Home » کالم » معیشت استحکام کی جانب گامزن،20اداروں کی تشکیلِ نوپرغور
adaria

معیشت استحکام کی جانب گامزن،20اداروں کی تشکیلِ نوپرغور

کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اس کے ٹیکس کے نظام پر ہوتا ہے ۔ گزشتہ 70 دہائیوں سے ہمارے ملک کا عجیب و غریب نظام رہا ہے، غریب سے توٹیکس وصول کیا جاتارہا لیکن اصل لوگ جوٹیکس دینے والے تھے وہ آٹے میں نمک کے برابر ٹیکس دیتے رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے ملکی خزانے کو بھی نقصان رہا، معیشت بھی کمزور رہی، ملک ترقی بھی نہیں کرسکا، خزانہ کو بھی ناتلافی نقصان پہنچتا رہا اور ذاتی خزانے بڑھتے رہے جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس نے ٹیکس کے نظام میں نہ صرف ریفارمز لانے کیلئے کمر باندھی ہے بلکہ اس کو ہر صورت بہتر بنانے کیلئے بھی کوشاں ہے اور ٹیکس نیٹ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیاجارہا ہے تاکہ ملکی معیشت اپنے پاءوں پر کھڑی ہوسکے ۔ اسی سلسلے میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ ٹیکسوں پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی ، معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہیں ، عوام پرامید رہیں خوشحالی لائیں گے، روپیہ مستحکم ہوگا ،نیزنان ٹیکس ریونیو سے ایک ہزارارب ملنے کی توقع ہے ۔ 10کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کا کہنا ہے کہ ٹیکس پر سودے بازی نہیں کرینگے، معیشت بحران سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، 10کھرب روپے نان ٹیکس آمدنی ہوگی، نجکاری کے عمل میں تیزی لارہے ہیں ، 10نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہارات دیدیئے، نیشنل بینک اور اسٹیٹ لاءف کو فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن میں شامل کر سکتے ہیں ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے گردشی قرضوں میں کمی لا رہے ہیں ، کرنٹ خسارے میں 73فیصد کمی، زرمبادلہ کے ذخائراور روپے کی قدر مستحکم، موبائل کمپنیوں سے 200ارب وصول ہونگے، بجلی کی چوری میں کمی واقع ہوئی ،20اداروں کی تشکیل نو ہوگی ۔ صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں ، مہنگائی چیلنج ہے، اقتصادی شرح نموکا 2;46;4فیصد ہدف حاصل کرلیں گے، آئی ایم ایف کا وفد آج معمول کے دورے پر پاکستان آئیگا ، اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے بھی قرضوں پر بات جاری ہے، کاروباری افراد کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ٹیکس کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔ گزشتہ روز مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی کے ہمراہ ملکی معاشی صورتحال پر میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ حکومت بنی تو ملک کی معاشی حالت بری تھی، ہم اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے جا رہے تھے، ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلئے ہ میں بہت سے اہم اقدام اٹھانا پڑے ۔ دوست ممالک سے تعاون پروگرام طے کئے اور ملک میں ڈالر ریزرو کو سنبھالا، ڈومیسٹک ٹیکس ریوینو میں 38فیصد اضافہ ہواہے ۔ پاکستان میں ٹیکس فائلر 19 لاکھ تھے جنہیں 25 لاکھ تک بڑھایاگیا، حکومت نے سرمایہ پاکستان ادارے کو ایکٹو کیا ہے اور 20 کمپنیوں کو چناجن میں تیز رفتار ری اسٹرکچرنگ ہو گی، بجلی کی ڈسٹربیوشن کمپنیوں کو بھی نجکاری کیلئے پیش کیا جائےگا ۔ نیشنل بینک اور اسٹیٹ لاءف انشورنس کی بھی نجکاری کا سوچا جارہا ہے، بجلی کے گردشی قرضوں میں کمی لائی جارہی ہے ، حکومت نے ایک سو ارب روپے کی بجلی چوری پر قابو پایا ہے جو کہ اہم اقدام ہے جس سے عوامی پیسے کی چوری کو کم کیا گیا ہے ۔ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث ورلڈ بینک اور دوسرے ادارے آگے بڑھ رہے ہیں ان تمام چیزوں کا ملکی معیشت پر اچھا اثر ہو گا، پاکستانی عوام پُر امید رہے،بہت جلد ان کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے، مہنگائی کے جن کو قابو کرنا حکومت کےلئے ایک چیلنج ہے ، حکومت کی سب سے بڑی کوشش ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے ۔ جب ٹیکس نیٹ مضبوط ہوگا اور ہر شخص کو پتہ ہوگا کہ اس کاٹیکس دہندہ ہونا ضروری ہے تو مہنگائی بھی کنٹرول ہوگی ۔

