Home » کالم » مقبوضہ وادی میں پنڈتوں کی نئی مسلح تنظیم

مقبوضہ وادی میں پنڈتوں کی نئی مسلح تنظیم

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو علاقے میں ہندووَں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی ۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاوَمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی ۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاوَنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم ، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کےلئے بھارتی فوج کیا کم تھی جو ایک نئی مسلح پنڈت فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے وسط سے اب تک وادی میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 70 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی طرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو کوریج دینے کےلئے میڈیا پر مکمل پابندی ہے ۔ کشمیریوں کو نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کےلئے مسجد جانے سے روکا جاتا ہے حتیٰ کہ سال میں دو عیدین بھی سنگینوں کے سائے میں پڑھی جاتی ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا میں توجہ کا مستحق ہے ۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اسی لئے وہ کشمیری عوام پر اپنا جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کےلئے ہر قسم کے غیر قانونی و غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں ۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اگر جموں و کشمیر واقعی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اب تک وہاں کی عوام نے اس کو قبول کیوں نہیں کیا ۔ کشمیر جیسی صورتحال بھارت کی کسی اور صوبے میں کیوں نہیں ;238; یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہ تھا اور نہ بن سکتا ہے ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کارروائی بھی جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں ۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ آج بھی پاکستان اور بھارت اپنے وسائل کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کو حکومت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کوسالانہ اربوں روپے اپنے دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 19لاکھ کروڑروپے کے قریب ہے اور تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں 45 فیصدبچے خوراک کی کمی کے شکار ہیں ۔ بھارت کی سول سوساءٹی ، پالیسی ساز اداروں اور دانشوروں کو حقائق سے چشم پوشی کے بجائے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہے کہ مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہندوستان کے عوام معاشی بدحالی کے دلدل سے نہیں نکل سکتے ۔ طاقت کے بل پر کسی قوم کے جذبات کو زیادہ دیر نہیں دبایا جا سکتا اور بھارت کو چاہئے کہ دور اندیشی اور عقل سے کام لیتے ہوئے پاکستان اور کشمیری آزادی پسند قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں ۔ گوکہ پاکستان اس وقت اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے مگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے وعدے اوراپنی ذمہ داریوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ کا واویلا کر کے بھارت سمجھتا ہے کہ دنیا کو اس بارے یقین دلادے گا مگر دنیا کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج کے سربراہ نے سرحد پار دراندازی کو متواتر چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا ڈھانچہ بدستور منظم اور متحرک ہے اور تقریباً 42تربیتی کیمپوں میں مجاہدین کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود تربیتی کیمپوں میں جنگجوءوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے اور سرحدوں پر برف پگھلنے کے ساتھ ہی تربیت ہافتہ جنگجوءوں کو بھارتی حدود بالخصوص جموں و کشمیر میں دھکیلنے کی ایک بار پھر کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی اگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائن پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کشمیر کو آزادی دینا چاہتے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative