Home » کالم » مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ کچھ ہونے والا ہے !
asgher ali shad

مقبوضہ کشمیر ۔۔۔ کچھ ہونے والا ہے !

مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس کی شدید لہر پائی جاتی ہے ۔ یوں تو یہ سلسلہ گذشتہ 72 سال سے ہی جاری ہے مگر پچھلے دو دنوں کے دوران مقبوضہ وادی میں صورتحال نے جو دھماکہ خیز شکل اختیار کی ہے، وہ اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی ۔ جن شہریوں کے ہاں شادیوں کی تاریخیں طے تھیں ، انھیں منسوخ کیا جا چکا ہے ۔ سوشل میڈیا پر دہلی سرکار کا مقبوضہ کشمیر کے ضمن میں جو حکم نامہ وائرل ہوا اس میں ہدایات درج تھیں کہ اپنے گھروں میں راشن جمع کر رکھیں اور پیسے پاس رکھیں ۔ پیٹرول پمپ پر شہریوں کی طویل قطاریں اور راشن کی دکانوں کے باہر ایک جم غفیر جمع ہے، کیونکہ یہ حقیقی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقبوضہ ریاست لمبے عرصے کیلئے زندگی معطل ہو کر رہ جائے گی ۔ سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی، فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ سمیت ہر خاص و عام کی زبان پر یہ الفاظ ہیں ’’ 15 اگست تک یا اس کے فوراً بعد کچھ ہونے والا ہے‘‘ ۔ 2 اگست کو محبوبہ مفتی نے ساڑھے 8 بجے رات ہنگامی پریس کانفرنس کی اور کہا کہ ’’ میں نے ایسا خوفناک ماحول اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا، حالانکہ اسلام میں ہاتھ جوڑنا منع ہے‘ لیکن میں ہاتھ جوڑتی ہوں کہ ایسا کچھ نہ کیا جائے جس سے حالات ایسے بگڑیں کہ پھر سنور نہ پائیں ، مودی جی آپ تو کشمیریوں کے دل جیتنے کی بات کرتے ہیں پھر یہ کیا کیا جا رہا ہے، ہر فرد ہراس میں مبتلا ہے‘‘ ۔ بھارت کی 15 ویں کور کے کمانڈر ڈِھلوں نے سرینگر میں ایک روز قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 83 فیصد کشمیری لڑکے جو پتھر بازی کرتے ہیں وہ ’’دہشت گرد‘‘ بن جاتے ہیں ، حکومت کےخلاف ہتھیار اٹھانے والا 10 دنوں کے اندر مار دیا جاتا ہے ‘‘ ۔ یاد رہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں امر ناتھ یاترا کرنے والوں سمیت تمام سیاحوں کو فی الفور وادی سے نکل جانے کا حکم جاری کیا گیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا، ہمیشہ سے ;828383; اور بی جے پی کا دیرینہ ایجنڈا رہا ہے ۔ مگر مودی سرکاری تہیہ کر چکی ہے کہ 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا جائے ۔ اس لئے وہاں 35 ہزار فوجی بھجوائے جا چکے ہیں اور ان کی تعداد کو مزید بڑھایا جائے گا، تا کہ آرٹیکل 35 ;65; پر حملے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اٹھنے والی مزاحمت کی شدید لہر پر قابو پانے کی سعی کی جا سکے ۔ ممکن ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کی سنگینی اور عوام کے غم و غصہ کو دیکھتے ہوئے دہلی کے حکمران اسے وقتی طور پر ملتوی کر دیں مگر بہرحال یہ ان کے ایجنڈے پر سرفہرست ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔ اسی وجہ سے 15 اگست سے قبل مقبوضہ کشمیر میں کسی خوفناک طوفان کی آمد محسوس کی جا رہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی کے حکمرانوں نے ہمیشہ یہ ثابت کی ہے کہ انہیں دوستانہ انداز میں کہی بات سمجھ نہیں آتی ۔ بدقسمتی سے بعض افراد اور گروہوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ولیل اور منطق کو سامنے والے کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ویسے تو یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ زیادہ تر لوگ قوت کو ہی سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں مگر اس ضمن میں ہندوستان کی تاریخ پر ذرا سی بھی نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں کے حکمران طبقات ہمیشہ سے ہی قوت کے پجاری رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ ہر وہ شے جو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے، کی پوجا شروع کر دیتے ہیں مثلاً آگ ، سانپ اور مختلف درندے وغیرہ، شاید ایسی وجہ سے ماضی میں سینکڑوں برس بھارت دوسری قوموں کے زیر نگیں رہا ہے ۔ مگر اب جبکہ 72 برسوں سے اسے آزادی میسر آئی ہے تو وہ اپنے چھوٹے ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر اور پاکستان اور چین کے خلاف بھی توسیع پسندانہ عزائم اختیار کر کے گویا اپنی صدیوں کی غلامانہ محرومیوں کی تسکین کا خواہش مند ہے ۔ مگر بھارت کے بالا دست طبقات اس تلخ حقیقت سے جانے کیوں صرف نظر کر رہے ہیں کہ اس روش کے نتاءج کبھی بھی کسی کے حق میں اچھے نہیں ہوتے ۔ اس تناظر میں موثر عالمی قوتیں بھی اپنی سطحی اور وقتی مصلحتوں کی بنا پر بھارت کی جرمانہ روش سے چشم پوشی کرتے ہوئے غالباً اجتماعی انسانی غلطیوں کی مرتکب ہو رہی ہے، اسی وجہ سے مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد خود بھارت کے اندر بھی بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی بھارتی تعلقات کسی طور قابل رشک نہیں ۔ اس تناظر میں غالباً ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک جانب وطن عزیز کی سول سوساءٹی سمیت تمام طبقات یک زبان ہو کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کی جانب اپنی تمام تر صلاحتیں صرف کریں ، اس بابت محض یورپ اور امریکہ پر تکیہ نہ کیا جائے بلکہ خود بھارت کے اعتدال پسند حلقوں تک اپنی بات تسلسل اور مضبوط ڈھنگ سے پہنچائی جائے، تبھی توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ معاملہ منصفانہ ڈھنگ سے اپنے

About Admin

Google Analytics Alternative