Home » کالم » لوٹی دولت کی ریکوری کیلئے بھی موثر اقدامات کئے جائیں
adaria

لوٹی دولت کی ریکوری کیلئے بھی موثر اقدامات کئے جائیں

تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے دن سے ہی کرپشن کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف اختیار اپنایا کہ کرپشن کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا ۔ اس سلسلے میں حکومت کے وزراء بھی جیل یاترا کرچکے ہیں ۔ کچھ ضمانت پر اور کچھ اندر ہیں ۔ تاہم یہ سلسلہ جاری ہے، اپوزیشن کے بھی کئی اہم ترین راہنما بلکہ اپنی اپنی جماعتوں کے روح رواں بھی کرپشن کے الزامات میں پابند سلاسل ہیں ۔ اس وجہ سے حکومت بار بار کہتی ہے کہ نہ کسی سے ڈیل ہوگی نہ ہی ڈھیل ملے گی ۔ جس نے قومی خزانے کو لوٹا اسے ہر صورت یہ رقم واپس کرنا پڑے گی ۔ ادارے اپنی جگہ متحرک اور آزاد ہیں تحقیقات کررہے ہیں اور جس کے خلاف ثبوت ملتے ہیں ا س کو دھر لیتے ہیں ۔ نیب نے قومی اسمبلی کے سابق اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر ترین راہنما خورشید شاہ کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے ۔ نیب اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نیب سکھر نے خورشید شاہ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کے تحت گرفتار کیا ہے ۔ ان کی گرفتاری بنی گالہ میں واقع رہائش گاہ سے عمل میں آئی ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما کیخلاف نیب میں تحقیقات چل رہی ہیں ان کے خلاف تمام تر الزامات ٹھوس تھے جس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ۔ خورشید شاہ نیب کی جانب سے بجھوائے گئے سوالنامہ کا بھی تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے ۔ 31 جولائی کو نیب نے خورشید شاہ کے خلاف انکوائری کی منظوری دی تھی ، ان پر 500 ارب سے بھی زائد کے اثاثہ جات بنانے کا الزام کیا گیا جس کو پیپلزپارٹی نے یکسر مسترد کردیا ۔ نیب کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت خورشید شاہ کیخلاف بینک اکاءونٹس ، بے نامی اثاثوں اور متعدد فرنٹ مینز کی تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں ۔ خورشید شاہ اور ان کے اہلخانہ کے کراچی، سکھر اور دیگر علاقوں میں ایک سو چھ بنک اکاءونٹس کے علاوہ مبینہ فرنٹ مین پہلاج مل کے نام پر سکھر، روہڑی، کراچی اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر جائیدادیں ہیں جن میں پہلاج ، گلیمر بنیگلوز، جونیجو فلور مل ، مکیش فلور مل اور دیگر متعدد اثاثے موجود ہیں ایک اور مبینہ فرنٹ مین لڈو مل کے نام پر گیارہ ، ایک اور شخص آفتاب حسین مورو کے نام دس جائیدادیں بنائی گئیں ۔ نیز امراض قلب کے ہسپتال سے متصل ڈیڑھ ایکڑ اراضی بھی نرسری کیلئے الاٹ کرائی گئی ۔ ان کے علاوہ بے نامی جائیدادوں میں عمر نامی شخص کا بھی کردار سامنے آیا ہے جس کے نام پر بم پروف گاڑی بھی رجسٹرڈ کرائی گئی جو سابق اپوزیشن لیڈر کے زیر استعمال رہی اس کے علاوہ وہ اسلام آباد میں جو خورشید شاہ کا گھر ہے وہ بھی عمر جان کے نام ہے ۔ سکھر سمیت دیگر علاقوں میں تمام ترقیاتی منصوبے عمر جان کی کمپنی کو فراہم کیے گئے ۔ نیب نے خورشید شاہ کی رہائشی سکیموں ، پٹرول پمپس، زمینوں اور دکانوں سے متعلق بھی معلومات حاصل کرلی ہیں ۔ بات یہ ہے کہ جب ملک میں بھوک و افلاس کا راج ہو ۔ بیروزگاری منہ پھاڑے کھڑی ہو ۔ طبی سہولیات میسر نہ ہوں ۔ اندرون سندھ کی حالت ایسی ہو جیسے یہ علاقہ اس زمین پر دوزخ اراضی ہو ۔ تھر میں بچے بھوک ، پیاس اور طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔ کراچی میں بارش ہو تو شہر قائد ڈوب جائے ، غریب عوام بجلی کے کرنٹ لگنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہی ہو ۔ ایسے میں اتنی زیادہ جائیدادیں حیثیت سے زیادہ اثاثہ جات کس بات کی غمازی کرتے ہیں ۔ یہ لوٹ مار نہیں تو اور کیا ہے ان میں لیڈروں کی تقاریر سنیں ۔ ان کے اصول سیاست اور جمہوریت نوازی دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جمہوریت کے سب سے بڑے چمپئن ہیں ۔ مگر جب حقائق سامنے آئیں تو پتہ چلتا ہے کہ کتنے وسیع پیمانے پر لوٹ مار کی گئی ہے یہ بات صرف خورشید شاہ تک ہی محدود نہیں ، حکومت مزید تحقیقات کرے اور بلا امتیاز کارروائی کرے تو معلوم نہیں کتنے اربوں کھربوں کی کرپشن سامنے آئے گی ۔ یہ بھی درست ہے کہ کرپشن پکڑی گئی ، نیب نے ثبوت بھی حاصل کرلئے ۔ فرنٹ مینوں کا بھی پتہ چل گیا ۔ ابھی آگے چل کر وعدہ معاف گواہ بھی مل جائیں گے ۔ مزید افراد کے نام بھی سامنے آئیں گے اور بھی گرفتاریاں ہوں گی ۔ ہمارا حکومت سے سوال یہ ہے کہ ایسے افراد کی گرفتاریاں ہونا لازمی ہیں جنہوں نے ملک و قوم کے خزانے کو اپنی ذاتی جائیداد سمجھ کر لوٹا ۔ اپنی تجوریاں بھریں ، عوام فاقوں سے مرتے رہے مگر کسی نے اس جانب توجہ نہ دی ، ادارے بھی آزاد ہیں ۔ حکومت کہتی ہے کہ ہمارا ان گرفتاریوں سے کوئی تعلق نہیں نیب گرفتار کررہا ہے ایسا ضرور ہونا چاہیے، لیکن کیا اس سے کچھ حاصل و صول بھی ہورہا ہے ، یا صرف یہ اقدامات صرف میڈیا کی ہیڈ لائنز تک ہی محدود ہیں ، ادارے ہوں یا حکومت عوام نتاءج کی منتظر ہے ۔ خور شید شاہ سے بھی قبل بہت بڑے بڑے نام قید و بند ہیں ان پر بھی کرپشن کے الزامات ہیں ۔ ابھی ایک پائی بھی وصول نہیں کی ۔ اس روایت کو ختم کرنا ہوگا جب تمام ثبوت بھی حاصل کرلئے جاتے ہیں تو پھر دیر کس بات کی ۔ آج قوم یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کرپشن ا کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے مگر کیا لوٹا گیا پیسہ قومی خزانے میں واپس آگیا ہے ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر تمام مشقیں لاحاصل اور وقت کا ضیاع ہیں ۔ معاشی اعتبار سے پاکستان کے حالات تسلی بخش نہیں اگر لوٹی ہوئی دولت کرپٹ افراد سے اگلوالی جاتی ہے تو بہت بڑی کامیابی ہوگی ایسا نہیں ہوتا تو یہ محض ایک سیاسی شعبدہ بازی سے زیادہ کوئی اقدام نہیں ۔ اپوزیشن اور دیگر جماعتوں کی جانب سے خورشید شاہ کی گرفتاری کی مذمت آرہی ہے ۔ پیپلزپارٹی نے بھی کہاکہ وہ گرفتاریوں اور جیلوں سے نہیں ڈرتی ۔ آصف زرداری ، فریال تالپور ، شرجیل میمن قیدو بند ہیں ۔ آغا سراج درانی بھی ان میں شامل ہیں اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ گرفتاریوں کے حوالے سے جانبداری کا الزام عائد نہیں ہونا چاہیے ۔ کرپشن چاہے حکومتی صفوں میں ہو یا اپوزیشن کی سب کیخلاف مساوات کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے ۔

طورخم بارڈر کا افتتاح،

خوش آئند اقدام

وزیراعظم عمران خان نے طورخم بارڈر کا افتتاح کردیا ہے جو 24 گھنٹے کھلارہے گا یقینی طورپر اس سے تجارت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ نیز افغانستان سے تجارت کے ساتھ دیگر تعلقات بھی بہتری کی جانب گامزن ہوں گے اس موقع پر وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ طالبان مذاکرات میں رکاوٹ بدقسمتی ہے ۔ افغان امن مذاکرات کیلئے پورا زور لگائیں گے ۔ طورخم ٹرمینل کھولنے سے تجارت میں 50فیصد اضافہ ہوگا ۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاوں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا، انہوں نے کہاکہ اپوزیشن بلیک میل کرنے میں مصروف عمل ہے، اپوزیشن کا نظریہ نہیں ہوتاتوملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے انھیں این ;200;راو دےدیں ، اپوزیشن کا پہلے دن سے یہی رویہ ہے کہ میں کسی طرح دبا ءو میں ;200;جا ءوں بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے ، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تووہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کابھی، پاکستان کا ;200;ئین تمام انسانوں کو برابری کا شہری سمجھتا ہے ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کے معاشی حالات کا تعلق امن سے ہوتا ہے ، دہشت گردی کیخلاف جنگ سے قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، حکومت میں ;200;کر پہلی ترجیح تھی ملک میں امن ہو پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں ۔ کشمیر کی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80لاکھ لوگوں کو محصور کررکھاہے، بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر اب قبضہ ہوچکا ہے ، انتہاپسند ہندو ;200;رایس ایس نے بھارت پر قبضہ کرلیا ہے ، ;200;رایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری ہوئی ہے ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں ;200;رایس ایس مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے، بھارت میں اس وقت نارمل حکومت نہیں ہے ، ;200;رٹیکل 370 کے خاتمے اور کرفیواٹھانے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ بات صرف اسی صورت میں ہوگی جب بھارت مقبوضہ کشمیر میں عام زندگی بحال کرکے تمام بنیادی سہولیات بھی پہنچائے گا ۔ اس سلسلے یں عالمی برادری کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative