Home » کالم » مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں مدغم کیا جائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ ابھی گزشتہ برس ہی مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے نریندر مودی سرکار کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے آرٹیکل 370 سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ آرٹیکل 370 بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا نظریاتی فریم ورک ہے ۔ عدالت کے مطابق دیگر راجواڑوں کی طرح جموں و کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 اے 1954 کے بعد جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی اور حکومت کے وضع کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو بھارتی پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت حاصل محدود خودمختاری کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی غیرکشمیری حتیٰ کہ کسی فوجی افسر کو لاکر آباد کیا جا سکتا ہے نہ اسے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے الیکشن سے پہلے اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا واضح عندیہ دیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مستقلاً ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے مودی اور ان کے حامی بی جے رہنماؤں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد مجریہ 21 اپریل 1948ء ، اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندو پاکستان مجربہ 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں کی گئی رائے شماری کے نتاءج کے مطابق پاکستان یا ہندوستان میں ریاست جموں اور کشمیر کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ریاست پر فوجی قبضہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی شقوں 39 تا 1947 کے تحت کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اسی عالمی تنظیم نے 1999 ء میں انڈونیشیا کی مشرقی تیمور سے علیحدگی کی مزاحمت پر اس ریاست کے خلاف کونسل کے ارکان کو ہر کارروائی کی ہدایت کر دی تھی جبکہ سلامتی کونسل کی چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضہ مستحکم کر لیا اور اس پر 6 لاکھ فوج ، نیم فوجی دستے اور پولیس کو مسلط کر دیا ۔ چنانچہ بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف مقامی آبادی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جب بھارت نے ان کے پر امن احتجاج کو کچلنے کےلئے فوجی ہتھکنڈے استعمال کئے تو مظلوم عوام قابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بین الاقوامی قانون مقبوضہ آبادی کو اپنا وطن آزاد کرانے کے لئے مسلح جدوجہد کا حق دیتا ہے لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں کشمیری عوام کی نسل کشی کرنا ہے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور بعض بڑی طاقتوں نے یہ موَقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو معاہدہ شملہ میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ یہ بڑی طاقتوں کی انتہائی بددیانتی اور پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی موَقف کو مانتے ہیں جس سے بھارت کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو طول دیتا جا رہا ہے ۔ اول تو معاہدہ شملہ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ فریقین کسی تنازع کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھا سکتے ، دوم یہ کہ اگر بالفرض ایسی کوئی شق ہوتی بھی تو وہ کالعدم ہو جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 103 کی روسے اگر کوئی معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو تو وہ نافذ العمل نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن ;737373; کے تحت سلوک کرے نہ کہ اپنے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون ;6570838065; کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کرے بھارت کو 80 ہزار کشمیریوں کے قتل پر بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative