Home » کالم » اداریہ » معیشت مستحکم ہونے کی حکومتی نوید
adaria

معیشت مستحکم ہونے کی حکومتی نوید

معیشت کے اہداف کو حاصل کوکرناحکومت کی سب سے بڑی منزل مقصود تھی گوکہ اس جانب کام جاری رہا، عوام مہنگائی سے متاثررہی، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتارہا ، حکومت نے جووعدے وعیدکئے تھے اُن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں تاخیرنظرآتی رہی تاہم اب حکومت اس راستے پرگامزن ہوچکی ہے کہ وہ اپنی طے شدہ منازل حاصل کرسکے اور عوام سے جووعدے کئے ہیں اُنہیں عملی جامہ پہناسکے ۔ منزل کو حاصل کرنے کے لئے سخت فیصلے بھی کئے گئے ،اپوزیشن کی تنقید بھی برداشت کی گئی لیکن اب ان فیصلوں کے ثمرات آنا شروع ہورہے ہیں ،تجارتی خسارہ کم ہورہاہے ،سٹاک ایکسچینج بھی مستحکم ہورہی ہے ،لامحالہ جب یہ اقدامات حاصل ہوں گے تو یقینی طورپر نئی ملازمتوں کے مواقع بھی میسرآئیں گے ۔ اسی سلسلے میں مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں دعویٰ کیا کہ حکومت نے دو بڑے خساروں تجارتی اور مالیاتی خسارے پر قابو پالیا ہے ،حکومت کے مشکل فیصلوں کے مثبت نتاءج آنا شروع ہوگئے ہیں ، کاروبار میں اضافہ، سرمایہ کار پْر اعتماد ہو رہا ہے،نجکاری سے مزید اربوں روپے آ ئینگے،انہوں نے اعلان کیا ہے کہ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز پر آئندہ دو ہفتوں میں فل پالیسی آرہی ہے ۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے گزشتہ روز یہاں پی آئی ڈی میں حکومت کے دوسرے سال کے پہلے تین ماہ کی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایاکہ پہلے 3ماہ میں تجارتی خسارہ 35فیصد جبکہ حکومت کا مالیاتی خسارہ 36 فیصد کم ہوا ،ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا ، امپورٹ میں کمی لائی گئی ،فارن ریزروز مستحکم ہوئے ہیں اور اوورسیز ایمپلائمنٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ میں بھی22 فیصد اضافہ ہوا ہے حکومت کے مشکل فیصلوں کے مثبت نتاءج آنا شروع ہوگئے ہیں ،رواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر5اعشاریہ 7ارب ڈالر ہو گیا، تجارتی خسارے میں 35فیصد کمی آئی ہے جبکہ حکومت کے مالیاتی اخراجات میں بھی 3ماہ کے دوران واضح کمی آئی ہے، پچھلے سال حکومت کا مالیاتی خسارہ 738ارب تھا جواس سال 476 ارب روپے تک آگیا ہے جو کہ تین ماہ میں ہوا ہے اسٹیٹ بینک سے 3ماہ میں قرضہ نہیں لیا گیا ۔ سپلیمنٹری گرانٹس بھی بند کردی گئی ہیں ہم اخراجات کوکنٹرول کرناچاہتے ہیں ان اقدامات کی وجہ سے ریونیو میں 16فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران ایکس چینج ریٹ مستحکم ہوا ہے جس کیو جہ سے پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کار پْراعتماد ہو گئے ،مشیر خزانہ نے کہاکہ نان ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے نان ٹیکس ریونیو سے مرادحکومت کی وہ آمدن ہوتی ہے جو ٹیکس کے علاوہ ہوتی ہے پچھلے سال نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 406 ارب روپے حاصل کیے گئے رواں سال کے پہلے تین ماہ میں ہم نے 140 ارب روپے کا اضافہ کیا ہے نان ٹیکس ریونیو کا ٹارگٹ 1200 ارب روپے رکھا گیا ہے لیکن نان ٹیکس ریونیو میں مزید400 ارب روپے کا اضافہ ہوسکتا ہے میں 1600 ارب روپے تک لے جانے کےلئے پرامید ہوں ۔ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کےلئے اربوں ڈالر ضائع کیے گئے ہم نے کوشش کی ہے کہ ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ کے تحت رکھا جائے، 3 ماہ میں ایکسچینج ریٹ میں استحکام آیا ہے مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کار سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں 3سال بعد 340 ملین ڈالر کا بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے ہ میں باہر کے سرمایہ کار کا بھی اعتماد مل رہا ہے ایکسپورٹ سیکٹر نے بھی اسٹارٹ لے لیا ہے ۔ فیکٹریز میں کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں ملازمتیں نکلیں گی، گزشتہ 5سال میں برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا،برآمدات کے شعبے کو سبسڈی دی جا رہی ہے، حکومت نے برآمدی سیکٹر کی مدد کی جس کے نتاءج آنے لگے ہیں ۔ وزیراعظم آفس کے اخراجات میں بھی کمی کی گئی ،5 لاکھ اضافی افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا گیا ۔ سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی ،حکومت کے اخراجات کم کیے گئے،آئی ایم ایف ،عالمی بینک ،ایشیائی ترقیاتی بینک سے 10ارب ڈالر ملے ہیں ، حفیظ شیخ نے کہاکہ بیرون ملک ملازمتوں کیلئے جانےوالوں میں ڈیڑھ لاکھ افراد کا اضافہ ہوا،جنوری تا اگست 3 لاکھ 73ہزار افراد ملازمتوں کیلئے بیرون ملک گئے ہیں ۔ ایل این جی پلانٹ کی نجکاری سے 300 ارب روپے اضافی منافع آسکتا ہے ،پی ٹی اے کا منافع اب 70 ارب روپے ہے ٹیلی کام کا 338 ارب روپے اضافی منافع آسکتا ہےاسی طرح اسٹیٹ بینک کا منافع200ارب روپے اضافی ہو سکتا ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ میں اسٹیٹ بینک کا منافع 85 ارب روپے ہو گیا ہے ۔ اسٹاک مارکیٹ پر بھی اعتماد بڑھ رہا ہے اسٹاک مارکیٹ 28000 کی سطح سے بڑھ کر 34000 کی سطح پر آگئی ہے ۔ حکومت کے خسارے کو کم کرنے سے فائدہ عوام کو ہو گا،جو بھی کوشش کی ہے اس کا محور پاکستان ہے ۔ ایکسچینج ریٹ کو مستحکم کیا ہے تو پچھلے تین ماہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہو ا ۔

سٹیزن پورٹل میں ایک اورشق کا اضافہ ضروری

سٹیزن پورٹل کے حوالے سے وزیراعظم نے ایکشن لے کرجوہدایات کی ہیں اُن پر من وعن عمل کرناچاہیے کیونکہ یہ وہ واحدذریعہ ہے جس کے ذریعے کسی بھی اس شخص کی آواز جس کی یہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، اُس کی داد رسی کی جاتی ہے تاہم ایک بات اہمیت کی حامل ہے کہ شکایات کا ازالہ یقینی طورپرمجازافسرہی کرے لیکن کسی کی بھی یاکسی کے خلاف شکایت سنتے ہوئے اس بات کوملحوظ خاطررکھاجائے کہ آیا یہ شکایت حقیقت پرمبنی ہے یابلیک میلنگ پر ۔ اگر شکایت غلط ثابت ہوتو مجازافسر کو یہ اختیاربھی دیاجائے کہ وہ غلط شکایت کرنے والے کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کرے اس کے لئے ہم وزیراعظم سے گزارش کریں گے سٹیزن پورٹل میں باقاعدہ ایک شق کا اضافہ کیاجائے جس میں شکایت کنندہ حلفاً اس بات کو تحریر کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کوحاضروناظرجان کرکہتا ہے کہ اس کی شکایت سچ اورحقیقت پرمبنی ہے اگرغلط ہوتو میرے خلاف بھی تادیبی کارروائی کی جائے ۔ اس طرح سٹیزن پورٹل یکطرفہ نہیں رہے گا اورانصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں گے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سٹیزن پورٹل پر شکایات کے ازالے سے متعلق احتساب شروع کردیا ۔ وزیراعظم آفس کووزیراعظم سٹیزن پورٹل پر غیر مجاز اہلکاروں کی شہریوں کی شکایات کو بغیر حل نمٹانے کی شکایات موصول ہوئیں جس پر وزیراعظم نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہریوں کی شکایات کا حل مجاز افسران کے حتمی فیصلہ سے مشروط کر دیا ۔ وزیراعظم آفس کے مطابق شہری کی شکایات سے متعلق غلط بیانی یا کوتاہی کا ذمہ دار ادارے کا مجاز افسر ہو گا اور غیر مجاز افسران کی شہریوں کی شکایات کے حل کی رپورٹ بدنیتی اور غفلت تصور ہو گی جبکہ اس حوالے سے وزیر اعظم آفس نے تمام وفاقی اور صوبائی اداروں کو خط لکھ دیا ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی شہریوں کی شکایات کو حل یا ختم کرنے کا فیصلہ مجاز افسر ہی کر ے گا اور شہریوں کی شکایات کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی قابل قبول نہیں ہے ۔ کوئی بھی شکایات نمٹانے سے قبل مجاز افسر کی اجازت ضروری ہو گی ۔ ماتحت افسران شہری کی شکایت کو بغیر نتیجہ نمٹا نہیں سکتا ہے ۔

ڈینگی کے مریضوں

میں اضافہ لمحہ فکریہ!

ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد ہے جبکہ اس مرض میں مبتلا 250 سے زائد افراد کی اموات ہو چکی ہیں ۔ این آئی ایچ کے مطابق ملک بھر میں ڈینگی کے مریضوں کی تعداد 27 ہزار ہے، جبکہ 44 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں ۔ اسلام آباد میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 7 ہزار سے بھی تجاوز کر گئی، دیگر شہروں میں بھی سینکڑوں مریض سامنے آگئے ۔ جڑواں شہروں میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ ڈینگی مچھر کے سامنے بے بس نظر آنے لگی ۔ ایک ایک گھر میں کئی کئی افراد ڈینگی کا شکار ہیں ۔ لاہور، فیصل آباد، ملتان، رحیم یار خان اور دیگر کئی شہروں میں بھی ڈینگی کے سینکڑوں مریض سامنے آگئے ۔ خیبر پختونخوا میں ڈینگی کے مزید 140 کیس رپورٹ ہوئے ہیں ، صوبے میں مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 5 ہزار سے زائد ہوگئی ۔ اسلام آباد کے صرف 2 بڑے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک میں ہی ڈینگی کے ساڑھے 8 ہزار سے زائد پازیٹو کیسز سامنے آ چکے ہیں ۔ اب تک جڑواں شہروں میں ڈینگی سے 35 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں ۔ شہر بھر میں ڈینگی مچھر کے حملے شہریوں پر مسلسل جاری ہیں ،گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 154 افراد میں ڈینگی کی تشخیص ہو ئی ہے ،رواں سال ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 6000 کے قریب ہے ، ہر گلی محلے میں ڈینگی شہریوں کی گفتگو کا مرکز بنا ہوا ہے ،مریضوں کے ساتھ لواحقین کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ،آئے روز اس وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کے باعث شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ انتظامیہ روزانہ کی بنیاد پر میٹنگز کا انعقاد کر رہی ہے لیکن ڈینگی ہے کہ سب کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے ،موبائل ہیلتھ یونٹس سے کثیر تعداد میں شہری مستفید ہو رہے ہیں ،ہسپتالوں میں موجود شہریوں کا کہنا ہے کہ موسم گرما اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے ۔ انتظامیہ سے درخواست ہے کہ آئندہ سال شہریوں کو اس وائرس سے بچانے کےلئے ابھی سے کام شروع کیا جائے نہ کہ اس سال کی طرح تیاریاں کی جائے جب ڈینگی نے اپنے حملے شروع کر دئیے تھے ۔

سی پیک کے مغربی روٹ پرکام تیزکرنے کافیصلہ

پاکستان اور چین کے درمیان ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر پر سی پیک جائنٹ ورکنگ گروپ کاساتواں اجلاس وفاقی دارالحکومت میں ہوا،جس میں ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے جاری اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی غورو خوض کیا گیا ۔ اجلاس میں چین کے وفد کی قیادت وزارت ٹرانسپورٹ کے چیف پلانر وانگ زی چنگ نے کی جبکہ دیگر اراکین میں چین کی وزارت ٹرانسپورٹ،ریلوے ،ایگزم بینک چائنہ اور چینی کمپنیوں کے سربراہ شامل تھے ۔ پاکستان کی طرف سے وفاقی سیکرٹری مواصلات جواد رفیق ملک ،سیکرٹری حکومت سندھ غلام عباس ڈیٹھو،حکومت آزاد جموں وکشمیر کے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ غلام شیبر مغل،وزارت ریلوے کے ڈی جی پلاننگ ایم یوسف، وزارت خزانہ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالرحمن وڑاءچ،چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیپٹن (ر) سکندر قیوم،وزارت خارجہ کی ڈائریکٹر سی پیک سعدیہ وقار النساء ،گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین نصیر خان،صوبہ خیبر پحتونخوا کے سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو انجینئرشہاب خٹک کے علاوہ وزارت مواصلات، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، حکومت پنجاب،حکومت سندھ ،حکومت بلوچستان، ایوسی ایشن ڈویڑن،وزارت پلاننگ ، ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز،وزارت داخلہ اور حکومت گلگت بلتستان کے سینئرافسران نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں چینی وفد نے سی پیک سے متعلقہ جاری منصوبوں کے معیار اور بروقت تکمیل پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور مستقبل کے منصوبوں کو جلد شروع کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اجلاس میں سکھر ۔ ملتان موٹروے اور حویلیاں ۔ تھاہ کوٹ موٹروے کی تکمیل پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا اور فیصلہ کیا گیاکہ ان منصوبوں کا افتتاح شاندار انداز میں کیا جائے گا ۔ اجلاس کے اختتام پر متفقہ نکات پر وزارت مواصلات میں دستخط کئے گئے ۔ پاکستان کی طرف سے وفاقی سیکرٹری مواصلات جواد رفیق ملک اور چین کی طرف سے چین کی وزارت ٹرانسپورٹ کے چیف پلانر وانگ زی چنگ نے دستخط کئے ۔ وفاقی وزیر مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ مراد سعید نے چین کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے جائنٹ ورکنگ گروپ کے فورم کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ فورم سی پیک کے انفراسٹرکچر منصوبوں پر عملدرآمد کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ مراد سعید نے چین کے انجینئرز اور کارکنوں کی محنت،لگن اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا ۔ سی پیک انفراسٹرکچر منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے تمام اقدامات عمل میں لائے جائیں گے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات ہر آزمائش پرپورے اترے ہیں ۔ معاشی ترقی ،غربت میں کمی اور کرپشن کے خاتمے کیلئے چین کو ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ سی پیک منصوبہ موجودہ اورآئندہ نسل کیلئے فائدہ مند ہوگا ۔

About Admin

Google Analytics Alternative