Home » کالم » مقبوضہ کشمیر ۔۔۔بھارتی عزائم کیا ؟
asgher ali shad

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔بھارتی عزائم کیا ؟

asgher ali shad

رواں ہفتے بھی مختلف واقعات میں پانچ کشمیری بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے اور یہ مکروہ سلسلہ شدت سے جاری و ساری ہے۔ انسان دوست حلقوں کے مطابق دہلی سرکار کی جانب سے نہتے کشمیریوں کو دبانے اور ان کی نسل کشی کے لئے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی آئین میں مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی شہریت کے حق سے متعلق دفعہ 35A کا مسئلہ غالباً تنازعہ کشمیر سے بھی پرانا ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس قانون کی رُو سے مقبوضہ ریاست کی حدود سے باہر کسی بھی علاقے کا شہری ریاست میں غیرمنقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا، یہاں نوکری حاصل نہیں کرسکتا اور نہ کشمیر میں آزادانہ طور سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔یاد رہے کہ یہ قوانین ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 سے 1932 کے درمیان مرتب کیے اور ان ہی قوانین کو 1954 میں ایک صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ آئین ہند میں شامل کرنے کا ڈرامہ رچایا گیا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت کی موجودہ برسر اقتدار کٹر انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گذشتہ 71 سال سے کشمیر سے متعلق بھارت آئین میں موجود اُن تمام حفاظتی دیواروں کو گرانا چاہتی ہے جو مقبوضہ جموں کشمیرکو دیگر بھارتی ریاستوں سے منفرد بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر مقبوضہ ریاست کا اپنا آئین ہے اور ہندوستانی آئین کی کوئی شق یہاں نافذ کرنی ہو تو پہلے مقامی اسمبلی اپنے آئین میں ترمیم کرتی ہے اور اس کے لیے اسمبلی میں اتفاق رائے ضروری ہوتا ہے۔حالانکہ مقبوضہ ریاست کی خودمختاری کی اب وہ صورت نہیں رہی جو 71 سال قبل تھی۔ یہاں آزاد کشمیر کی طرح وزیراعظم ہوتا تھا اور صدرِ ریاست ہوتا تھا۔ لیکن اب دیگر بھارتی صوبوں کی طرح گورنر اور وزیراعلی ہوتا ہے۔ تاہم 35A کی آئینی شق ابھی بھی مقبوضہ ریاست کے باشندوں کو بھارتیوں کی بے تجاشا آبادکاری سے بچارہی ہے۔ اسی شق کو بی جے پی کی حامی این جی او ‘وی دا سٹیزنز’ نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ انڈین سپریم کورٹ میں اس کیس کی سماعت کئی سال سے ہورہی ہے اور اکثر اوقات سماعت موخر ہوجاتی ہے۔ آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فرد یا جماعت بھارتی آئین کی کسی شق کو انڈین سپریم کورٹ میں چیلنج کرے تو حکومت ہند عدالت میں اس کا دفاع کرتی ہے۔ لیکن نریندرمودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ یہ امر سبھی پر عیاں ہے کہ بی جے پی بھی چاہتی ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر کا بھارت کے ساتھ مکمل انضمام ہو، لہذا دہلی سرکار اس معاملے میں خاموش ہے اور 35A کو ختم کرنے کی ہر ممکن سعی میں مصروف ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈین سپریم کورٹ یا تو ایک وسیع آئینی بینچ کا تعین کرکے اس معاملے پر دوبارہ غور کرے گی اور بعد ازاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ 35۔A کو بھارتی پارلیمنٹ میں بحث اور توثیق کے لیے ریفر کیا جائے۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں کو بجا طور پر یہ خدشہ ہے کہ اگر آئینِ ہند میں موجود یہ حفاظتی دیوار گر گئی تو وہ فلسطینیوں کی طرح بے وطن ہوجائیں گے، کیونکہ کروڑوں کی تعداد میں ہندو آبادکار یہاں بس جائیں گے، جو ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پر قابض ہوجائیں گے۔واضح ہو کہ یہ خدشہ صرف حریت پسند حلقوں تک محدود نہیں۔ بھارت نواز سیاسی حلقے بھی اس دفعہ کے بچاو میں پیش پیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر ہی نہیں بلکہ کارگل اور جموں کے سبھی مسلم اکثریتی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے ماہرین نے کہا ہے کہ دراصل بی جے پی کشمیر کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ کشمیریوں کے حریت پسند جذبات کی بنیادی وجہ دفعہ 35۔A ہے، اسے ختم کیا گیا تو سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ کیونکہ بعد میں یہاں کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب حد درجہ گھٹ جائے گا۔ بھارت نواز جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر 1947 میں ایک خودمختار ریاست تھی جس نے بعض اختیارات ایک الحاق نامہ کے تحت بھارت کو دے دیے۔ ان میں دفاع، مواصلات اور کرنسی ہیں۔نیشنل کانفرنس کے رہنما فاروق عبداللہ نے بجا طور پر دہلی کے حکمرانوں کو تنبیہہ کی کہ اگر 35A کو ختم کیا گیا تو (نام نہاد) الحاق بھی ختم ہوجائے گا۔ اس تناظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ دہلی کے قابض حکمران گروہ نے کشمیری عوام پر ہر حوالے سے عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور نہتے شہریوں کو بدترین ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر ان کی صحیح رُو کے مطابق عمل درآمد کرائے علاوہ ازیں مقبوضہ ریاست میں جاری انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا سلسلہ فی الفور بن کرایا جائے۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative