Mian-Tahwar-Hussain 5

مائی گوماں اور عمرہ

یہ میرے بچپن کا چشم دید واقع ہے جو میرے دل ، دماغ پر ثبت ہے ۔ ہم مارٹن روڈ کراچی میں رہتے تھے گھر میں ایک پچاس برس کی اماں کام کرنے آیا کرتی وہ برتن دھونے اور کپڑے دھونے کیلئے ملازم تھی ۔ والدہ مرحومہ اسے بچا کھچا کھانا بھی دے دیتی ۔ ہمارے گھر میں مرفی ریڈیو تھا جو کارنس پر رکھا ہوتا جس پر میز پوش کی طرح کا کڑھائی کیا ہوا رومال یا کپڑا پڑا ہوتا جو ریڈیو کو گردوغبار سے محفوظ رکھتا ۔ چھٹی والے دن ہماری خواہش ہوتی کہ ریڈیو سیلون پر نشر ہونے والے گانے سنے جائیں جو اکثر لتا منگیشتر اور محمد رفیع کی آواز میں ہوتے آٹھ بجے شام کی نیوز شکیل احمد مرحوم کی آواز میں ریڈیو پاکستان کراچی سے بلا ناغہ بڑے اہتمام سے سنی جاتیں ۔ ریڈیو کے نامور آرٹسٹ جیسے طلعت حسین ، قاضی واجد، شکیل احمد سلیم احمد وغیرہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے تھے ۔ رضوان احمد صاحب کا گھر تو ہمارے بالکل سامنے تھا ۔ مارٹن روڈ کراچی کا ذکر کرتے ہوئے سنہری یادوں کے دریچے کھلتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں ۔ بچپن اور جوانی کا حصہ جہاں گزرا ہو وہ جگہیں واقعات اور لوگ کیسے بھلائے جاسکتے ہیں ۔ اللہ کا نظام بھی کیا خوب ہے دماغ کے کونے میں یادیں جمع رہتی ہیں جب چاہیں سیکنڈ کے بھی قلیل ترین حصے میں وہ اجاگر کی جاسکتی ہیں ۔ سب کچھ یوں آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جیسے برسوں پہلے کی نہیں کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہو ۔ بہرحال مائی گوماں گھر کا کام ختم کرنے کے بعد میری والدہ کے ساتھ کچھ دیگر گپ شپ لگا کر پھر دوسرے گھر چلی ج اتی اسکی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کسی گھر کی بات دوسرے گھر میں جاکر نہ کرتی اسباب کو وہ بہت بڑا گنا کہتی ان پڑھ ہونے کے باوجود وہ بڑی سمجھداری کی باتیں کرتی ۔ اسکی موجودگی میں جب کبھی ریڈیو سے خصوصاً جمعہ کے دن نعت نشر ہوتی تو وہ مکہ اور مدینہ شریف کا نام سن کر ہاتھ میں پکڑے جھاڑو کو پھینک دیتی گم سم اپنے میلے کچیلے ڈوپٹے کے پلو سے آنکھوں سے بے ساختہ بہتے ہوئے آنسو بھی بار بار پونچھتی رہتی ۔ ایک دفعہ پنجابی زبان کی نعت کسی غیر معروف نعت خواں کی آواز میں نشر ہورہی تھی جسکا مفہوم کچھ یہ تھا کہ اپنے کمزور مالی حالات کیوجہ سے میرا مدینے کا سفر نہیں ہورہا کوئی وسیلہ بن جائے تو میں بھی حاضری دے دوں ۔ اماں گوماں ہر مصرعے پر آمین کہتے ہوئے روتی رہی ۔ ہم اگرچہ سکول میں پڑھ رہے تھے لیکن گھر کا ماحول کچھ ایسا تھا کہ شعر، شاعری سننے کو ضرور ملتی ۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی مرحوم مائی گوماں کو دیکھتے رہے کچھ زیادہ سمجھ نہ آیا کہ وہ اتنے آنسو کیوں بہارہی ہے ۔ نعت جب ختم ہوئی تو وہ میری والدہ سے کہنے لگی بی بی دعا کرو میں بھی مدینے جاءوں والدہ نے بڑے جوش سے کہا آمین اللہ تمہیں مکے ، مدینے کی زیارت کرائے ، مائی گوماں اپنا کام ختم کرکے دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔ بات آئی گئی ہوگئی ۔ تین چار ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ ایک دن جب وہ ہمارے گھر میں کام کرنے آئی تو اس نے میری والدہ سے کہا بی بی میں عمرہ کرنے جارہی ہوں سرکار;248; نے میرا بندوبست کردیا ہے والدہ نے اسے مبارکباد دی اور تفصیل پوچھی تو اس نے کہا میں گرو مندر کے قریب ایک کوٹھی میں بھی کام کرتی ہوں وہ صاحب بہت نیک انسان ہیں ۔ میاں بیوی عمرے کیلئے جارہے ہیں انہوں نے میرے اور میرے گھر والے کے ٹکٹ کا بندوبست بھی کردیا ہے ۔ باہر جانے کیلئے کاپی یعنی پاسپورٹ بھی بنوا دیا ہے ہم اب ان کے ساتھ اتوار کو جارہے ہیں آپ کیلئے بھی دعا کروں گی ۔ والدہ اسکی قسمت پر رشک کرنے لگی ظاہراً مالی ذراءع نہ ہونے کے باوجود سب ذراءع بن گئے ۔ نیت اور تعلق کی بات ہے ۔ بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے آنسو مائی گوماں کی مکہ اور مدینہ شریف کی حاضری کا سبب بن گئے ۔ وسائل نہ بھی ہوں پھر بھی محبت اور عقیدت خود وسائل پیدا کرلیتے ہیں ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے کے مصداق اس ان پڑھ جاہل عورت کو نہ تو دین کا اتنا پتہ تھا نہ ہی وہ مذہبی باریکیوں کو جانتی تھی وہ صرف عشق مصطفی;248; میں تھی دل اتنا گراز تھا کہ مکے اور مدینے کا سن کر اسکی آنکھیں چھلک اٹھتی چہرے پر طمانیت ہوتی ۔ جب وہ عمرہ کرنے کے بعد واپس آئی تو اسکے چہرے پر پاکیزہ چمک نمایاں تھی ۔ اسکا کہنا تھا کہ میں اب ہر وقت ہی سرکار;248; کے روضے کی جالیوں کے سامنے ہوتی ہوں ۔ درود پاک کا ورد اور نماز کی پابندی مائی گوماں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ۔ وہ صحیح معنوں میں مائی صاحبہ بن گئی پھر گوماں کی جگہ لفظ مائی صاحبہ نے لے لی ۔ لوگ دعا کیلئے اس کے پاس آنے لگے ۔ اس کی دنیا ہی بدل گئی ۔ جس زمانے کی میں بات کررہا ہوں اس وقت کم کم لوگ حج اور عمرے کیلئے جاتے تھے ۔ وہ پہلے کردار سازی پر محنت کرتے فراءض ادا کرنے کو اولین ترجیح دیتے ، بے ضرر بن جاتے زبان بے دریغ استعمال کرنے پر محتاط ہوتے رزق حلال سے سفر مدینہ اختیار رکتے ۔ ان کے چہروں پر عمرہ کرنے یا یوں کہیے زیارت حرمین شریفین انکو یکسر بدل کر رکھ دیتی ۔ اس زمانے میں دو نمبر ذراءع سے پیسہ بنا کر حج یا عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ۔ لوگ کہتے ہم کس منہ سے سرکار کے سامنے جائیں گے اگرحرام کمائی سے سفر کریں گے ۔ آہستہ آہستہ وقت بدل گیا اب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ حج کیلئے سفر اختیار کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار سال میں متعدد بار عمرے کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن مدینے کا مسافر شاید ہی یہ سوچتا ہوکہ اس نے کتنے دھوکے فریب اور جعل سازیوں سے پیسہ بنایا اور پھر اتنا مقدس سفر اختیار کرنے کیلئے کس ڈھٹائی سے کام لے رہا ہے ۔ کیا اللہ کی اور حضور;248; کی نگاہوں سے ان کے افعال پوشیدہ ہیں نہیں ہرگز نہیں وہاں جانے والوں کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ زاد راہ حلال طریقے سے اکٹھی کی گئی ہو ۔ شراب، ذخیرہ اندوزی، بلیک منی کا کاروبار حرام ذراءع سے بنائی گئی دولت ، زبان کلام اور جسمانی بدکاریاں ، طرح طرح سے نفسانی خواہشات کی تکمیل میں ملوث زائرین کو ایک لمحے کیلئے سوچنا چاہیے کہ وہ کن کاموں میں الجھے ہوئے ہیں اور ان ذراءع سے کمائی کرکے دوات بنا کر وہ کس طرح اللہ اور اسکے محبوب;248; کی بارگاہ میں حاضر ہونے کیلئے بیباک ہیں ۔ توبہ کا دروازہ تو ہر وقت کھلا ہے انہیں چاہیے کہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگ کر حج کا سفر اختیار کریں اور اللہ کے حضور پہنچ کر خلوص دل سے دعا کریں کہ آئندہ کی زندگی وہ تاریک راہوں سے دور رہ کر گزاریں گے ۔ واپسی پر وہ ایسے بے ضرر منضعت بخش خداخوف اور توبہ النوح کی زندگی والے ہوں گے کہ پھر معاشرہ حقیقت میں اسلامی معاشرہ کہلائے ۔ حج کرنے سے اگر سونا ، الیکٹرانک کا سامان ، جاپان اور کوریا کے بنے ہوئے کمبل ہی لانا ہیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔ حج یا عمرہ اگر تجارت اور منقعت کا ذریعہ بن جائے تو پھر کیا حاصل ۔ زندگی بدلنی چاہیے ۔ معمولات زندگی اور تعلقات زندگی میں مثبت تبدیلی آنی چاہیے ۔ مائی گوماں بننا مشکل نہیں صرف خلوص تعلق اور نیت میں پاکیزگی کا ہونا ضروری ہے ورنہ حاجی صاحب کہلوانے سے کیا فائدہ ۔ یہ یاد رکھیں حکم ماننے والے سے غلطی کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں ۔ اللہ کے احکامات مانیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں