Home » کالم » ماہ رمضان اور ہم

ماہ رمضان اور ہم

رمضان المبارک کا ہو آغازہوچکا قرآن مجےد مےں اس بابرکت مہےنہ کے حوالے سے ارشاد خداوندی ہے کہ اے اےمان والو تم پر روزہ فرض کےا گےا ہے اس طرح جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کےا گےا تھا تاکہ تم متقی اور پرہےز گار بن جاءو مذکورہ آیت کی روشنی مےں روزہ رکھنے سے انسان مےں پاکےزگی پےدا ہوتی ہے اور وہ متقی بن جاتا ہے روزہ چونکہ انسان کی ذات تک محدود ہوتا ہے اس لئے اس مےں خوف خدا اور خود ضبطی کا جذبہ پےدا ہوتا ہے اور ےہی تقویٰ ہے جو انسان کو ہر قسم کی برائی سے محفوظ رکھتا ہے اس لئے روزے کو ڈھال سے تشبےہہ دی گئی ہے گوےا روزہ انسان کی رشدو ہداءت کا باعث بنتا ہے ماہ رمضان تزکےہ نفس اور روحانی اقدار کی بلندی کا مہےنہ ہے اس برکت خےز مہےنے مےں جو بھی نےکی کی جائے اس کا بے شمار اجر ہوتا ہے اس ماہ مقدس مےں امت مسلمہ کے ہر فرد کو اس امر کا عہد کرنا چاہیے کہ وہ اس مہےنے مےں مکمل طور پر اپنے فراءض کی ادائےگی کے ذرےعے اپنے دامن کو نعمات سے مالا مال کرنے کے علاوہ اپنی جسمانی اور روحانی غذا فراہم کرنے کی ہمہ تن سعی کرے گا ۔ معزز و محترم قارئےن رمضان المبارک کے حوالے سے ہمارے منفی سماجی روےوں کے متعلق راقم کا مشاہدہ انتہا درجے کی بے چےنی اور تکلےف دہ احساس کی طرف اشارہ کرتا ہے مادےت کے اس لرزہ فگن دور مےں جس طرح تمام شعبہ ہائے زندگی مادےت پرستی کی زد سے نہےں بچ سکے اس طرح اعلیٰ انسانی ،روحانی اور مذہبی اقدار بھی مادےت کی چکا چوند کے سامنے بے بس نظر آتی ہےں جہاں رمضان المبارک کی آمد اپنے جلو مےں رحمتےں ،برکتےں اور مغفرتےں لئے ہوتی ہے وہاں ان رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ ساتھ ہمےں اس ماہ مقدس مےں مصنوعی مہنگائی سے بھی واسطہ پڑتا ہے تعجب خےز حقےقت ےہ ہے کہ ےہ مہنگائی کسی غےر ےا بےگانوں کی طرف سے نہےں بلکہ اپنوں کی پےدا کردہ ہوتی ہے ضروری تو ےہ تھا کہ ہم اس ماہ مقدس کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دےانتداری اور اےمانداری کا مظاہرہ کرتے لےکن ہم نے اس ماہ کو خصوصی طور پر ناجائز کمائی کا ذرےعہ بنا لےا ہے ہر سال اسی مقدس مہےنے مےں ناجائز آمدن کو ذرےعہ معاش بناےا جاتا ہے ملاوٹ ،چور بازاری اور ذخےرہ اندوزی جےسی عادات اپنا کر اپنا بےنک بےلنس بڑھاےا جاتا ہے اپنے ضمےر کو ابدی نےند سلا کر غرےب آدمی کو تڑپانے کے سامان کئے جاتے ہےں کےا اےسے بظاہر مسلمان دکھائی دےنے والے مسلمان کہلانے کے حقدار ہےں ;238; روزے کا مقصد جےسا کہ آغاز مضمون مےں بےان کےا گےا ہے پرہےز گاری اور تقویٰ اختےار کر کے اپنے کو خود احتسابی کے عمل سے گزارنا ہے لےکن بدقسمتی کہ ہم الٹ چل پڑتے ہےں ہم نے روزے کی روح کو نہےں سمجھا اس کی افادےت و اصلےت سمجھنے سے قاصر رہے ماہ رمضان مےں ذخےرہ اندوزی کر کے چےزوں کی قےمتےں بڑھانا ہمارے ہاں معےوب نہےں سمجھا جاتا پورے عالم اسلام مےں عموماًاور عرب ممالک مےں خصوصاًاس بابرکت مہےنے کے احترام مےں حکومت ہی نہےں کاروباری اور تاجر طبقے کی طرف سے بھی اشےائے خوردونوش کی قےمتوں مےں خاطر خواہ کمی کر دی جاتی ہے اور ےہ نےک عمل تمام کاروباری طبقے حصول ثواب اور ا;203; تعالیٰ کی خوشنودی کےلئے کرتے ہےں پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہونے کے باوجود واحد اسلامی ملک ہے جہا ں ماہ رمضان مےں کاروباری طبقے اور تاجر برادری سے لےکر دکانداروں تک کھانے پےنے کی تمام اشےاء مےں دوگنا اضافہ کر دےتے ہےں مغرب مےں جہاں مادر پدر آزاد لوگ بستے ہےں وہاں کرسمس ےا کوئی اور تہوار ہو تو چےزوں کی قےمتےں کم کر دی جاتی ہےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی ان خوشےوں مےں شرےک ہو سکےں اس واقعہ کا اپنی تحرےروں مےں کئی بار اعادہ کر چکا ہوں کہ برطانےہ مےں اےک شخص نے اےک شرٹ دس پونڈ مےں خرےد لی کچھ دنوں بعد اس نے دےکھا کہ اس کا دوست بھی اسی کمپنی اسی ماڈل اسی ڈےزائن اور اسی کپڑے کی بنی ہوئی شرٹ پہنے ہوئے ہے اس دوست نے فطری تجسس سے اسے پوچھا کہ ےہ تم نے کتنے مےں اور کہاں سے خرےدی ہے جواب ملا کہ فلاں دکان سے اور پانچ پونڈ مےں ےہ وہی دکان تھی جہاں سے پہلے شخص نے شرٹ خرےدی تھی ےہ شخص بڑا حےران ہوا کہ مجھے تو ےہ شرٹ دس پونڈ کی ملی تھی اس نے متعلقہ دکان سے رابطہ کےا اور اپنی شکاءت رےکارڈ کروائی دکاندار نے اپنا لےجر چےک کےا تو کہا حضور آپ بھی درست کہتے ہےں اور آپ کا ےہ دوست بھی بجا کہتا ہے وجہ ےہ ہے کہ جب آپ نے ےہ شرٹ خرےدی تھی اس وقت بھی اور اب بھی اس کی قےمت دس پونڈ ہے لےکن جب آپ کے دوست نے ےہ شرٹ خرےدی تو کرسمس کی وجہ سے ہماری کمپنی نے اپنی مصنوعات کی قےمتےں کم کر دی تھےں تا کہ کم آمدنی والے لوگ بھی کرسمس کی خوشےاں انجوائے کر سکےں ےہ حالت ان لوگوں کی ہے جہاں اسلام کے پےروکاروں کو دہشت گرد اور انتہا پسند سمجھا جاتا ہے جہاں کی قدرےں جدا ،جہاں کا رہن سہن الگ لےکن وہ لوگ انسانےت کے ناطے خصوصی تہواروں کے مواقع پر دوسرے لوگوں کا خےال رکھتے ہےں ہمارے ہاں حالت ےہ ہے کہ چند روز قبل رمضان المبارک کے بابرکت مہےنے کی آمد آمد کی بابرکت خبروں سے ذہن کے درےچوں مےں اےک روح پرور سماں کا آغاز ہو ہی رہا تھا کہ سبزی پھل گوشت سمےت ہر چےز کو دوگنی قےمت پر کر دےا گےا ذہن حےرت کی اتھاہ گہرائےوں مےں گم ہے اور سوچنے پر مجبور کہ آےا ہم لوگوں کو ا;203; کی رحمتےں اور خوشنودی حاصل کرنے سے کوئی غرض نہےں رہی کےا ہم سب کےلئے دولت ہی سب کچھ بن کر رہ گئی ہے کےا چند پےسوں کے عوض ہم اپنی عاقبت کا سودا کرنے پر تےار ہو گئے ہےں ابھی بجٹ مےں مہنگائی کےلئے عوام چےخ وپکار کر رہے تھے کہ اب رمضان کی آمد آمد کے ساتھ ہی قےمتےں آسمان سے بھی اوپر جا پہنچی ہےں مہنگائی پر قابو پانا جہاں حکومت کا کام ہے وہاں اس کےلئے کاروباری اور تاجر طبقے کو بھی کچھ سوچنا چاہیے ناجائز منافع خوری سے ےہ لوگ جہنم کا اےندھن اکٹھا کر رہے ہےں اس دنےا کے بعد جو ہمےشہ رہنے والی ابدی زندگی ہے کچھ اس کےلئے بھی جمع کرنا چاہیے ۔ کسی بزرگ کا قول ہے کہ ہم مرنے کے بعد اپنے ساتھ اپنا پےسہ اور دولت بھی لے جا سکتے ہےں لےکن وہ دولت جو ہم ا;203; کی راہ مےں خرچ کرتے ہےں ۔ اس سال وفاقی حکومت کی جانب سے 2 ارب روپے کے رمضان پےکج کا اعلان کےا گےا ہے لےکن رمضان پےکج سبسڈی والی اشےاء ےوٹےلٹی سٹور کے ذرےعے فروخت کرنے کے فےصلے سے پورے ملک کے صارفےن استفادہ حاصل نہےں کر سکےں گے ۔ ےہ بھی ہمارے ہاں وطےرہ رہا ہے کہ گزشتہ کئی سال سے ےوٹےلٹی سٹور کے ملازمےن سبسڈی والی اشےاء صارفےن کو فروخت کرنے کے بجائے پچھلے دروازے سے مافےا کے ساتھ ساز باز کر کے کروڑوں روپے کما لےتے ہےں ۔ اگر جائزہ لےں تو ےہ حقےقت منکشف ہوتی ہے کہ ملک کی آبادی 21کروڑ ہے اور ملک بھر مےں ےوٹےلٹی اسٹورز کی تعداد5491ہے ۔ اب ذرا غور کرےں کس طرح ملک کے کروڑوں لوگوں کو سبسڈی سے فائدہ حاصل ہو سکتا ہے کےا ہی بہتر ہوتا کہ حکومت رمضان مےں اوپن مارکےٹ مےں فروخت ہونے والی اشےائے صرف کی قےمتوں مےں سبسڈی کا اعلان کرتی تاکہ عام صارف اپنے ہی محلے کی دکانوں پر کم قےمت مےں اشےاء دستےاب ہوتےں اور صارفےن ےوٹےلٹی اسٹوروں پر لمبی لمبی قطارےں بنانے اور اس مےں حائل مشقت سے بچے رہتے ۔ بہر حال ہمارے فےصلہ سازوں ،تاجروں ،دکانداروں سب کو ہی بحیثےت مسلمان سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہر عمل کےلئے ا;203; تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہےں اور رمضان المبارک کا مہےنہ انہےں ےہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ صحےح فےصلے کرےں لوگوں کے مفاد مےں درست فےصلے کرنا اور ان سے مناسب روےہ رکھنا بھی اےک صدقہ ہے اور ماہ رمضان المبارک مےں اس کا اجر بے حساب ہے ۔ حضرت امام حسےن علےہ السلام کا فرمان ہے کہ لوگوں کی ضرورتوں کا تم سے وابستہ ہونا ا;203; کی تم پر خاص عنایت ہے ۔ ےہ انسانی بس مےں ہے کہ اس ماہ مقدس مےں خود اختسابی پر عمل کرتے ہوئے خواہشات ناجائز کی غلامی سے ہمےشہ کےلئے پےچھا چھڑائےں ،ےہی انسانےت کا، ےہی دےن کا اور ےہی اسلام کا سبق ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative