2

مسئلہ کشمیر پر بھرپور سفارتی جنگ کی ضرورت

بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کی قرار داد پیش کی جو ہاوَس نے 351 ووٹوں سے منظور کرلی ۔ اس قرار داد کی مخالفت میں صرف 72 ووٹ آئے ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد امیت شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 2 حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ ) میں تقسیم کا بل پیش کیا جو لوک سبھا نے 370 ووٹوں سے منظور کرلیا ۔ بل کی مخالفت میں 70 ووٹ آئے ۔ اس قرار داد اور بل کی منظوری راجیہ سبھا پہلے ہی دے چکی ہے ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوگا جس میں پاکستان ،سعودی عرب، آذربائیجان ، ترکی سمیت دیگر ممبر ممالک شرکت کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بھی لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان اوربھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں ۔ چین کا کہنا ہے کہ اسے جموں و کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔ کشمیر کے مسئلے پر چین کی پوزیشن واضح اور دوٹوک ہے ۔ اس پر عالمی اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ کشمیر پاکستان اور چین کے مابین متنازعہ علاقہ ہے ۔ دونوں ملکوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے ۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ اب بھارت کشمیر میں کشمیریوں کی تعداد کم کر کے دیگر لوگوں کو بسائے گا تاکہ کشمیری اقلیت میں آ جائیں اور غلامی میں دب جائیں ۔ مجھے ان میں تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں ہوتا ہے ۔ اگر پلوامہ جیسا کچھ ہوا تو یہ ردعمل دیں گے اور پھر ہم جواب دیں گے کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کے اندر حملہ کریں اور ہم جواب نہ دیں ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر بات رواءتی جنگ کی جانب چلی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی تویہ بات تو طے ہے کہ ایمان والا انسان موت سے نہیں ڈرتا ۔ اس کو صرف اپنے رب العالمین کو خوش کرنے کا لالچ ہوتا ہے اور وہ خوف میں فیصلے نہیں کرتا ۔ ہ میں انسانوں کی فکر ہے کیونکہ ہمارا دین انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے کیونکہ اب اگر دنیا نے کچھ نہیں کیا تو پھر معاملہ آگے بڑھ جائے گا ۔ پلوامہ کے واقعہ پر بھی بھارت کو ہرطرح سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن ہ میں تب بھی احساس ہو گیا کہ ان کے ہاں الیکشن ہیں اس لئے وہ پاکستان کو سکیٹ بورڈ بنا کر ناصرف کشمیری عوام پر کئے جانے والے ظلم و ستم سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے بلکہ الیکشن جیتنے کیلئے وار ہسٹیریا بھی پیدا کر رہا ہے ۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد ڈوزئیر بعد میں بھیجا اور جہاز پہلے بھیج دئیے لیکن الحمد اللہ پاکستان نے زبردست جواب دیا ۔ ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں الیکشن ہو جائیں پھر بات چیت شروع کریں گے ۔ الیکشن ہو گئے پھر کوشش کی مگر انہوں نے ہماری امن کی کوشش کو کمزوری سمجھا ۔ اب بھارت نے کشمیر کیساتھ جو کچھ کیا ہے یہ ایک دن کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے جو آر ایس ایس نے پیش کیا تھا ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالیں گے اور ہندوستان صرف ہندووَں کا ہو گا ۔ کشمیر پر جو حملہ کیا وہ بھارت نے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف ہے ۔ شملہ معاہدے کے خلاف ہے اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ یہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آرمی کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کا آخری حد تک ساتھ دیں گے ۔ پاکستان مقبوضہ کشمیرپربھارتی تسلط کبھی تسلیم نہیں کرےگا ۔ پاکستان نے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 یا 35 اے کو قبول نہیں کیا ۔ اب بھارت نے خوداس کھوکھلے بہانے کوختم کردیا ۔ پاک افواج کشمیری عوام کےساتھ ہیں ۔ ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیارہیں ۔ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس کے باعث حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو ۔ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنائیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں