Home » کالم » مغر ب کے مذموم مقاصد!

مغر ب کے مذموم مقاصد!

آزادی سب سے بڑی نعمت ہے اور مملکت خداداد پاکستان اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ۔ آزادی کی قدر و قیمت ان کے پاس ہے جو اس وقت جد و جہد آزادی سے گزر رہے ہیں آزادی کے کچھ تقاضے بھی ہیں اور سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ آزادی کی معنوویت کو مد نظر رکھا جائے زبانی کلامی تو لفظ آزادی کا بڑا چرچا ہے اور اس لفظ کا استعمال بہت زیادہ کیا جاتا ہے مگر یہ لفظ قربانی کا متقاضی ہے مثلاً ملک کی معاشی حالت کمزور ہے اور قرضوں کا بوجھ ہے سب کی ذمہ داری ہے کہ ٹیکس ادا کریں اور ٹیکس چوری سے اجتناب کرے ۔ آزادی شطر بے مہار کی طرح نہیں ہے کہ جس کا جی چاہے وہ کرے بلکہ آزادی حدود وقیود اور دائرے کے اندر آزادی، آزادی ہوتی ہے ۔ ایسی آزادی جو اپنے دائرے کو چھوڑ کر دوسرے کے دائرے میں ہوجائے تو یہ آزادی نہیں بلکہ ظلم ہوجاتا ہے ۔ آج اہل مغرب نے آزادی کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ جاگیرداروں کو کھلی آزادی ہے کہ وہ زمین کا مالک ہونے کے نام پر کاشتکاروں کی محنت کو ہڑپ کریں اور انہیں قبر کی جگہ بھی نہ دیں آزادی نسواں کے نام پر عورتوں کو کھلی چھٹی ہے کہ جس طرح چاہیں جسمانی نمائش کریں ۔ اظہار رائے پر دوسرے مذاہب کی مقدس شخصیات کی توہین کریں ۔ جمہوریت کے نام پر سرمایہ کاری کریں اور پھر اقتدار میں جاکر جمور کے خون چوسنے کی کھلی آزادی اور اسی طرح سرمایہ کاری کی آزادی کے نام پر دوسرے ممالک کو لوٹنے کی کھلی آزادی ۔ لیکن نام کے رٹے کے بجائے معنوویت کو مدنظر رکھا جانا چائیے ۔ حقیقی آزادی معنوی ہے ۔ اسلام نے غلامی کے نام کو تو برقرار رکھا لیکن ان کو معنوی آزادی جس کی وجہ سے غلام حقوق میں آقا کے برابر ہوگیا اور آقا و غلام باری باری اونٹ پر سفر کرتے ۔ میرے خیال میں یہ مثال دنیا کا کوئی دوسرا نظام دینے سے قاصر ہے کہ غلام تخت شاہی پر متمکن ہوئے ہو ہندوستان جب اسلامی نظام تھا تو اس دور میں غلاموں نے کئی عشروں تک حکومت کی ۔ اسلام نے لامحدو د ملکیت کو معنوی طور پر ختم کیا اور فرمایا لوگ جو سونا اور چاندی اکٹھی کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ (عوام) پر خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناءو ۔ جس دن اس سونے اور چاندی کو گرم کرکے ان کی پیٹھوں ، چہروں اور پہلوءوں کو داغا جائے گا ۔ جاگیرداری کو معنوی طور پر ختم کیا اور اور قرآن سورۃ بقرہ میں فرمایہ جو زمین میں ہے وہ تم سب انسانوں کےلئے پیدا کیا گیا ہے ۔ حدیث میں فرمایا کہ جو مردہ زمین کو زندہ کرے وہ اسی کی ہے ، یعنی جو کاشتکاری کرتا ہے وہ اسی کی ہوتی ہے ۔ عورتوں کو بازار حسن اور اشتہار بننے کی آذادی کے بجائے حقیقی آزادی حقوق کی آزادی دی ۔ اور حقوق میں مردوں کے برابر کردیا اظہار رائے کی کے نام پر دوسروں کے باطل معبودوں کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو اس کے نتیجے میں وہ بھی اللہ کو دشمنی ، جہالت اور ظلم کی وجہ سے برا بھلا کہیں گے ۔ مجھے جس طرح اہل مغرب کے تھینک ٹینک سے نفرت ہے کہ وہ اچھے ناموں کو اپنے مذموم عزائم کے حصول کےلئے استعمال کرتے ہیں اسی طرح مجھے پاکستان کے ان انتہا پسندوں ، روشن خیالوں اور، رجعت پسندوں اور قدامت پرستوں سے بھی شکوہ ہے کہ وہ بھی اسلام کی مقدس اصطلاحوں کو تو استعمال کرتے ہیں لیکن ان اصطلاحوں کی روح اور معنویت مد نظر نہیں رکھتے اور ان کے اس عمل کا نتیجہ بھی مغرب کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے حق میں نکلتا ہے ۔ مثلاًاسی کی دہائی میں افغانستان میں مقدس عنوان کے نام پر جو کھیل کھیلا گیا اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی کو ہوا اور فائدہ امریکہ کو ۔ آزادی انسان کا حق ہے مگر حد سے تجاوز پھر زیادتی ہے ہر صورت میں اسلام اور شریعت کی تعلیمات اور روح کو مدنظر رکھنا چایئے ۔ لہٰذا میری تمام باشعور افراد سے گزارش ہے کہ وہ کسی نام سے خواہ ان کے ساتھ کتنے ہی اسلام کے لاحقے لگے ہو ان سے متاثر نہ ہو بلکہ ان سے حاصل ہونے والے نتاءج کو مدنظر رکھیں ۔ مثلاً اسلامی بینکاری، اسلامی ممالک کی تنظیم،آزاد ملک،آزادی اظہار،جمہوریت، شریعت بل وغیرہ کہ ان مقدس اصطلاحوں کو استعمال کر کے ہم نے ان کی آڑ میں اپنے مقاصد تو حاصل کئے آج تک کیا نتیجہ نکلا مذہب کو کتنا فائدہ ہوا اور عوام کو کیا حقوق ملے

About Admin

Google Analytics Alternative