Home » تازہ ترین » مسلم لیگ (ن) پر الزامات، عائشہ گلالئی کو نوٹس جاری

مسلم لیگ (ن) پر الزامات، عائشہ گلالئی کو نوٹس جاری

پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے نائب صدر مشتاق ڈار نے عائشہ گلالئی کو الزامات لگانے کی وجہ سے قانونی نوٹس بھجوا دیا.

ذرائع کے مطابق رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی کو مسلم لیگ (ن) کے رہنماء مشتاق ڈار کی جانب سے بھیجا گیا موصول بھی ہوچکا ہے۔

مشتاق ڈار کے وکیل کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں بتایا گیا کہ عائشہ گلالئی نے مسلم لیگ (ن) پر فوج کے خلاف اکسانے کے بیان دینے اور اپنے والد کوبدلے میں سینیٹ کا ٹکٹ دینے کا الزام عائد کیا تھا۔

نوٹس میں مزید کہا گیا کہ عائشہ گلالئی 10 یوم میں ان الزامات کی وضاحت دیں یا 10 کروڑ روپے ہرجانہ ادا کریں بصورت دیگر انکے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

نوٹس میں عائشہ گلالئی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ ’آپکی غلط بیانی سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے‘۔

مشتاق ڈار کا کہنا تھا کہ عائشہ گلالئی نے بغیر کسی ثبوت کے، خلاف آئین دو اداروں کے ٹکراؤ کا بیان جاری کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عائشہ گلالئی اپنے بیان کی وضاحت دیں کہ کس نے انہیں فوج کے خلاف بات کرنے کو کہا۔

خیال رہے کہ 16 فروری کو عائشہ گلالئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انہیں اور ان کے والد کو فوج کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی شرط پر سینیٹ انتخابات کے لیے ٹکٹ دینے کی پیشکش کی گئی تھی۔

بعد ازاں 23 فروری کو ایک اور پریس کانفرنس کے دوران عائشہ گلالئی نے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ جماعتوں نے سینیٹ انتخابات میں سرمایہ داروں کو ٹکٹ دیئے ہیں۔

انہوں نے اپنی سابقہ جماعت پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف میں کرپٹ لوگ آرہے ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ اور سابق وزیر اعظم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نواز شریف شیخ مجیب الرحمان بن رہے ہیں‘۔

یاد رہے کہ یکم اگست 2017 کو عائشہ گلالئی نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین عمران خان پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

عائشہ گلالئی کا کہنا تھا، ’میں پہلے پیپلز پارٹی کا حصہ تھی جہاں خواتین کی عزت کی جاتی ہے، لیکن تحریک انصاف میں کچھ اور ہی ماحول دیکھا، پی ٹی آئی کے ماحول سے بہت سی خواتین پریشان ہیں جبکہ تحریک انصاف میں عزت دار خواتین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے پارٹی چیئرمین سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’عمران خان پر مغربی ماحول کا اثر ہے، وہ شاید پاکستان کو انگلینڈ سمجھتے ہیں اور پاکستان میں مغربی ثقافت لانا چاہتے ہیں، ان کا اپنی عادتوں پر کنٹرول نہیں اور وہ غلط ٹیکسٹ میسجز کرتے ہیں۔‘

عائشہ گلالئی نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر بھی الزامات لگاتے ہوئے انہیں صوبے کا ڈان قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ عائشہ گلالئی وزیر نے جنوبی وزیرستان میں انسانی حقوق کی کارکن کی حیثیت سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیا۔

انہوں نے 2012 میں پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کیا اور 2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر وفاق کے زیر انتظام علاقے (فاٹا) سے خواتین کی خصوصی نشست سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

اس سے قبل عائشہ گلالئی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative