Home » کالم » مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت جاری، 4 شہید

مقبوضہ وادی میں بھارتی بربریت جاری، 4 شہید

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے اورگزشتہ روز4کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا گیا۔کشمیری نوجوانوں کو ضلع پلوامہ کے علاقوں ہانجن پائین اور راج پورہ میں سرچ آپریشن اور محاصرے کے دوران شہید کیا گیا۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ گنز اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے اورضلع بھرمیں انٹرنیٹ سروس بھی معطل کردی گئی۔کشمیررواں ماہ 22 دسمبر کو بھی قابض بھارتی فوج نے ضلع پلوامہ میں گھر گھر تلاشی کے دوران 6 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن اور اقتصادی ترقی مسئلہ کشمیر کے پر امن حل سے مشروط ہے۔ برصغیر میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو باہمی طور پر ٹھوس پیش رفت کرنی ہوگی۔ دنیا میں دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اقوام متحدہ بااثر کردار ادا کررہا ہے جبکہ غربت ، عالمی معیشت کی بہتری کے علاوہ عالمی منڈی میں ہو رہی تبدیلیوں کے حوالے سے بھی اقوام متحدہ اپنی تمام ترتوجہ ان مسائل کے حل کی جانب مرکوز کئے ہوئے ہے۔ دنیا میں ابھی بھی تنازعات موجود ہیں جس کے نتیجے میں تشدد برپا ہوتا ہے۔ برصغیر میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اقوام متحدہ کیلئے باعث تشویش ہے لیکن دونوں ممالک کو عالمی امن کے مفاد کیلئے صبر و تحمل سے کام لینا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے دونوں ممالک کو اپنی کوششیں تیز کرنی ہونگی اور باہمی طور پر ہی اگر وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ عالمی امن کیلئے بھی نیک شگون ہوگا۔ اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے دونوں ممالک کو مدد دینے کیلئے ہمیشہ سے ہی تیار ہے اور اس سلسلے میں کئی بار پیش کش بھی کی گئی ہے۔ تاہم جب تک دونوں ممالک اس بات کیلئے آمادہ نہیں ہوتے اقوام متحدہ براہ راست مداخلت نہیں کر سکتا ہے۔ دونوں ممالک تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ٹھوس اور مثبت کوششیں کریں گے تاکہ برصغیر میں کشیدگی کا عنصر ہمیشہ کیلئے ختم ہو کر رہ جائیگا۔پاکستان کی خاتون سفیر نے اس ضمن میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق اور اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس مسئلے کے پر امن حل کیلئے کشمیریوں کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری رکھا جائے ۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں میں یہ بات واضح طور پر درج ہے کہ کشمیر خطے کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا تعین کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزدانہ اور غیر جانبدارانہ جمہوری عمل کے ذریعے رائے شماری کا حق دیا جائے گا۔تاہم انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”ان قراردادوں کو پاکستان، بھارت اور بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود آج تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا”۔ملیحہ لودھی کا مزید کہنا تھا”کشمیریوں نے نسل در نسل ٹوٹے ہوئے وعدے اور مسلسل جبرو زیادتیاں دیکھی ہیں ، وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ بڑے پیمانے پر جاری ہے۔ حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں ، کشمیری بچوں ،خواتین اور مردوں کو بدستور درپیش مصائب و مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان نے کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں کی عدم عمل آوری کو قانون اور اخلاقیات کا مذاق قرار دیکر کہا ہے کہ کشمیری بچوں اور مردوزن کو درپیش مصائب عالمی برادری کا اجتماعی ضمیر جھنجوڑنے کیلئے کافی ہیں اور حق خودارادیت کی جدوجہد کو دہشت گردی کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ خود ارادیت کا حق کشمیری عوام کا بنیادی اور ناقابل تنسیخ حق ہے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کی گئی قراردادوں کو فوری طور عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری عوام کے ساتھ اس عالمی ادارے کی طرف سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جاسکے۔حق خودارادیت کا استعمال جبر و زیادتی کے بغیر آزادانہ ماحول میں کیا جانا چاہئے۔ مثال کے طور پر غیر ملکی قبضے کی صورت میں ،اس بنیادی حق کی خاطرلوگوں کی جائز اور مبنی برحق جدوجہد کو اندھیرے میں یا ایک طرف رکھ کر جان بوجھ کر دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کی کوشش نہیں کی جانی چاہئے۔ جنوبی ایشیاء میں کئی دہائیوں پرانے جموں کشمیر کے مسئلے کو انہی بنیادی اور بین الاقوامی اصولوں کے تحت حل کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔ جنوب ایشیائی خطے میں پائیدار قیام امن کیلئے تنازعہ کشمیر کو مزید تاخیر کے بغیر حل کرنا انتہائی ناگزیر ہے۔ دنیا کے امن کو لاحق خطرے سے بچانے کے لیے عالمی برداری بھارت پر دباؤ ڈال کر کشمیرکا مسئلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے عین مطابق حل کرنے پر مجبور کرے۔بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں المناک مظالم جو امن عالم کے حوالے سے عالمی برادری کے سامنے ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی منظور کردہ قرار داد مسلسل عدم توجہی کا شکار ہے ۔پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے بھارت ،اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو اس حقیقت سے آگاہ کروائے کہ مسئلہ کشمیر میں اقوام متحدہ کا کردار ثالث کا نہیں بلکہ عمل درآمد کرانے والے فریق کا ہے ۔ثالثی تو اس وقت کرائی جاتی ہے جب فیصلہ کرانا ہو فیصلہ تو ہو چکا کہ مسئلہ کشمیر کا حل رائے شماری ہے۔

About Admin

Google Analytics Alternative