مقبوضہ وادی میں بھارت کی بربریت جاری،تین نہتے کشمیری شہیدکردیئے گئے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت انتہا کو پہنچ چکی ہے ، انسانی حقوق کی پامالی سرعام ہورہی ہے، زندگی سسک رہی ہے، مریض طبی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں مگر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے، انتہا یہ کہ وادی میں پیلٹ گنز اور اسلحے کا بھارتی فوج کی جانب سےبے دریغ استعمال کیا جارہا ہے اور نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا جاتا ہے ۔ نیز مسلمانوں کو اپنے پیاروں کے جنازے میں بھی شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ گزشتہ روزبھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں مزید 3کشمیریوں کو شہید کردیا، جبکہ بھارتی مظالم کیخلاف مظاہروں میں شدت بھی دیکھی جارہی ہے ۔ ادھر بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ وادی سے مجموعی طور پر 4100افراد کو گرفتار کیا جن میں 170مقامی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں ، یہ بھی کہا کہ کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری ہیں اور کرفیو بھی کام نہیں آرہا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بھارت سے ایک بار پھر کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ قابض فوج نہتے کشمیریوں کا لہو بہانے میں مصروف ہے ۔ دریں اثناء سینئر بھارتی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کرفیو اور لاک ڈاءون کے باوجود روزانہ اوسطاً 20 مظاہرے ہوتے ہیں ، کرفیو کے باوجود یہ مظاہرے جاری ہیں ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا درجہ ختم کیے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ 5 اگست کے بعد سے اب تک 722 مظاہرے ہوچکے ہیں اور سرینگر کے بعد شمال مغربی ضلع بارہمولہ اور پلوامہ میں بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے ۔ 200 سویلین اور 415 سیکیورٹی فورسز کے ارکان زخمی ہوئے ہیں ، حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 95 شہری زخمی ہوئے ہیں ،170 مقامی سیاسی رہنماءوں سمیت 4100 افراد کو سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ وادی سے گرفتار کیا ۔ گزشتہ دو ہفتوں میں 3000 افراد کو رہا بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان رہا ہونے والے افراد میں سیاسی رہنما بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارت سے کشمیر سے کرفیو اٹھا نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارتی بلیک آءوٹ کو 40 روز سے زائد ہوگئے ہیں وہاں سے کرفیو فوری طور پر اٹھایا جائے اور کشمیریوں کو بولنے کا مو قع دیا جائے ۔ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاون سے 80 لاکھ افراد متاثر ہیں جبکہ موبائل فونز، انٹرنیٹ کنکشن تاحال منقطع ہیں ۔ واضح رہے کہ کشمیر میں لاک ڈاون کو 42 روز ہوگئے ہیں جس سے اشیائے خور و نوش کا قحط اور اسپتالوں میں ادویات ناپید ہوگئی ہیں ، جبکہ وادی میں پانچ اگست سے مسلسل کرفیو اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں ۔

سیاسی مسائل کے حل کے لئے

بہترین فورم پارلیمنٹ ہے

جے یوآئی (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمان اور شہبازشریف کے مابین ملاقات میں اسلام آباد کو لاک ڈاءون کرنے اور ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث ہوئی جس میں لاک ڈاءون کے حوالے سے اتفاق کیاگیا، لاک ڈاءون کرناچاہیے مگر اس سے پہلے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ مسائل حل کرنے کے لئے جمہوری نظام میں ایک فورم موجود ہے جس کانام پارلیمنٹ ہے پارلیمنٹ نے تما م سیاسی مسائل کو حل کرناچاہیے ، سڑکوں پرآنے سے ، جلسے جلوس نکالنے سے ، لاک ڈاءون کرنے سے ،ہڑتالیں کرنے سے ، سوائے حالات خراب ہونے کے اورکچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، وقت کاتقاضا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہی معاملات کو حل کیاجائے کیونکہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ باہمی اتفاق کاپیغام بیرونی دنیا میں جاناچاہیے ۔ سرحد وں کے حالات بھی دگرگوں ہیں پاک افغان بارڈر ہو یا بھارت کے ساتھ ایل او سی، دونوں جانب ہی نازک حالات ہیں ،دشمن کو اگر یہ پیغام جائے کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی قوتیں ہی آپس میں دست وگریباں ہیں اورایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے کوشاں ہیں تو پھردشمن بھی حاوی آجاتا ہے ، ملکی استحکام انتہائی ضروری ہے اختلافات رائے رکھنا چاہیے کیونکہ یہ جمہوریت کا حسن ہے لیکن جمہوریت کاقائم ودائم رہنابھی لازمی ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم پہلے ہی ایک آزادمملکت کے باسی ہیں ایسے میں اپوزیشن کون سی آزادی مارچ کا اعلان کررہی ہے لفظوں کا استعمال اوراس کارکھ رکھاءوبہت اہمیت کاحامل ہوتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative