Home » کالم » مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

مقبوضہ کشمیر ،بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں ۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں جہاں 70 سال سے جنگ ہو رہی ہو، قتل و غارت کا ہر وقت بازار گرم ہو وہاں زندگی کی رونقیں کس طرح قائم رہ سکتی ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے ۔ اب تک بھارتی فوج 90 سے زائد کشمیری مجاہدین کو شہید کر چکی ہے اس کے علاوہ 35 عام شہریوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے ۔ ایک مسجد کو بھی بھارتی فوج نے نقصان پہنچایا ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے اپنے جانشین نامزد کر دیئے ہیں اور خود بھارتی فوج نے بھی مجاہدین کے خلاف آپریشن تیز کر دینے کا اعتراف کیا ہے جو دراصل کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو کچلنے اور انہیں بھارتی غلامی میں جکڑے رکھنے کی کوشش ہے ۔

بھارتی فوج پچھلے70 برسوں میں بھارتی اقلیتوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے اور فوج کے ساتھ ساتھ بھارتی حکومت بھی اس عمل میں برابر کے شریک ہیں ۔ اس وجہ سے اب تک بھارت میں ہزاروں کی تعداد میں اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ ہٹ دھرمی، میں نہ مانوں اور ظلم و ستم جیسے قانون صرف جنگ کے قانون میں ملتے ہیں ورنہ کوئی اسمبلی ایسا قانون پاس کرتی ہے تو وہ بھی کسی ملک کی نہیں بلکہ جنگل کی اسمبلی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج جسے چاہتی ہے قتل کر دیتی ہے اور جب چاہتی ہے انسانیت کا جنازہ نکال دیتی ہے ۔ اس سے بڑھ کر دہشت گردی اب کیا ہوگی کہ جسے چاہا قتل کر ڈالا اور جب چاہا عزت و آبرو کو پامال کر ڈالا ۔ مگرکسی کو بھارتی فوج کی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ اس لئے اب وہاں مہذب معاشرے کا تصور ہی مفقود ہو چکا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں تہذیب اس وقت آئے گی جب یہاں امن قائم ہوگا ۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک باہر سے نہیں بلکہ خود کشمیری بھارت کے تسلط سے آزادی چاہتے ہیں ۔ ایک تو ناجائز قبضہ اور پھر کہنا کہ در اندازی، بھارت خود دراندازی کے واقعات میں ملوث ہے ۔ بھارت کے فوجی معصوم کشمیری بچوں ، بوڑھوں اور خواتین کی عزتوں کو پامال کرنے میں مصروف ہیں ۔ بھارت کے فوجی وحشیانہ طریقے سے ظلم و ستم کے واقعات میں ملوث ہیں اور انسانی حقوق کی تنظی میں بھارت کی حکومت سے احتجاج کر رہی ہیں کہ وہ بھارتی فوج کے مظالم کو روکے ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے جو بھارتی فوجی پکڑے گئے تھے بھارت کی حکومت نے انہیں باعزت بری کر دیا تھا ۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے وزیر خارجہ کو ایک خط کے ذریعے احتجاج کیا تھا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ ان فوجیوں کو عدالتوں کے ذریعے سزا دلوائے لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔ اس سارے عمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ کشمیر کی تحریک دن بدن زور پکڑتی جارہی ہے جسے دبانے کیلئے بھارتی سکیورٹی فورسز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید ترین خلاف ورزیوں میں مصروف ہے اور کشمیری مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اور اندرا گاندھی کی نافذ کردہ ایمرجنسی کے علاوہ وہاں کبھی جمہوری عمل میں تعطل پیدا نہیں ہوا مگر یہ جمہوریت بھارت کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو باعزت زندگی کا حق نہیں دے سکتی ۔ یہ جمہوریت اقلیتوں کو حکومت سازی تو دور کی بات، ایک انسانی کی حیثیت سے سانس لینے کی اجازت نہیں دیتی ۔

مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں ، عیسائیوں اور سکھوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے ۔ بھارت میں مسلم کش فسادات اس سے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں مگر احمد آباد میں جو کچھ ہوا وہ درندگی، بربریت اور سفاکی کا بدترین مظاہرہ تھا ۔ دو ہزار سے زائد افراد کو زندہ جلا دیا گیا ۔ سات ہزار بچے یتیم کر دیئے گئے اور عورتوں کے ساتھ وہ برتاوَ کیا گیا کہ انہیں اپنے عورت ہونے پر شرم آنے لگی ۔ موت کے اس ننگے ناچ پر سارا عالم چیخ اٹھا لیکن بھارتی حکمران، فوج اور سیاستدان اس درندگی پر نازاں ہیں ۔

جنیوا میں ہونے والے انسانی حقوق کمیشن کے اجلاس میں انصاف پسند ممالک کو مظلوم قوموں کے حقوق کی پامالی روکنے اور انہیں ظلم و ستم سے نجات دلانے کےلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ اس طرح انسانی حقوق کمیشن کا اعتماد بحال ہوگا ۔ آج دنیا کی کوئی ایسی ہیومن راءٹس کی تنظیم دکھائی نہیں دیتی جس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم پر طویل تبصرے شاءع نہ کئے ہوں ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر قابل ذکر فورم میں اس حوالے سے درجنوں مباحثے ہو چکے ہیں اور متعدد مرتبہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے موجود قراردادوں پر عمل پیرا نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative