرانی کرنے والے گارڈین ڈرونز کی فروخت پر اتفاق ہوا تھا ۔ بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے فوجی صلاحیتوں کو فروغ دینے ، مشترکہ سلامتی کے مفادات اور اسٹرٹیجک اہمیت کے حامل انڈوپیسفک خطے میں اہم علاقائی مفادات کی حفاظت میں مدد دینے کے مقصد کے لئے بھارت کو مسلح ڈرونز کی فروخت کی منظوری دی ہے اس کے ساتھ مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ٹیکنالوجی کی فراہمی کی بھی بھارت کو پیشکش کی ہے ۔ امریکہ نے بھارت کو حالیہ سالوں میں جو دفاعی سازوسامان فروخت کیا ہے ان میں دو ارب 60کروڑ ڈالر کے سی ہاک ہیلی کاپٹرز، دو ارب تیس کروڑ ڈالر کے اپاچی ہیلی کاپٹر، تین ارب ڈالر کے پی81میری ٹائم پٹرول ائیرکرافٹ وغیرہ شامل ہیں ۔ امریکہ کی اسلحہ کی خریدو فروخت میں بھارت پر نوازشات پورے خطے کے امن کےلئے خطرناک ہیں ،چین اور روس کو اس معاملے کوسلامتی کونسل میں لے کر جانا چاہیے تاکہ اسلحہ کی دوذ کی حوصلہ شکنی ہو ۔

About Admin

Google Analytics Alternative