Home » کالم » مصنوعی مہنگائی کی ذمہ دار تاجر برادری ہی ہے

مصنوعی مہنگائی کی ذمہ دار تاجر برادری ہی ہے

وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں جمعرات 11جولائی 2019ء سے ہی تاجر برادری نے مہنگائی کیخلاف ہڑتال کی کال کے بینر لگانا شروع کر دئیے تھے اوریہ بینرز اگلے دو روز میں ہر گلی ،محلہ،شاہراہ سمیت بازاروں میں لگائے جا چکے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس بار پورے پاکستان میں مہنگائی کیخلاف تاجر برادری یکجا ہو کر مکمل ہڑتال کر دیگی جس سے عوام کی مشکلات میں ہونیوالے اچانک اضافے سے حکومت پر دباوَ بڑھے گا اور وہ دکانداروں پر عائد 17%سیل ٹیکس کی شرح کو کم یا ختم کرنے کیساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط بھی ختم کر دیگی اور تاجر برادری کو ٹیکس سے چھوٹ مل جائیگی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور مکمل ہڑتال نے جزوی ہڑتال کی جگہ لے لی،جزوی ہڑتال میں بھی کئی دکاندار آدھا شٹر کھول کر اپنی دکانداری کرتے رہے ہاں جہاں پر تاجر تنظیموں کا اثرورسوخ تھا وہاں پر مکمل ہڑتال دیکھنے میں ملی،ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے بعد اب تاجر تنظیموں کی اہمیت بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ہے،جب میں نے تاجروں کے بینر پڑھے جس پر لکھا تھا کہ ملک میں جاری شدید مہنگائی کے خلاف تاجر برادری کی ہڑتال ۔ بینر پڑھ کر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ قارئین سے اپنے کچھ تجربات شیئر کر سکوں ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تاجر برادری کو مہنگائی سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی یہ مہنگائی کی وجہ سے سڑکوں پر نکلتے اور ہڑتالیں کرتے ہیں کیونکہ ہم تاجربرادری کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی ٹریلر ہر رمضان المبارک میں بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ قیمتیں دوگنا کرنے کیخلاف تاجروں نے ہڑتال کی کال دی ہو یا اتنے سنجیدہ ہوئے ہوں جتنا اب اور مشرف دور میں ہوئے تھے ۔ لہٰذا تاجر برادری ضرور ہڑتال کرے مگر اپنے مطالبات کے پیش نظر کرے عوام کو اپنے مفاد پرست کھیل میں نہ دھکیلے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں تمام سبزی اور پھل سمیت کپڑے و سلائی کے نرخ دوگنا سے تجاوز کر جاتے ہیں اور غریب کا جینا حرام ہو جاتا ہے مگر تاجر ناجائز منافع خوری سے باز نہیں آتے بلکہ ڈھٹائی سے مہنگے داموں گھٹیا کوالٹی کی چیز سینہ تان کر فروخت کر رہے ہوتے ہیں جس کا یہ جو بھی عذر پیش کریں قابل قبول نہیں کیونکہ ہر جگہ تاجر ہی تو بیٹھا ہے تب تو انکو کسی قسم کی ہڑتال یاد نہیں آتی مگر جب حکومت کو ٹیکس دینا پڑ جائے تو یہ ناجائز منافع خوروں کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ تاجروں نے 13جولائی کو جو جزوی ہڑتال کی اس کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ دکانداروں پر عائد17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرانا ہے کیونکہ اس سے انکی سیل ثابت ہو جائیگی ۔ کاش اس ملک کے تاجر عوام سے مخلص ہوتے تو رمضان المبارک میں غریب بھی اپنے بچوں کو روزہ افطار کے وقت کھجور اور پھل دسترخوان پر سجا سکتا ۔ اب ذرا مہنگائی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس کیخلاف تاجر برادری سراپا احتجاج نظر آرہی ہے اور عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ 9جولائی2019کو میرا اسلام آباد کی منڈی میں جانا ہواجہاں پر اشیاء خوردونوش سن کر میرے ہوش اڑ گئے کہ مہنگائی کا رونا رونے والے ہی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں ،مارکیٹ میں ناقص کوالٹی کا 120روپے فی کلو فروخت کیا جانیوالا آم منڈی میں اعلیٰ کوالٹی کیساتھ 65روپے میں فروخت ہو رہا ہے،لنگڑا اور دوسہری آم کا منڈی میں ریٹ 25سے35روپے فی کلو تھاجو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے دھڑلے کیساتھ فروخت کیا جاتا ہے،150روپے والا ناقص کوالٹی کا آڑو منڈی میں بہترین کوالٹی کا 70روپے میں فروخت ہو رہا تھا،درمیانی کوالٹی کا آڑو 40روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا جو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے کلو فروخت کیا جاتا ہے،چیری کا ڈبہ عام مارکیٹ میں 350روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ منڈی میں اسکی قیمت 150روپے تھی،عام دکانوں پر 100روپے فروخت کی جانیوالی کم کوالٹی کی خوبانی منڈی میں اچھی کوالٹی کیساتھ 50روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی اسی طرح 160روپے کلو فروخت کیا جانیوالا لیمن منڈی میں 80روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا،اعلیٰ کوالٹی کا کیلا منڈی میں 60روپے فی درجن تھا،پودینے کی ایک درجن گٹھیوں کی قیمت صرف 30روپے مانگی جا رہی تھی،مارکیٹ میں 40روپے کلو فروخت کیا جانیوالا ٹماٹر منڈی میں 12سے 15روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا(یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ یہ ریٹ منڈی کے دکانداروں کے نہیں بلکہ انہی سے خرید پر منڈی کے تھڑوں پر سامان فروخت کرنیوالوں کے نرخ ہیں ،دکانداروں کے نرخ تو اور بھی کم ہونگے)اسی طرح آلو پیاز اور لہسن سمیت دیگر سبزیوں کی انتہائی کم قیمت میں فروخت منڈی میں دیکھ کر اوسان خطا ہوتے چلے گئے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ دکاندار اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اشیاء خوردونوش فروخت نہیں کرتے شائد اسی لیے بے برکتی ہے ۔ معاشرے کو چور ،ڈاکو اور لٹیروں نے نہیں بلکہ انہی ناجائز منافع خوروں نے خراب کیا جن کی مصنوعی مہنگائی کے پیش نظر عام آدمی پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے جرائم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے،کیسی عجیب سی بات ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے مگر کسان اسی طرح غربت کی چکی میں پس رہا ہے مگر آڑھتی روز بروز اپنی خزانے کی تجوریوں میں اضافہ کر رہا ہے،کسان آج بھی وہیں کا وہیں مگر تاجر کچھ ہی عرصے میں گھر،گاڑی اور پھر بنگلے خریدنا شرو ع ہو جاتے ہیں ،ایک منٹ کیلئے سوچا جائے کہ ہفتہ وار بازاروں میں اگر ایک سٹال ہولڈر صرف 100کلو آم فروخت کرتا ہے تو وہ خالص10ہزار روپے کا منافع کما کر گھر جاتا ہے مگر اگر حکومت اس میں سے کچھ ٹیکس مانگ لے تو موت پڑ جاتی ہے،فیصل آباد سے 3سو سے4سو روپے میں ملنے والا سوٹ 15سو سے 18سو میں فروخت کرنیوالا تاجر غریب عوام کو لوٹتے وقت ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچتا کہ اس ناجائز منافع خوری کا اللہ پاک کو کیا جواب دونگا جہاں پر نہ کوئی جھوٹ چلے گا اور نہ ہی کوئی بہانا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تاجر برادری احتجاج نہ کرے مگر خدارا اپنے دھندے میں عوام کے نام کو نہ گھسیٹا جائے ۔ مجھے تو مشرف دور کی تاجروں کی لمبی لمبی ہڑتالوں کے بعد دکانوں کا کھولنا اور ٹیکس کی ادائیگی کی آمادگی بھی یاد ہے اور پھر راولپنڈی کے سیلاب میں ہونیوالے نقصان بھی یاد ہیں ۔ اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مگر جب یہ پڑتی ہے تو پھر کوئی چارہ ،کوئی حیلہ اور کوئی تدبیر کام نہیں آتی،تاجر برادری کو چاہئے کہ وہ ناجائز منافع خوری کی عادت کو ترک کریں اور اس ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے ٹیکس ادا کریں تاکہ اس ملک کے غریب عوام مصنوعی مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative