Home » کالم » مشترکہ قومی سوچ و حمایت سے درپیش چیلنجز پرقابو پایا جاسکتا ہے
adaria

مشترکہ قومی سوچ و حمایت سے درپیش چیلنجز پرقابو پایا جاسکتا ہے

adaria

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کاآئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ انتہائی دوررس نتائج کا حامل قرارپایا، وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی ہے، حکومت اور عوام مسلح افواج کے ساتھ ہی، آئی ایس آئی ہماری پہلی دفاعی لائن ہے، وزیراعظم نے سیکورٹی اور خاص طورپر انسداد دہشت گردی کیلئے جاری کوششوں کو سراہا۔ وزیراعظم کو قومی سیکورٹی کے امور اور سٹرٹیجک انٹیلی جنس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیرِاعظم عمران خان جب انٹر سروسز انٹیلی جنس ہیڈ کوارٹرز پہنچے تو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی نوید مختار نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر وزیرِاعظم عمران خان نے یادگارِ شہدا ء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔وزیراعظم کو سٹریٹجک انٹیلی جنس اورنیشنل سیکیورٹی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہاکہ حکومت اور عوام مسلح افواج اور خفیہ ایجنسیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔اس سے قبل گزشتہ ماہ 30 اگست کو وزیرِاعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کے ہمراہ جی ایچ کیو کا بھی دورہ کیا تھا۔یہ عمران خان کا وزارتِ عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ جی ایچ کیو کا دورہ تھا جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر وزیرِاعظم عمران کو جی ایچ کیو میں اندرونی و بیرونی سیکیورٹی کی صورتحال، پاک فوج کی دہشتگردی کیخلاف جاری کارروائیاں، آپریشن ردالفساد، کراچی کی صورتحال اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی ۔وزیرِاعظم عمران خان نے پاکستانی فوج کی آپریشنل تیاریوں، پیشہ وارنہ مہارت اور دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، مشترکہ قومی سوچ اور قوم کی حمایت سے ہم ان چیلنجز پر کامیابی سے قابو پا لیں گے۔وزیرِاعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ ترقی پاکستان کا مقدر ہے، ملک بین الاقوامی دنیا میں انشا اللہ مثبت انداز سے ابھرے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان آرمی کی صلاحیتوں اور استعداد کار بڑھانے کے لیے حکومت تمام ذرائع فراہم کرے گی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیرِاعظم عمران خان کے دورے اور فوج پر اعتماد پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انشا اللہ پاک فوج قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا آئی ایس آئی دنیا کی بہترین خفیہ ایجنسی ہے، پاک فوج کی قربانیاں نہ صرف لائق ستائش ہیں بلکہ دنیا کیلئے قابل تقلید بھی،دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ میں مسلح افواج کا کردار داد بیداد ہے اور دنیا پاک فوج کی قربانیوں کا اعتراف کررہی ہے، دہشت گردی کا ناسور ختم کرنے کیلئے پاک فوج کا کردار تاریخ کے سنہری حروف میں رقم ہوگا، وزیراعظم نے درست فرمایا آئی ایس آئی ہماری پہلی دفاعی لائن ہے،دفاعی لائن جتنی مضبوط ہوگی اتنا ہی دفاع مضبوط ہوگا یہ امر انتہائی قابل تعریف ہے کہ ہماری سیاسی و عسکری قیادت ایک پیج پر ہیں اور عوام ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ماضی میں سیاسی و عسکری قیادت میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن یہ سازشیں کامیاب نہ ہو پائیں،پاک فوج ملک و قوم کے دفاع کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔پاک فوج کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ وہ ایک طرف سرحدوں پر کڑی نظررکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کیخلاف برسرپیکار ہے۔ بیرونی سازشوں پر بھی اس کی نظر ہے۔ پاک فوج کا یہ بھی منفرد اعزاز ہے کہ اس نے ہر مشکل گھڑی میں وطن کیلئے اپنی خدمات پیش کیں اور ملک میں امن قائم کرنے کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کارلایا، پاک فوج کا کردار قابل تقلید ہے، وزیراعظم کا دورہ آئی ایس آئی انتہائی مفید قرار پایا، سیاسی و عسکری قیادت کا ایک پیج پر ہونا اس امر کا عکاس ہے کہ ہماری سیاسی قیادت خ عسکری قیادت ملکی امور کیلئے ایک پلیٹ فارم ہیں اور ان میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اداروں کو مستحکم کرنے کیلئے اقدام کرے اور اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی گفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر ایس کے نیازی نے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم سیاسی مصلحت کا شکار ہوا تاہم بھاشا اور دیامیر ڈیمز پر سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں اس لیے یہ ڈیمز ضرور بنیں گے،اگر کالاباغ ڈیم بھی شروع کر دیں تو کوئی فرق نہیں پڑیگا۔چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ایس کے نیازی نے اپنی گفتگو کے دوران مزید کہا کہ پانی کا مسئلہ بہت سنگین ہو چکا ہے ہمیں سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہو گا ۔پانی کے معاملے پر سیاست کرنا درست نہیں کیونکہ کالا باغ ڈیم پر بھی سیاست کی گئی یہ وجہ ہے کہ کالا باغ ڈیم سیاسی مصلحت کا شکار ہو گیا اور اس کی تعمیر رک گئی حالانکہ کالا باغ ڈیم بھی شرو ع کر دیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑیگا،اپنی گفتگو میں ایس کے نیازی نے مزید کہا کہ سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں ،ڈیم بنیں گے ،کالا باغ ڈیم سیاسی مصلحت کے باعث رکا ہوا ہے ،بھا شا اور دیامر ڈیم بنیں گے ۔دوسری جانب ماہر آبی امور ارشد ایچ عباسی نے روز نیوز کے پروگرام’’سچی بات‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پانی پاکستان کی کامیابی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے ،لوگوں کو اعتماد میں لینے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ،پہلی مرتبہ قوم ایک پیج پر اکٹھی ہوئی ہے ،ڈیم بنیں گے تو لوگوں کو روزگار ملے گا ،ڈیم کی مانیٹرنگ کیلئے میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں ،پہلی مرتبہ ساری قوم اکٹھی ہورہی ہے ،ڈیمز قوم نے پیسے دیکر بنائے ہیں ،بیروزگاری بڑھ گئی ہے ،انجینئرز کو نوکری نہیں مل رہی۔ ایس کے نیازی نے بجا فرمایا ہے پانی بقائے حیات کیلئے انتہائی ناگزیر ہے، ڈیموں کی تعمیر سے خوشحالی آئے گی اور بنجر زمینیں سیراب ہونگی اور ملک ترقی کرے گا۔ ڈیموں کی تعمیر سے درپیش مسائل کا ادراک ہوگا۔
نظرثانی شدہ بجٹ عوام کی امنگوں کا عکاس ہونا چاہیے
تحریک انصاف کی حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے پیش کردہ وفاقی بجٹ پر نظرثانی کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال2018-19بل میں بڑی ترمیم کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گزشتہ دورے حکومت میں ٹیکس استثنیٰ کے معاملے میں بھی ترمیم لائے جائے گی، بجلی مہنگی ہوگی، نئی ٹیکسوں کی تیاری، ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کی کمی اور 1 فیصد کی شرح سے تمام اشیا پر درآمدی ڈیوٹی عائد کرنے کا امکان سامنے آیا ہے ، فنانس ایکٹ میں ترامیم قومی اسمبلی اجلاس میں منظور کرائی جائیں گی جس کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے ،جس کے ذریعے 800 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل کیا جائیگا۔حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کمی کا ارادہ رکھتی ہے اور 400 ارب روپے سے زائد کے ٹیکسز بھی لگائے جاسکتے ہیں ، خاص طور پرانکم ٹیکس پر 12لاکھ سالانہ کے استثنا کو کم کر 8 لاکھ کرنے کی تجویر پر بھی غور کیا جائیگا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے تاکہ عوام کی نئی حکومت سے جو توقعات ہیں وہ پوری ہوں جو امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں جو حوصلہ افزاء نہیں ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ نظرثانی بجٹ کو عوام کی امنگوں کے مطابق ڈھالے تاکہ عوام پر کسی قسم کا مزید مالی بوجھ نہ پڑے۔

About Admin

Google Analytics Alternative