4

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس

اسلام آباد: بھارت کی جانب سے مقبوضہ وادی کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد لائحہ عمل کی تیاری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری ہے۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی صدارت میں شروع ہوا جس میں ارکان اسمبلی سمیت وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر بھی شریک ہیں، وزیراعظم آزاد کشمیر نے اجلاس میں بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے بھارت کی جانب سے ایل او سی کی خلاف ورزی اور کلسٹر بموں کے استعمال پر بحث کے لیے تحریک پیش کی تاہم تحریک میں آرٹیکل 370 کے بنیادی معاملے کو شامل نہ کرنے پر اپوزیشن نے شدید احتجاج جس کے بعد اعظم سواتی نے آرٹیکل 370 کو بحث میں شامل کرنے کی ترمیمی تحریک پیش کی۔

اپوزیشن احتجاج؛

اپوزیشن کے مطالبے پر آرٹیکل 370 کے نفاذ سے پیدا شدہ صورتحال پر بحث کی تحریک منظور کرلی گئی اور اسپیکر نے بحث کے آغاز کے لئے شیریں مزاری کو مائیک دیا تاہم بحث کا آغاز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے نہ کروانے پر اپوزیشن نے احتجاج کیا جب کہ اپوزیشن نے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 20 منٹ کے لیے ملتوی کیا تاہم ہنگامہ آرائی کے باعث مشترکہ اجلاس کو مزید کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا گیا۔

اپوزیشن حکومت مذاکرات؛

مشترکہ اجلاس کا ماحول بہتر بنانے کے لیے اپوزیشن اور حکومت کے اسپیکرکی موجودگی میں مذاکرات ہوئے جس میں اپوزیشن کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، شازیہ مری اور ایاز صادق نے شرکت کی جب کہ حکومت کی جانب سے شفقت محمود، شیریں مزاری اور عامر ڈوگر شامل ہوئے تاہم حکومتی وفد اپوزیشن کو راضی نہ کرسکا۔

دوسری جانب اپوزیشن ارکان اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم سمیت غیر حاضر ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیےجائیں، ایم این اے اور وزیراعظم عمران خان کو جوائنٹ سیشن میں طلب کریں، ایوان کے تمام ارکان کو جوائنٹ سیشن میں آناچاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، پارلیمانی اجلاس کو پوری دنیا اور کشمیری دیکھ رہے ہیں، یہاں سے بھارت نے جو غلط فیصلہ کیا اس پر بڑا مثبت پیغام جانا ہے۔

وزیراعظم پالیسی بیان؛

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد اجلاس 4 بجے دوبارہ شروع ہوا تو وزیراعظم عمران خان نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ جنگ و جدل کا سب سے بڑا اثر معیشت پر پڑتا ہے، ہماری حکومت کی پہلی ترجیح پاکستان سے غربت کا خاتمہ تھا، اس لیے ہم چاہتے تھے کہ پڑوسیوں سے بہتر تعلقات ہوں، پلواما واقعے کے بعد بھارت کو سمجھایا کہ پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، بھارت کا پائلٹ پکڑا اور فوری واپس کردیا کیونکہ ہمارا جنگ کا کوئی ارادہ نہیں تھا تاہم بھارت ہماری امن کی کوشش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مودی نے الیکشن مہم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے، اپنے ملک میں جنگی جنون پیدا کیا تاکہ اینٹی پاکستان مہم چلاکر الیکشن جیت سکیں، ہم نے سوچا کے بھارت میں الیکشن کے بعد اس سے بات کریں گے، بھارت نے پہلے سے ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، بھارت نے کل جو اقدام اٹھایا وہ ان کا انتخابی منشور کا حصہ تھا۔

شہباز شریف کا مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال؛

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ 71 سال میں کسی کی جرات نہیں تھی کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرے لیکن مودی نے یہ کردیا، مودی سرکار نے صرف کشمیر میں نہ صرف حقوق نہیں چھینے بلکہ پاکستان کی غیرت اور عزت کو للکارا ہے، اور اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے اور پوری مہذب دنیا کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

شہبازشریف نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا خطرہ ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گھروں میں نظر بند کردیا گیاہے، کشمیر کی صورتحال پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے،کشمیر میں جو کچھ ہوچکا ہے اس پر روایتی مذمت اور متفقہ اور قرارداد سے کام نہیں چلے گا، ہمیں ٹھوس فیصلہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کو پتہ چل سکے کہ ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے، ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں، ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب ہمیں کشمیر پر ڈٹ جانا چاہیے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر ہاتھ ڈالا ہے ہمیں اس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہیئں۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم؛

واضح رہے کہ مودی سرکار نے صدارتی فرمان جاری کرتے ہوئے بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کوختم کردیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی علاقہ کہلائے گی جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں