Home » کالم » مقبوضہ کشمیر بھارتی کالے قوانین کی زد میں

مقبوضہ کشمیر بھارتی کالے قوانین کی زد میں

گزشتہ چند روز سے بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہیجانی کیفیت پیدا کیے رکھی جس کے تحت بھارتی حکومت نے سیاحوں کو وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا ،انٹر نیٹ سروس اور لینڈ لائن فون بند کردئیے گئے ،زمینی رابطے منقطع کرنے کیلئے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذکیا گیا،اسکولوں میں امتحانات ملتوی اور اضافی بھارتی فوج تعینات کر دی گئی،تمام حریت قیادت کیساتھ ساتھ بھارتی حکومت کی منظور نظر کشمیر قیادت کو بھی نظر بند کیا گیا ،سوائے چند بھارتی وزیر و مشیروں کے کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کیا کرنے جا رہی ہے اور غیریقینی سی صورتحال کا یہ عالم تھا کہ کانگریس سمیت اپوزیشن کے چند اراکین نے باقاعدہ ٹویٹ اور بیان جاری کیے کہ معلوم نہیں بھارتی حکومت کیا کرنے جا رہی ہے مگر جتنی صورتحال خراب ہے اس سے بھارت کو ہی نقصان ہو گا،دوسری جانب بھارتی فوج نے ایل او سی پر مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی کا بازار گرم رکھا اور پاکستان کی سول آبادی کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنانے کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی حکومت نے ریاستی دہشتگردی عروج پر رکھی اور2روز میں مزید 11معصوم کشمیریوں کو شہید کر دیا،غرض یہ کہ بھارت نے صورتحال اتنی گھمبیر بنا دی کہ انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر کشمیریوں نے اقوام عالم کیلئے بیان جاری کیے کہ اگر ہم بچ نہ سکے تو ہ میں اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا،حریت رہنماسید علی گیلانی نے بھی ٹویٹ کیا کہ اگر آپ سب یونہی خاموش رہے اور ہم سب ماردئیے گئے تو اللہ کے حضورر آپ سب کو جوابدہ ہونا پڑیگاکیونکہ بھارت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی نسل کشی کرنے جار ہا ہے،اللہ ہ میں اپنی پناہ میں رکھے ۔ جب قابض فوج مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دے،لینڈ لائن فون سروس کو بھی بحال نہ کیا جائے،زمینی رابطے منقطع کر نے کیساتھ کرفیو نافذ کر کے 70لاکھ کی آبادی کو گھروں میں محصور کر کے رکھ دیا جائے تو پھر ایک دو نہیں بلکہ 70لاکھ افراد کے دل خوفزدہ ہونا فطری عمل ہے،یہ بات درست ہے کہ 70لاکھ کشمیری گزشتہ 72سالوں سے بھارتی ظلم و بربریت کے شکار رہے ہیں مگر صورتحال اتنی کشیدہ کبھی نہیں ہوئی کہ بھارت کے بڑے قومی اخبارات اپنے اپنے اداریوں میں بھارتی حکومت کو موجودہ صورتحال پر کشمیریوں اوربھارتی عوام کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کرتے نظر آئیں بلکہ بھارتی اخبارات کے اداریوں میں حکومت کویہاں تک کہا گیا کہ وفاق ہر سازش پر نظر ضرور رکھے مگر صورتحال غیر یقینی نہ رکھے ۔ غرض یہ کہ کسی کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے جا رہا ہے کشمیر کا ہر باشندہ ڈرا اور سہما ہوا تھا کہ پتا نہیں اب کی بار بھارت مقبوضہ کشمیر پر کونسے نئے ظلم کے پہاڑ توڑنے کی تیاری میں مصروف ہے اور پھر پیر کی صبح بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں پر ایک اور شب خون مار کر بھارتی تاریخ میں ایک اور سیاہ دن کا اضافہ کردیا کیونکہ بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ نے راجیہ سبھا میں ایک بل پیش کیا جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کونیم خود مختاری دینے والے آرٹیکل 370کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی جبکہ اس بل پر بھارتی صدر پہلے ہی دستخط کر چکے تھے یعنی صدارتی آرڈیننس پہلے ہی جاری کر دیا گیاتھا ۔ امت شاہ نے جو تجویز پارلیمان میں پیش کی اس کے مطابق جموں و کشمیر کی تنظیم نو کی جائے گی اور ;200;رٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد جموں و کشمیر اب مرکز کے زیر انتظام ریاست یا یونین ٹیریٹری ہو گی جن کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہو گی جبکہ لداخ مرکز کے زیر انتظام ایسا علاقہ ہوگا جہاں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی ۔ انڈین وزیرِ داخلہ کی جانب سے ;200;رٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے موقع پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی جانب سے شدید ردعمل سامنے ;200;یا ہے اور کشمیر میں بھی اس فیصلے پر سخت ردعمل کا اندیشہ ہے ۔ کشمیر سے کانگریس رہنما غلام نبی ;200;زاد نے ایوان میں کہا کہ ;39;ہم انڈیا کے ;200;ئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگادیں گے ۔ ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں ۔ ;200;ج بی جے پی نے اس ;200;ئین کا قتل کیا ہے ۔ پی ڈی پی کی رہنما محبوبہ مفتی نے ٹویٹ کیا کہ ;200;ج کا انڈیا کی جمہوریت میں سیاہ ترین دن ہے ۔ ;200;رٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کرنا غیر قانونی اور غیر ;200;ئینی ہے جس سے انڈیا جموں و کشمیر میں قابض قوت بن جائے گا ۔ اس اقدام کے برصغیر پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔ انڈیا کشمیر کے ساتھ کیے وعدوں پر ناکام ہو چکا ہے ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ بھارتی ;200;ئین کی شق 370 عبوری انتظامی ڈھانچے کے بارے میں ہے اور یہ ;200;رٹیکل ریاست جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت دیتا تھا ۔ انڈین ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 370 کی توثیق 1947 میں ریاست جموں و کشمیر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ نے کی تھی ۔ اس کے تحت ریاست کو اپنا ;200;ئین بنانے، الگ پرچم رکھنے کا حق دیا گیا تھا اور اس ;200;رٹیکل کے تحت دفاع، مواصلات اور خارجہ امور کے علاوہ کسی اور معاملے میں مرکزی حکومت یا پارلیمان ریاست میں ریاستی حکومت کی توثیق کے بغیر انڈین قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتی تھی ۔ اس ;200;رٹیکل کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے شہریوں کے لیے جائیداد اور شہریت کے قوانین بھی انڈین قوانین سے مختلف تھے اور انڈیا کا کوئی بھی شہری یا انڈین کمپنیاں چاہے وہ نجی ہوں یا سرکاری ریاست جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتیں اور سرکاری ملازمتوں پر بھی غیرکشمیریوں کا حق نہیں ۔ بھارتی حکومت پورے ملک میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کر سکتی ہے تاہم ;200;رٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر میں اس اقدام کی اجازت نہیں تھی مگر یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ بھارتی حکومت نے کبھی بھی آرٹیکل370کا احترام نہیں کیا اور مسلسل اس کی پامالی کی ۔ بھارت نے تو اپنے کالے کرتوتوں میں ایک اور کالے کرتوت کا اضافہ کر دیا جس کا اسکے سیاہ چہرے پر کوئی اثر نہیں پڑیگا تاہم پاکستان کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لیکر جائے اور فوری طور پر اقوام متحدہ سے رجوع کرے،پاکستان کشمیر پر ثالثی کی امریکی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کے حالیہ اقدام کو اقوام متحدہ میں لے جائے اور بہترین سفارتکاری کے ذریعے اس موقع کو معاملے کے حل میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے،پاکستان او آئی سی میں بھارتی باشندوں کیخلاف ایسی قانون سازی کرائے جس سے بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پورے بھارت میں کسی مسلمان پر ظلم کرنے کی ہمت نہ کرے،پاکستان او آئی سی پر واضح کرے کہ اب عملی اقدامات کا وقت ہے محض بیان بازی سے کچھ نہیں ہو گا ۔ پاکستان کو ماضی کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے اس بار معاملے کو فوری طور پر شنگھائی تعاون تنظیم میں اٹھانا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ بغیر تاخیر سارک ممالک کا اجلاس طلب کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں ،یورپی یونین اور برطانیہ کے سامنے بھی معاملہ رکھا جائے اور انھیں باور کرایا جائے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کا انجام دنیا کے امن کا خاتمہ ہو سکتا ہے ۔ پاکستان اپنے ہاں کشمیر کا اسٹیٹس تبدیل نہ کرے اور ایل او سی پر بھارت کو تگڑا جواب دے تاکہ اس کی نسلیں یاد رکھیں ۔ پاکستان دنیا میں بہترین سفارتکاری کا استعمال کرے اور لائن آف کنٹرول پر بہترین فوجی طاقت کو بروئے کار لائے ۔ وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے کالے قوانین سے نجات دلوائی جائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative