Home » کالم » مقبوضہ کشمیر میں 14 بیگناہ کشمیریوں کی شہادت

مقبوضہ کشمیر میں 14 بیگناہ کشمیریوں کی شہادت

مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ میں جاری بھارتی فوج کے ظالمانہ آپریشن میں 14 کشمیری شہید اور 235 زخمی ہو گئے ۔قابض فوج نے ہفتہ کی صبح فائرنگ کرکے تین کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا تھا جس کے ردعمل میں ہزاروں مظا ہر ین سڑکوں پر نکل آئے۔ جس پر قابض فوج اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔ بھارتی فوج کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں مزید14 شہادتیں ہوگئیں۔احتجاجی مظا ہر ے کے دوران 235 افراد زخمی بھی ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989 سے لے کر اب بھارتی فورسز کی ریاستی دہشتگردی کی وحشیانہ کارروائیوں میں 95238 بیگناہ کشمیری شہید ہوئے جن میں 7120 دوران حراست شامل ہیں۔ گزشتہ دنوں عالمی حقوق انسانی دن کے موقع پر جاری کی گئی ریسرچ رپورٹ کے مطابق ان شہادتوں کے باعث 11107 خواتین بیوہ اور 107551 بچے یتم ہوئے۔ اس دورانیے میں 11107 خواتین کی بیحرمتی کی گئی جبکہ 109191 رہائشی گھر تباہ کئے گئے۔ مذکورہ دورانیے میں بھارتی فوج اور پولیس کے زیر حراست8 ہزار افراد لاپتہ ہوئے۔ صرف رواں سال بھارتی فوج اور پولیس نے 350 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں ایچ ڈی اسکالرز، انجینئرز، طلباء حریت رہنما ، پروفیسر اور دیگر شامل ہیں۔ اس دورانیے میں کٹھ پتلی انتظامیہ نے حریت قائدین سید علی گیلانی ، میرواعظ ، یاسین ملک ، محمد اشرف صحرائی اور دیگر کو متعدد بار نظربند رکھا اور انہیں اپنی سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی نہ کرنے دی۔ 8 جولائی 2016 کو بھارتی فوج پر ہان وانی کو شہید کرنے کے بعد پرامن مظاہرین کو بھی بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں 846 مظاہرین شہید اور 25909 زخمی ہوئے۔ متحدہ مزاحت کے قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے پلوامہ میں فوج کی فائرنگ سے شہید سات شہریوں کے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے تین روزہ ہڑتال کی اپیل کی ہے۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کے قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اقوام عالم اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں پر زور دیاہے کہ وہ کشمیر میں جاری اس سرکاری دہشت گردی اور نسل کشی کو رکوانے کی خاطر ٹھوس اقدامات کریں اور اس میں ملوث بھارتی فوجی اہلکاروں کو عالمی عدالت میں کھڑ اکرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائے۔ پلوامہ اوراس کے ارد گرد دیہات میں کربلا کا سا سماں برپا ہے اور ہر طرف آہ و فغاں کا عالم ہے۔ حکومت ہند کے چہرے سے آج پردہ اْٹھ گیا اور اس کا یہ سفاکانہ منصوبہ طشت از بام ہوگیا کہ وہ کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کے درپے ہے۔ لیکن بھارت یاد رکھے کہ شہدا کے چھوڑے مشن کو زندگی کے آخری لمحے تک جاری رکھا جائے گا۔ بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ فی الوقت کشمیر میں 230 عسکریت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف آپریشن آل آؤٹ جاری ہے۔جبکہ پولیس کے مطابق اب تک 240 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو فوج کے ذریعے ہلاک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بھارتی فوجی ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والوں میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ظہور ٹھاکر سمیت3 عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔ شہری علاقوں میں بھارتی فوج نے بنکر بنا لئے ۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی فائرنگ سے 14کشمیریوں کے بہیمانہ قتل کی شدیدمذمت کی گئی اور کہا گیا کہ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا مذاق اڑارہا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 3ماہ کے بچے کا باپ بھی جاں بحق ہو گیا۔ پاکستان بھارتی فائرنگ سے شہادتوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کا مذاق اڑا رہا ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی روکنے کیلئے یو این انکوائری کمشن کا قیام ضروری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے اور وہاں کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ہیومن رائٹس کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کا نوٹس لیتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ خصوصاً فوج کے ناروا سلوک پر بھارتی حکومت کو نہ صرف سخت سرزش کی بلکہ اس کے حل پر زور دیا۔ لیکن بھارتی حکومت نے ان کے احکامات ہوا میں اڑا دیئے جس پر ہیومن رائٹس کمیشن کے چیئرمین نے استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا ادارہ SHRC جو کہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کیلئے قائم کیا گیا تھا وہ اپنے مقصد میں ناکام ہو چکا ہے۔ بھارتی فوجیں آئے دن معصوم کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر اذیت خانوں میں پہنچا کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیر کی تحریک کبھی کمزور نہیں ہو سکتی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ یہاں اپنا رول نبھائیں اور اقوام عالم کے اداروں میں بھارت کو ننگا کریں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری ہندوستان کی مختلف جیلوں میں شدید بیماریوں کا شکار برسوں سے بند پڑے ہیں، جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کشمیری قوم نے آج تکل ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کیلئے نہیں دی گئیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس شدہ اور تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کیلئے دی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جس کے ساتھ برصغیر کا امن جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کو حل نہ کیا جائے تب تک برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

About Admin

Google Analytics Alternative