Home » کالم » مشکل حالات میں حکومت کاتعمیری بجٹ، ایک سنگ میل
adaria

مشکل حالات میں حکومت کاتعمیری بجٹ، ایک سنگ میل

وفاقی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے اس میں بیشتر کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوئی ہیں جن میں چینی، گھی ، تیل، گوشت، سگریٹ، مشروبات، منرل واٹر، جوسز ،خشک دودھ، مچھلی، پنیر کے ساتھ ساتھ زیورات، میک اپ، پرفیوم، کاریں بھی مہنگی کردی گئی ہیں جبکہ لگژری اشیاء ، کھیلوں کے سامان ، ٹیکسٹائل اورچمڑے کی مصنوعات مہنگی کرنے کی تجویز دی گئی ہیں ۔ بیکری مصنوعات، فرنیچر، اینٹیں ، ٹائل ، آٹو پارٹس، سونل پینل ، ایل ای ڈی پینل اور انٹرنیٹ سستا کردیا گیا ہے ۔ 1600 صنعتی و تجارتی خام مال اشیاء ٹیکسٹائل مشینری ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گے ۔ سیمنٹ کی بوری 25 روپے چینی فی کلو3روپے 65 پیسے فی کلو مہنگی ہوگی ۔ ٹوکن ٹیکس میں اضافہ ، وکلاء ، ڈاکٹر ، میڈیکل اور جنرل سٹورز مختلف ڈیلرز پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ چمڑا، کلین ، روئی ، سنگ مرمر، تیار کپڑے مہنگے کیے گئے ہیں ۔ مجموعی طورپر دیکھا جائے تو بجٹ کے بعد ایک مہنگائی کے سیلاب کی آمد آمد ہے ، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ماہانہ پچاس ہزار سے زائد تنخواہ دار پر ٹیکس عائد کردیا ہے ، نان فائلرز کو گاڑی اور پچاس لاکھ تک کی جائیداد کی خریدوفروخت کی اجازت ہوگی ، گھریلو ، کمرشل اور صنعتی صارفین کیلئے گیس مہنگی کردی گئی ہے ۔ وزیراعظم آفس ، ایوان صدر کے بجٹ میں اضافہ جبکہ صوابدیدی فنڈز ختم کردئیے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 21 اور 22گریڈ کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ۔ تاریخ میں پہلی دفعہ وفاقی کابینہ ، صدر، وزیراعظم کی تنخواہوں میں دس فیصد کٹوتی کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ پاک فوج نے پہلے ہی افسران کی مد میں اضافی تنخواہیں لینے سے انکار کردیا تھا ۔ ملک کی معاشی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام انتہائی مستحسن ہیں ۔ جہاں تک ٹیکس نیٹ بڑھانے کا تعلق ہے تو ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرے لیکن ریاست کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ جو ٹیکس ادا کیا جاتا ہے اس کا صحیح انداز میں استعمال ہو اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچنے چاہئیں ۔ جیسا کہ بیرونی دنیا میں ہوتا ہے ۔ المیہ ہمارا یہ ہے کہ یہاں پر حکومت ٹیکس تو لے لے گی لیکن شاید اس کے مثبت اثرات نچلی سطح تک نہ پہنچ سکیں اور وہ اوپر ہی اوپر رہ کر زائل ہو جائیں ۔ اب اس بات کو وزیراعظم نے یقینی بنانا ہے ۔ گو کہ وہ اس حوالے سے کہہ چکے ہیں ، عوام جو ٹیکس دے گی اس کا صحیح معنوں میں ملک کی تعمیر و ترقی میں استعمال کیا جائے گا ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اس ٹیکس کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوگا مگر اس کے مد مقابل ملازمین کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں پہنچا ہے ۔ 10سے 15 فیصد تنخواہوں میں اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے کیونکہ ڈالر کی پرواز لگا تار جاری ہے اور وہ اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پرواز کررہا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کو کنٹرول کرنے کا بندوبست کرے ، اگر اس جانب توجہ نہ دی گئی تو یہ ڈالر 200سے 250 تک چلا جائے گا اور اس کے بعد مہنگائی کہاں تک پہنچے گی وہ ناقابل بیان ہے ۔ گو کہ پاکستان تحریک انصاف کا یہ پہلا بجٹ تھا اس پر اپوزیشن تو بے انتہا تنقید کررہی ہے ان کی تنقید کسی حد تک بجا بھی ہے لیکن اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بجٹ اتنا برا بھی نہیں ہے ، جہاں پر برائیاں ہیں وہاں پر اس میں کچھ اچھائیاں بھی ہیں ۔ عوام کو بتایا گیا ہے کہ وہ ریاست کیلئے کس طرح ممدومعاون ثابت ہوسکتی ہیں اس کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور تمام تر وہی سطور وزیراعظم نے فراہم کی ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان زاویوں پر کہاں تک کام کرکے کامیاب ہو پاتی ہے ۔ ٹیکس نیٹ کے سلسلے میں حکومت کو بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے اور اس میں تمام چور دروازے بند کرنے ہوں گے ۔ جیسا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے دہشت گرد اور اس کے سہولت کاروں کا خاتمہ ضروری ہے اسی طرح ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے اس میں بھی ٹیکس کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہوگا جو کہ مختلف چکر دے کر ٹیکس کی فائلوں کا پیٹ بھرنے کے بعد ٹیکس کے ادارے کو بھی چکر دے دیتے ہیں ۔ حکومت کو یہ جانچ پڑتال کرنا ہوگی کہ آیا جو گوشوارے یا تفصیلات دی گئی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ۔ کیا جس جائیداد کا ذکر کیا گیا ہے اس سے بھی زیادہ جائیدا ہے یا نہیں ۔ اگر کاغذات میں دی ہوئی تفصیلات درست ثابت نہ ہوں اور فالتو جائیداد یا دیگر اشیاء برآمد ہو جائیں تو ان پر100فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہیے اور اگر دوسری مرتبہ بھی ایسی حرکت کرتے ہوئے کوئی پایا جائے تو اس کی جائیداد کو بحق سرکار ضبط کرلینا چاہیے جیسا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم کی 30تاریخ گزرنے کے بعد بے نامی اکاءونٹس اور جائیدادیں حکومت ضبط کرلے گی ۔ باتیں تو ساری سنہرے اقوال کی طرح ہیں لیکن ان پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ اگر یہ ساری چیزیں محض نشستاً برخاستاً تک محدود رہی تو پھر اس کے کوئی نتاءج نہیں نکلیں گے ۔ نتاءج حاصل کرنے کیلئے اس کا آغاز اوپر سے کرنا ہوگا پھر عوام بھی تیار ہوگی ۔

وزیراعظم کا اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا تاریخی اعلان

وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے، یہ کمیشن ایس ای سی پی، ایف آئی اے، ایف بی آر، آئی ایس آئی اور آئی بی کے ارکان پر مشتمل ہوگا جوکہ گزشتہ دس سال میں لئے گئے قرضوں اور ملک میں کی گئی لوٹ مار کے حوالے سے تحقیقات کرے گا ۔ وزیراعظم نے قوم کو بتایا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے 8سال کے دوران2ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ بڑھا جبکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ادوار میں قرضے کی ریشو24ہزار ارب روپے رہی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ آخر کار اتنا زیادہ قرضہ کیوں بڑھا اور یہ پیسہ کہاں گیا ۔ عمران خان نے واضح کیا کہ اب بجٹ پیش کرنے کے بعد میں ان لوگوں کے پیچھے ہوں اور ان سے پیسہ نکلواءوں گا ۔ پاکستانیوں کے 10ارب ڈالر بیرون ملک پڑے ہوئے ہیں ۔ عمران خان کی یہ بات بالکل درست ہے لیکن ہم اس میں تھوڑا سا یہ اضافہ کرنا چاہیں گے کہ صرف گزشتہ دس سال کا احتساب کیوں اس عرصے کو بڑھانا چاہیے تاکہ گزشتہ حکمرانوں کے حوالے سے بھی پتہ چلے کہ ملک کو کس طرح دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا ۔ خزانے خالی رہے اور حکمران عیاشیاں کرتے رہے ۔ یہ اعلیٰ اختیاراتی کمیشن مکمل اختیارات کے ساتھ ہونا چاہیے اور اس کی تحقیقات صرف اپوزیشن یا گزشتہ دس سال تک نہیں بلکہ موجودہ حالات میں بھی تحقیقات کا اختیار ہونا چاہیے کہ اس وقت کون خزانے کو کتنا لوٹ رہا ہے، اسے کتنی سہولیات ملنی چاہیے تھیں اور اس نے کتنی سہولیات حاصل کی ہیں ۔ یہ مثال قائم کرنا ہوگی ۔ گو کہ نواز شریف اور زرداری کے بعد حمزہ شہباز کو بھی دھر لیا گیا ہے اور ان سے نیب تحقیقات کررہا ہے ابھی تو یہ آغاز اس کے بعد بھی بہت اہم گرفتاریاں تیاری کے مراحل میں ہیں ۔ مقصد محض گرفتاری نہیں ہونا چاہیے دیکھنا یہ ہے کہ ان شخصیات سے لوٹی ہوئی دولت کب تک برآمد کی جاسکتی ہے اصل مقصد اور منزل یہی ہے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ جن کو انہوں نے ووٹ دئیے انہوں نے ملک اور عوامی خزانے کو کس طرح لوٹا ،وزیراعظم اپنے اردگرد صفوں میں موجود مختلف شخصیات کے حوالے سے بھی تحقیقات کرنی چاہیے ، صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہ شکنجہ محض اپوزیشن تک محدود رہے ۔ جب بلا تفریق احتساب ہوگا تو اس کے نتاءج بھی نکلیں گے، ملک ترقی بھی کرے گا، عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا ، حکمرانی کیلئے راستے بھی آسان ہوں گے ۔ اگر ان اقدامات پر عمل نہ کیا گیا تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative