Home » کالم » ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد(2)
rana-biqi

ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد(2)

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ

جہاں بی جے پی کی انتہا پسند حکومت نے ہندوستان میں گؤ ماتا کے تحفظ کے نام پر بھارتی مسلمانوں کے قتل عام کیساتھ ساتھ بابری مسجد کی تباہی کے بعد جنوبی ایشیا کی تاریخ سے مسلم سلاطین اور مغلیہ بادشاہوں کے دور کے خاتمے کا پروسس بھی شروع کر دیا ہے جس کیلئے پاکستانی میڈیا اور ریاستی اداروں کو چوکس رہنے اور عوام الناس کو باخبر رکھنے کی ضرورت ہے ۔
اِس تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے کہ گذشتہ کئی برسوں سے تحریک پاکستان کی جدجہد کے عظیم مقاصد کوسبوتاژ کرنے اور اکھنڈ بھارت کے مخصوص مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے موجودہ بھارتی حکومت جس شد و مد سے پاکستان میں تخریب کاری پھیلا رہی ہے اُسے ہمارے اربابِ اختیار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ صد افسوس کہ پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر قائداعظم کی جانشین جماعت کے کچھ عاقبت نااندیش مسلم لیگی سیاسی رہنما جن میں نااہل وزیراعظم بھی شامل ہیں ، ذاتی مفادات اور بھارتی انتہا پسند وزیراعظم مودی سے ذاتی دوستی کو مہمیز دینے کیلئے بھارتی لابی کے پروپیگنڈے کے زیر اثر تحریک پاکستان کی ویژن کو شعوری یا غیر شعوری طور پر نقصان پہنچانے کیلئے افواج پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے کردار کو متنازع بنانے میں پیش پیش ہیں جس کا بنیادی مقصد عوام کو تصادم کی راہ پر لگانا ہے جس کا بروقت تدارک کرنے کی ضرورت ہے ۔دریں اثنا ، بھارتی سیاسی و سماجی دانشوروں کی جانب سے پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششیں تو کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن صد افسوس کہ اِس منظم بھارتی پروپیگنڈا مہم کا منہ توڑ جواب دینے اور نئی نسل کو تحریک پاکستان کے حقائق سے آگاہ کرنے کیلئے قائداعظم کی جانشین جماعت کی جانب سے ریاستی سطح پر نہ تو مربوط کوششیں کی جا رہی ہیں نہ ہی پاکستان کے صوبوں، ضلعوں اور تعلقہ و تحصیلوں میں ریاستی سطح پر ایسے سرکاری یا نیم سرکاری فورم تشکیل دئیے گئے ہیں جو سول سوسائٹی میں مملکت پاکستان کی اساس کے بارے میں تیزی سے پھیلنے والے بیرونی پراپیگنڈے کا مناسب توڑ کر سکے۔ نظریہّ پاکستان کے حوالے سے لاہور میں جناب مجید نظامی مرحوم کی فکر سے وابستہ نظریہ پاکستان کی تنظیم تو آج بھی متحرک نظر آتی ہیں لیکن سرکاری اداروں میں پاکستان کی اساس کے حوالے سے خاموشی طاری ہے جبکہ بھارتی سرکاری و غیر سرکاری دانشور نہ صرف نجی و سرکاری میڈیا میں منظم ڈِس انفارمیشن کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستانی نئی نسل کے ذہنوں کو مسخر کرنے کیلئے متحرک ہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں بھارتی سیاسی و سماجی دانشوروں کی جانب سے قائداعظم کو سیکولر قرار دینے اور بّرصغیر جنوبی ایشیا کو ایک سیاسی اکائی (اکھنڈ بھارت) قرار دیتے ہوئے پاکستانی نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے میں بدستور مصروف ہے لیکن مسلم لیگی پاکستانی سویلین حکومت ریاستی سطح پر بھارتی ڈِس انفارمیشن کے اِس تاثر کو ذائل کرنے کی کوشش میں کہیں فعال نظر نہیں آتی ہے ۔ اِس حقیقت کو نہیں بھلانا چاہئیے کہ بھارت نے آئینی طور پر تو سیکولر ریاست کا لبادہ اُوڑھا ہوا ہے لیکن بنیادی طور پر بھارت ایک متعصب ہندو ریاست ہے جہاں مودی حکومت نہ صرف اقلیتوں، بل خصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور کنٹرول لائین پر فائرنگ کو بھی روز مرہ کا معمول بنا لیا ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی جن کا نام تقسیم ہند کے وقت بھارتی دہشت گرد تنظیم راشتریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس آیس) کے نوجوان فدائین میں ہوتا ہے اور جن کا نام مبینہ طور پر آر ایس ایس کے اُن چند انتہا پسند ہندوؤں میں ہوتا ہے جو ماسٹر تارا سنگھ کے سکھ دہشت پسندوں کیساتھ مل کر یوم آزادی کی تقریبات کے موقع پر کراچی میں بم دھماکے کر کے قائداعظم کو قتل کرنے کی مبینہ سازش میں ملوث تھے ۔ اِس سازش کا انکشاف پاکستان کی آزادی سے چند ہفتے قبل برطانوی پولیس سپیشل برانچ پنجاب کے چیف جیرالڈ سیوج نے کیا تھاچنانچہ اِس سازش کے انکشاف کے بعد جب معاملہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک پہنچا تو اُنہوں نے ایک ٹاپ لیول کانفرنس میں سے سردار پٹیل کو بھی اِس انکشاف سے آگاہ کر دیا جو مبینہ طور پر اِس سازش کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ چنانچہ آر ایس ایس کے فدائین اور ماسٹر تارا سنگھ کے سکھ دہشت گرد یوم آزادی سے چند روز قبل تھر پارکر بارڈر عبور کر کے بھارت فرار ہو گئے تھے۔
اِس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارتی لابی کچھ پاکستانی سیاسی و سماجی دانشوروں کی حمایت سے آجکل بھی قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتِ گرامی کو سیکولر ثابت کرنے کے گمراہ کن پروپیگنڈے میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ قائداعظم کی دستور ساز اسمبلی میں 11 اگست 1947 کی تقریر کو سیکولرازم کے حوالے سے معنی پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے ، بل خصوص اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے قائداعظم کی ذات کو سیکولر بنیادوں پر اچھالنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔ برصغیر میں مسلم تہذیب و تمدن سے نابلد یہ ثقافتی دوغلے جناح کی ذات پر کیچڑ اُچھالتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ11 اگست کی تقریر میں قائداعظم نے وہی باتیں دھرائی تھیں جن کا تذکرہ وہ 1937 سے شروع ہونے والی تحریک پاکستان کے دوران اقلیتوں کے حقوق کیلئے اسلامی فکر کے حوالے سے کرتے رہے تھے اور جنہیں اب غلط معنی پہنانے میں روشن خیالی کے نام پر میڈیا میں موجود بھارتی سیاسی و سماجی لابی سے متاثر یہ ثقافتی دوغلے آج بھی پیش پیش ہیں حتیٰ کہ اِسی فکر کو آگے بڑھانے کیلئے بی جے پی کے سابق بھارتی وزیر خارجہ جسونت سنگھ جو ایل کے ایڈوانی (سابق بھارتی ڈپٹی وزیراعظم) کے ہمراہ پاکستان کی آزادی سے چند روز قبل تھر بارڈر عبور کرکے بھارت چلے گئے تھے، نے چند برس قبل لکھی اپنی کتاب: ” جناح ، بھارت ، تقسیم اور آزادی” کے ذریعے جو اِس کتاب کی رونمائی کیلئے خاص طور پر پاکستان آئے تھے نے بھی اِس پروپیگنڈے کو آگے بڑھانے میں خاص کردار ادا کیا ۔ اِس کتاب اور دیگر بھارتی سیاسی دانشوروں کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر کچھ پاکستانی طالب علم اور سیاسی دانشور قیام پاکستان کے حوالے سے غلط نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن کی تشفی کیلئے سیاق و سباق کیساتھ جواب دیا جانا ضروری ہے ۔
جسونت سنگھ نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی اکھنڈ بھارت پالیسی کے پیش نظر کرپس تجاویز اور 1946 کے کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائداعظم کے تقسیم ہند کے اصولی موقف کو نئے معنی پہنانے کی کوشش کرتے ہوئے سیاسی طور پر قائداعظم کو متحدہ ہندوستان کا حامی قرار دینے اور تقسیم ہند کی ذمہ داری BJP کی مخالف سیاسی جماعت کانگریس کی لیڈرشپ یعنی نہرو ، گاندہی اور سردار پٹیل پرڈالنے کی کوشش کی ہے ۔ بلاشبہ جسونت سنگھ انتہا پسند ہندو دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کے سیاسی ونگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن ہیں جس کی سربراہی اب انتہا پسند ہندو لیڈر نریندر مودی کر رہے ہیں ۔ کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان جس پر 1946 میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی تھی ، ایک ایسا موضوع ہے جس پر جسونت سنگھ سے قبل دیگر بھارتی سیاسی دانشور بشمول مولانا ابولکلام آزاد ، راج موہن گاندہی اور ایچ ایم سیروائی سیر حاصل گفتگو کر چکے ہیں چنانچہ پاکستانی مصنفہ عائشہ جلال بھی انڈیا آفس لائبریری کے متنازع ریکارڈ اور اِن مصنفوں کی کاوشوں سے متاثر ہوکر ایسے ہی متنازع امور پر بھارتی فکر کو مہمیز دیتی رہی ہیں ۔ حیرانی کی بات ہے کہ کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوا لے سے قائداعظم کے اصولی موقف کو سمجھنے کی کوشش کئے بغیر یہ تاثر دینے کی کوشش کرنا کہ قائداعظم نے تقسیم ہند کے تصور کو قطعی طور پر پس پشت ڈال دیا تھا ، انتہائی لغو خیال ہے ۔ تقسیم ہند کے موقع پر موجود ہندوستانی کانگریسی لیڈرشپ بشمول گاندہی جی ، جواہر لال نہرو اور سردار پٹیل اپنے دور کے شاطر ترین سیاست دان تھے۔ اُنہوں نے کرپس تجاویز اور کیبنٹ مشن پلان کے حوالے سے قائداعظم کی جانب سے پیش کی جانے والی شرائط کا نوٹس ضرور لیا تھا ۔ گاندہی اور نہرو کو درج بالا برطانوی تجاویز پر جناح کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کے پس پردہ دس سالہ طویل المعیاد منصوبے کے تحت ہندوستان میں چھ مسلم اکثریتی صوبوں / علاقوں یعنی مکمل پنجاب ، سرحد، سندھ ، بلوچستان ، مکمل بنگال اور مکمل آسام پر مشتمل ایک گریٹر پاکستان بنتا نظر آ رہا تھا لہذا ، اُنہوں نے جنوبی ایشیا میں ایسی کسی بھی اسکیم کو ہندو مفادات کے منافی سمجھتے ہوئے بلاآخر اِن تجاویز کو مسترد کردیا تھا چنانچہ اِس برطانوی اسکیم سے راہ فرار اختیار کرنے کے باوجود کانگریسی لیڈر شپ ہر قیمت پر قائداعظم کو تقسیم ہند کے مطالبے سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن وہ جناح کو مسلم قومی ریاست کے اصولی موقف سے ہٹانے اور قائد کی قیادت میں مسلمانوں کی یکجہتی ختم کرنے میں ناکام رہے ۔ کانگریسی لیڈر راج گوپال اچاریہ نے تقسیم ہند کے مطالبے سے قائداعظم کو پاکستان کے مطالبے سے ہٹانے کیلئے اُنہیں کانگریس کی جانب سے مکمل اتھارٹی کیساتھ متحدہ ہندوستان میں وائسرائے کی کابینہ کے وزیراعظم کے طور پر قبول کرنے کا اعلان بھی کیا تھاجبکہ تحریک پاکستان کے آخری مرحلے پر اِسی حربے کو استعمال کرتے ہوئے مہاتما گاندہی نے متحدہ آزاد ہندوستان کے وزیراعظم کا عہدہ قائداعظم کو پیش کرنے کی کوشش کی لیکن قائداعظم نے مسلمانوں کی علیحدہ مملکت یعنی پاکستان سے کم کسی تجویز سے اتفاق نہیں کیا ۔
(۔۔۔جاری ہے)

About Admin

Google Analytics Alternative