Home » انٹر ٹینمنٹ » محبوبہ کے لیے سائیکل پریورپ جانے والا بھارتی مشہور
764245-cyclemain-1489432436-628-640x480

محبوبہ کے لیے سائیکل پریورپ جانے والا بھارتی مشہور

نئی دھلی:بھارت کے مہانندیا نامی ایک عاشق نے 22 جنوری 1977 کو سائیکل پر دہلی سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور چار سال بعد وہ اپنی محبوبہ کے پاس سویڈن جا پہنچا۔

اب 40 سال بعد ان کی زندگی پر شائع ہونے والے ناول نے ان کی محبت کو دوبارہ زندہ کردیا ہے اور یہ ناول بہت مقبول ہورہا ہے جسے سویڈن کےایک مشہور مصنف پر جے اینڈرسن نےتحریر کیا ہے۔

اس طوفانی پریم کہانی کا آغاز 1975 میں ہوا جب مہانندیا دہلی کے ایک ہوٹل میں سیاحوں کے پنسل اسکیچ بناتے تھے۔ ایک روز ان کی ملاقات سویڈن کی سیاح شارلوٹ وان شیوڈن سے ہوئی۔ وہ دس روپے کے بدلے دس منٹ میں تصویر بنانے والا دعویٰ پڑھ کرمہانندیا کے پاس آئیں اور اپنی تصویربنانے کو کہا ہے لیکن پہلی نظرمیں ہی غریب مصور کا دل گویا ڈوب گیا اور اسکیچ بناتے ہوئے ان کا ہاتھ کپکپاتا رہا اور تصویر خراب بنی۔ خاتون اگلے روز دوبارہ تصویر بنانے پہنچیں لیکن اس بار بھی نتیجہ وہی نکلا۔

اس کے بعد شارلوٹ اس معاملے کو سمجھ گئیں۔ مہانندیا کا تعلق دلت ذات سے تھا جسے بھارت میں لوگ اچھوت سمجھتے ہیں لیکن جوں ہی شارلوٹ سے ان کی آنکھیں ملیں انہیں اپنی والدہ کی پیش گوئی یاد آگئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بہت دور سے ایک خوبصورت لڑکی ان سے ملنے آئے گی، جس کا پیدائشی برج ثور ہوگا۔ وہ موسیقی سے محبت کرے گی اور ایک جنگل کی مالکن ہوگی۔ گوری کو دیکھتے ہی مہانندیا کو خیال آیا کہ ان کی ماں کی بات پوری ہوچکی ہے اور وہی اس کی دلہن بنے گی۔

جب مہانندیا نے شارلوٹ  سے ساری باتیں پوچھیں تو انہوں نے ان کی تصدیق کردی۔ اس کے بعد دونوں قریب آتے گئے اور ان دونوں کی شادی ہوگئی۔ تاہم بعض وجوہ کی بنا پر وہ اپنے شوہر کو ساتھ نہ لے جاسکی اور جہاز کے ٹکٹ کی رقم دے کر سویڈن کے شہر بورس میں اپنا پتا لکھوایا لیکن اس نے رقم لینے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد وہ سویڈن چلی گئیں۔ لاکھ کوشش کے باوجود بھی مہانندیا کے پاس کرائے کی رقم جمع نہ ہوسکی۔ اس نے 60 روپے کی ایک سائیکل خریدی اوراس وقت ہپیوں کی طرز پر ایک ملک سے دوسرے ملک تک ہوکر سویڈن پہنچنے کا ارادہ کرلیا۔

22 جنوری 1977 کو وہ دہلی سے نکلے پھر پاکستان، افغانستان، ایران اور ترکی سے ہوتے ہوئے یورپ میں داخل ہوئے۔ راستے میں ان کا فنِ مصوری کام آیا اور وہ لوگوں کے اسکیچ بنا کر رقم کماتے رہے اور آگے بڑھتے رہے۔ اس سفر میں وہ بیمار بھی ہوئے اور زخمی بھی لیکن ہمت نہ ہاری اور آگے بڑھتے رہے۔ چار سال بعد 28 مئی 1981 کو وہ یورپ پہنچے اور وینس سے ٹرین لے کر سویڈن پہنچے۔

تمام سماجی اور ثقافتی فرق کے باوجود شارلوٹ کے والدین نے مہانندیا کو قبول کرلیا اور اب یہ جوڑا خوش وخرم زندگی گزاررہا ہے۔ اس عجیب داستانِ محبت پر ایک ناول تحریر کیا گیا ہے جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہورہا ہے۔ مہانندیا کے مطابق وہ شارلوٹ سے آج بھی اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی انہیں پہلی نظر میں ہوئی تھی۔

Skip to toolbar
Google Analytics Alternative