Home » کالم » متنازعہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ

متنازعہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ

بیس بائیس کروڑپاکستانیوں کو پانی کی بوند بوند سے ترسادینے کی دھمکیاں دینے والامودی بھارت میں بیٹھا ہواپاکستان دشمنی کی اپنی مذموم پالیسیاں اور چالیں چل رہا ہے اْسے تو ہم بعد میں پوچھ لیں گے دیکھ لیں گے، لیکن ہم اپنی آستینوں میں چھپے ہوئے اْن زہریلے سانپوں سے پہلے نمٹ لیں جو پاکستان میں رہتے بستے ہیں یہاں کاروبار بھی کرتے ہیں اْس پر طرہّ یہ کہ وہ یہاں کی صوبائی اور قومی سطح کی سیاست میں بھی حصہ لیتے رہیں کسی کا بھائی بلوچستان میں گورنر ہے دیگررشتہ دار بلوچستان کی صوبائی کابینہ میں وزیر رہے ہیں پوچھنا قوم یہ چاہتی ہے قیامِ پاکستان سے اب تک خیبرپختونخواہ صوبے کے کچھ ایسے سیاست دان بھی آجکل مودی جیسی ہی زہریلی بولیاں کیوں بول رہے ہیں جو پاکستان میں میگا ڈیم بنانے والوں کونشانِ عبرت بنانے کی دھمکیاں دیں پاکستانی قوم سنے ‘قیامِ پاکستان سے ا ب تک ذراکوئی بتائے توسہی ہمیں گزرے حکمرانوں نے (چاہے وہ فوجی عہد کے حکمران ہوں یا جمہوری دورکے) دوبڑے ڈیمز کے علاوہ کوئی اورنیاڈیم پاکستان کے کسی حصہ میں کیوں نہیں بنایا گیا مودی بھی ہمیں پانی کی بوند بوند کے لئے تراسے گا اور ہمارے ناعاقبت اندیش غیروں کے آلہِ کار ملکی مقتدر عہدوں پر فائز ہونے والے سیاست دان بھی پاکستان کی قومی زندگی کا دانہ پانی بند کرنے جیسی غیرانسانی پالیسیاں اختیار کریں اور ہمیں آنکھیں دکھائیں واہ بھئی واہ یہ خوب رہی؟جدید سانئس نے پانی اور توانائی کو ایک دوسرے سے مشروط کرکے دنیا بھر میں انسانوں کی فلاح کے کیسے کیسے محیرالعقل ترقی یافتہ میگا منصوبہ کھڑے کردئیے ہم ہاتھوں پر ہاتھ دھرے تماشائی بنے بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں ہم حکمرانی کا حق تفویض کریں اقتدارمیں آنے کے بعدوہ ہی حکمران پاکستانی قوم سے اْن کی زندگیوں کے بنیادی حقوق سے اْنہیں محروم کردینے کی سازشوں میں شریک ہو جائیں کیا ایسا ممکن ہے جی ہاں!پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے یہی عجب انسانیت کش تماشا جاری ہے دریاقوموں کی ثقافتی تہذیب کے ہمیشہ امین کہلائے کسی قوم نے کبھی اپنے دریاؤں کا سودا نہیں کیا اگر کہیں بین الااقوامی اصولوں کے تقاضوں کومدِ نظررکھ کسی غیرممالک کے سرحدوں سے بہہ کرقدرتی بہاؤ کی جانب آنے والے دریاؤں کے پانی کے تقسیم کا کوئی معاملہ درپیش آیا بھی تواْوپر سے آنے والے دریاؤں کے زیریں حصے کے حق کوزیادہ تسلیم کیا گیا لیکن افسوس صدہا افسوس! ہمارے ماضی کے حکمرانوں نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم میں متذکرہ بالاآبی قوانین کے عالمی اصول و قواعدآبی پرپاکستانی مفادات کے پیشِ نظرجتنے گہرے وعمیق تحفظات رکھنے تھے نہیں رکھے گئے جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے’ کہتے ہیں دوسری جنگِ عظیم میں اتحادی افواج کوفتحیاب کرانے میں واشنگٹن اسٹیٹ میں جولائی 1933 سے تعمیرہونے والے’گرینڈکولی ڈیم’کا کلیدی رول تھا ریٹائرڈ کرنل عبدالرزاق بگتی نے اپنی کتاب’پاکستان کے آبی وسائل’میں لکھا ہے’4 اکتوبر1941 میں دوسری عالمی جنگ میں امریکا کی شمولیت سے دوماہ قبل ‘گرینڈلی کولی ڈیم’مکمل ہوگیا تھا ڈیم کی پن بجلی گھر کی پیداکردہ بجلی کواستعمال کرکے ایٹمی پروگرام کو ترقی دی اور امریکا ایٹمی قوت ملک بن گیا گرینڈلی کولی ڈیم نے ابتداء ہی میں 8609 میگاواٹ بجلی پیداکرنا شروع کردی تھی امریکا کی معیشت میں امریکی زراعت میں گرینڈلی کولی ڈیم نے تاریخ ساز کرداراداکیا ہے ذراہم اپنے پڑوسی ممالک پرہی ایک نگاہ ڈال لیں بھارت نے اپنے قیام کے بعد سے اب تک 400سے زائد ڈیم بنائے ہیں20 سے زیادہ طویل القامت بڑے ڈیم بنائے ہیں بھارت چونکہ ہمارا ازلی بدترین دشمن پڑوسی ملک ہے جوپاکستان کوہمہ وقت پریشان و ہراساں کئے رکھنے کی دشمنی کی اپنی پالیسی کو چھوڑنانہیں چاہتا،لہٰذانئی دہلی سرکارنے مقبوضہ کشمیر کے اہم مسئلہ کو پسِ پشت ڈالنے کیلئے پاکستان کے ساتھ مختلف نوعیت کے گنجلک پیچیدہ سرحدی تنازعات اور آبی مسائل کھڑے کرد ئیے ہیں مسئلہِ کشمیر پر مذاکرات تو نئی دہلی نے کرنے نہیں انڈس واٹرٹریٹی کی کھلی خلاف ورزی کا بھارت اورمرتکب ہوگیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے نکل کر پاکستان میں داخل ہونے والے دیگر دریاؤں کے علاوہ دریائےِ نیلم کے پانی کے تیز بہاؤکو بھی روک کرایک ایسی نہر نکال لی ہے جس پربھارت نے کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کا متنازعہ پراجیکٹ شروع کیا ہوا ہے بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارت کا یہ متنازعہ منصوبہ پایہِ تکمیل کو پہنچ چکا ہے یہاں کوئی یہ نہ بھلائے کہ مقبوضہ کشمیر کا دوطرفہ علاقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے رْو سے تاحال ’اسٹیٹس کو‘ کی حالت میں ہے رواں برس18 فروری کومقبوضہ کشمیر کے’اسٹیٹس کو’کی حیثیت کومزید دیدہ دلیری سے مجروح کرنے کی نیت سے عالمی ثالثی عدالت میں کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ کے تنازعہ پراْٹھائے پاکستان کے اعتراض پرکوئی موثرجواب داخل نہیں کرایاعالمی ثالثی کورٹ میں اپنے فرسودہ بہانوں کی حیلہ سازیوں کاسہارا لیااور یہ جواز گھڑا کہ اْسے کشمیرمیں انسانی استعمال کیلئے توانائی کی ضرورت ہے، عالمی ثالثی عدالت کا پاکستان نے احترام کیا اِس کی اتھارٹی کو تسلیم کیا ہے، عالمی عدالت کی غیر جانبدارمعائنہ ٹیم کے معزز اراکین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے وہ معلوم کرئے کہ کشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ سے پیدا کی جانے والی 330 میگاواٹ بجلی کی کھپت کیا کشمیر کی حدود میں ہی استعمال ہورہی ہے یا مقبوضہ کشمیر کی حدود سے باہر کشمیر کے قیمتی پانی سے بنائی جانے والی بجلی کا استعمال تو نہیں کیا جارہا ؟مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا قبضہ بھی ناجائز ہے ،مقبوضہ کشمیر کے وسائل کو بھارت اپنے فائدوں اور اندرونی مفادات کیلئے بھی استعمال نہیں کرسکتاکشن گنگا ہائیڈروالیکٹرک پراجیکٹ ایک متنازعہ منصوبہ ہے جو دریائے نیلم میں اُوپر سے نیچے آنے والے علاقوں کیلئے پانی کا واحد ذریعہ ہے ،نئی دہلی کو حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اِس انسانی مسئلہ پر پاکستان کے آبی مسائل کی آڑ میں اپنی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم چلائے’را‘ نے بیرونِ ملک بھی پاکستانیوں کو پانی جیسی انسانی ضروریات سے تہی دست کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے اپنے آلہِ کار کھلے چھوڑے ہوئے ہیں اور ’را‘خود بھی عالمی ثالثی عدالت کے روبرو تسلیم شدہ فیصلوں کے کھلی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہورہا ہے یہاں پاکستانی جمہوری سیاست دان اپنے ہی ملک کے عوام کو ’ڈیم‘ جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے کی مذموم سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

 

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative