Home » کالم » معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی
adaria

معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی

حکومت نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس وقت غیر معمولی معاشی بحران کا سامنا ہے کیونکہ جب پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو اس وقت خزانے کی حالت کوئی بہت زیادہ بہتر نہیں تھی کیونکہ ن لیگ سے جو حکومت ملی تو اس وقت زر مبادلہ کے ذخائر بھی انتہائی کمزور تھے جس کی وجہ سے حکومت کو آتے ہی معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور آج اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی انہی مسائل کا سامنا ہے اسی لئے وزیراعظم نے اجلاس میں کہاکہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی ۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ جب تک دیگر صوبوں کی جانب سے بھی خاطر خواہ تعاون حاصل نہیں ہوگا اس وقت تک اس بحران سے نکلنا ناممکن ہے ۔ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی،سندھ کی جانب سے کچھ شکوے بھی سامنے آئے تاہم ان کو ختم کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے ۔ وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا مقصد ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا تھا سو اسی کے لئے ہم کوشاں ہیں اور انشاء اللہ جلد ملک معاشی بحران سے نکل جائے گا ۔ قومی اقتصادی کونسل نے ;200;ئندہ مالی سال کے لئے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 4 فیصد، وفاق اور صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1837 ارب روپے رکھنے کی منظوری دی گئی ،وزیراعظم کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں بارہویں 5 سالہ منصوبے کی بھی منظوری دے دی گئی کونسل نے زراعت کے شعبے میں ترقی کی شرح ساڑھے 3 فیصد صنعت میں 2;46;2 فیصد خدمات کے شعبے میں 4;46;8 فیصد مقرر کرنے کی منظوری دی ۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان ملکی تاریخ کے شدید معاشی بحران کا شکار تھا اور ہماری تمام تر کوشش ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانا تھا ۔ ہم وہ تمام کام کر رہے ہیں جو پہلے کئے جانے چاہئے تھے وزیراعظم نے کہا کہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے وفاق اور صوبوں کی مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے وزیراعظم نے صوبوں کو ایف این سی ایواڈ میں سے فاٹا کیلئے حصہ دینے پر بھی زور دیا ۔ صوبے این ایف سی ایوارڈ سے فاٹا کو حصہ دینے کا وعدہ پورا کریں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کیلئے مرکز اور صوبوں کو مشترکہ اقدامات کرنے ہوں گے ، حکومت نے پنجاب اور خیبر پی کے میں مقامی حکومتوں کا نظام متعارف کرایا ہے،نظام سے اجلاس میں گزشتہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام اور آئندہ مالی سال کے لئے تجویز کردہ ترقیاتی پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا آئندہ مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام میں زراعت آئی ٹی اعلی تعلیم سائنس و ٹیکنالوجی اور فنی تعلیمی پر زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کیلئے خصوصی منصوبے شروع کیے جائیں گے،فاٹا کے ضم شدہاور لائن آف کنٹرول کے متاثرہ علاقوں میں خصوصی منصوبے شروع کئے جائیں گے ۔ اجلاس کے دور ان سابق فاٹا علاقوں میں تیز رفتار بحالی اور تعمیر نو کے اسپیشل فورم کی توسیع اور وفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کیلئے ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے قیام کی منظوری دی گئی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ معاشی بحران بھی ایک طرح کا موقع ہے ،جو کام پہلے نہیں ہو سکے انکو اب مکمل کیا جائیگا ۔ اعلامیہ کے مطابق وزیر اعظم نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ فاٹا کی تیز رفتار ترقی کیلئے مالی وسائل فراہم کریں ۔ اجلا س میں مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ،وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار ،مشیر تجارت عبد الرزاق داءود ،گور نر کے پی کے شاہ فرمان ،وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ، وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر اعلی کے پی کے محمود خان ،وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان ، وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت ، نثار کھوڑو ،مسز ناہید درانی ،وزیر خزانہ کے پی کے تیمور سلیم ، جان محمد جمالی ،وزیر اعلی آزاد کشمیر فاروق حیدر خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان حافظ الرحمن و دیگر شریک تھے ۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے وفد نے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصلی تبادلہ خیال کیا گیا ایم کیو ایم کے وفد نے بتایا کہ گزشتہ 10 برسوں میں کراچی ، حیدر ;200;باد میں جعلی ڈومیسائل پر نوکریاں دی گئیں بڑے شہروں کے شہریوں کو سرکاری نوکریوں کے جائز حق سے محروم رکھا گیا اس بدعنوانی اور غیر قانونی عمل کی تحقیقات کرائی جائیں صوبائی مالیاتی کمیشن کے قیام پر عملدر;200;مد یقینی بنایا جائے کراچی اور حیدر ;200;باد کا ترقیاتی فنڈز میں جائز حق یقینی بنایا جائے ۔ وفد میں خالد مقبول صدیقی فروغ نسیم کنور نوید وسیم اختر امین الحق اور فیصل سبزواری شامل تھے اس موقع پر وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار اور معاون خصوصی نعیم الحق بھی موجود تھے ۔

بلاول کی نیب میں پیشی۔۔۔ اسلام آباد میں گھمسان کا رن

اسلام آباد میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نیب میں پیشی کے وقت جیالوں اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں ، اس دوران پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ، واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا ۔ متعدد جیالوں کو گرفتار کرنے کے بعد رات گئے انہیں رہا کردیا گیا ۔ سارا دن وفاقی دارالحکومت میں گھمسان کا رن مچا رہا ، پیپلزپارٹی، ن لیگ اور دیگر جماعتوں کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے کارکنوں پر تشدد کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ پی ٹی آئی اپنے دور میں کنٹینر پر کھڑی رہی ،پورا اسلام آباد بلاک کیے رکھا ، بیرون ملک دوروں کو سبوتاژ کیا گیا اب وہ یہ کہتے تھے کہ اپوزیشن مظاہرہ کرے تو کنٹینر بھی دیں گے اور کھانا بھی دیں گے لیکن ان سے ذرا سا مظاہرہ بھی برداشت نہیں کیا گیا ۔ اپوزیشن کی اس بات میں خاطر خوا وزن ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ معاملات افہام و تفہیم سے حل کرے نہ کہ ایک مسئلہ حل کرنے کے ساتھ دوسرا مسئلہ بھی پیدا کردیا جائے اس حالات اور گھمبیر ہوں گے ۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جعلی اکاءونٹس کیس میں نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے ۔ اس موقع پر اسلام آباد انتظامیہ نے جیالوں کے اسلام آباد میں داخلے پر پابندی لگا دی ،دیگر شہروں سے آنے والے پی پی کارکنوں کو روکنے کا حکم جاری کرتے ہوئے اسلام آباد انتظامیہ نے نوٹیفکیشن میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے سے حالات خراب ہو سکتے ہیں ۔ پابندی کے باوجود اپنے لیڈر کے استقبال اور ان سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکن بڑی تعداد میں نیب ہیڈکوارٹر پہنچے، انہوں نے اپنے لیڈر بلاول کے حق میں نعرے لگائے ۔ بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ آصفہ بھٹو زرداری سمیت پارٹی رہنما راجہ پرویز اشرف،سید نوید قمر،مصطفی نواز کھوکھر، مرتضی وہاب، نیئربخاری بھی نیب ہیڈکوارٹر پہنچے ۔ پولیس اور پی پی کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی، ادھر چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہ میں سلیکٹڈ حکومت نامنظور ہے یہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے ججز، اپوزیشن ا ور جرنلسٹ بھی سلیکٹڈ ہوں ،عید کے بعد سڑکوں پر نکلیں گے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative