Home » کالم » ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد(3)
rana-biqi

ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد(3)

rana-biqi

گزشتہ سے پیوستہ
جسونت سنگھ اکھنڈ بھارت کے حامی ہیں اور اُنہوں نے قیام پاکستان کے 60 برس کے بعد یہ کتاب لکھی ہے ۔اُن کا تعلق عمر کوٹ سے رہا ہے اور وہ سابق وفاقی وزیر رانا چندر سنگھ کے فسٹ کزن ہیں لیکن وہ اکھنڈ بھارت کے ایک اور فدائی ایل کے ایڈوانی کے ہمراہ تقسیم ہند سے کچھ روز قبل ہی ہجرت کرکے بھارت چلے گئے تھے ۔ جسونت سنگھ نے مبینہ طور پر بھارت جاتے ہوئے عمرکوٹ میں راجپوت قبیلے کے چیف رانا چندر سنگھ کو بھی بھارت جانے کیلئے کہا لیکن رانا چندر سنگھ جو پاکستان میں وفاقی وزیر بھی رہے ہیں یہ کہتے ہوئے اُن کیساتھ جانے سے انکار کر دیا کہ اُنہیں قائداعظم پر مکمل بھروسہ ہے۔ یہ اَمر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد مارچ 1972 میں جب ایل کے ایڈوانی ہندو فرقہ پرست جماعت جن سنگھ کے صدر تھے تو اُنہوں نے نئی دہلی میں پاکستانی صحافی محمود شام کوانٹرویو دیتے ہوئے یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ اُن کی پارٹی واقعی اکھنڈ بھارت کی حامی ہے اور بنگلہ دیش و پاکستان کو پُرامن طریقے سے بھارت میں شامل کر کے اکھنڈ بھارت بنانا چاہتی ہے ۔ ایڈوانی کا کہنا تھا کہ وہ ابتدائی طور پر پاکستان و بنگلہ دیش میں عوامی مباحثہ کے ذریعے یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی کارن کوئی ملک دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ہو جیسے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی ، اگر کوئی اُنہیں ملانے کی بات کرے تو اُسے غلط نہیں سمجھا جاتا ۔ آپس کے تصادم کی پالیسی پر ہمار کثیر سرمایہ خرچ ہوتا ہے جبکہ جغرافیائی طور پر ہم ایک اکائی ہیں اور ہمارا موقف یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر بّرصغیر پُرامن طور پر سیاسی وحدت بن جائے ۔ہم اِسے کنفیڈریشن سے شروع کرینگے ، قدرتی وسائل کو یکجا کیا جائے گا ، تینوں ملکوں کی فیڈریشن قائم کی جائے گی اور اکھنڈ بھارت بن جائے گا ۔ دراصل جسونت سنگھ کی کتاب کا مقصد بھی ایڈوانی کی اِسی فکر کو عوامی مباحثہ کیلئے پاکستان تک پہنچانا مقصود تھا تاکہ قائداعظم محمد علی جناح کو سیکولر اور تقسیم ہند کو بے معنی قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام کو قائل کرنے کیلئے جنوبی ایشیا کو سیاسی وحدت قرار دیتے ہوئے نئے عوامی مباحثے کو جنم دیا جائے اور پاکستان میں ہم خیال افراد کی مدد سے اکھنڈ بھارت کے تصور کی دبی ہوئی چنگاریوں کو جگانے کی کوشش کی جائے لیکن یہ کوشش پاکستان میں جسونت سنگھ کی کتاب کی رونمائی کرنے کے باوجود عوام الناس میں متوقع بحث کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کر سکی ۔ کیا نریندر مودی اب پاکستانی نا اہل وزیراعظم کے ذریعے عوامی تصادم کو مہمیز دیکر اِسی فکر کو ہوا دے رہا ہے، اِس پر ہمارے فکر و نظر رکھنے والے اداروں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے؟

آئیے ایک نظر اِس اَمر پر ڈالتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے حوالے سے قائداعظم کے سیکولر ہونے کے پراپیگنڈے کی کیا حقیقت ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت ہند کے زمانے میں قائداعظم نے اپنا سیاسی سفر اُس وقت کی واحد سیاسی جماعت کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہی شروع کیا تھا لیکن جب وہ کانگریس میں تھے تب بھی اور بعد میں جب وہ مسلم لیگ میں آئے تب بھی اُن کی بہترین صلاحیتیں ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی بحالی کی آواز بلند کرنے کے حوالے سے ہی سامنے آتی رہی ۔ یہ درست ہے کہ قائداعظم 1929 میں مسلم زعماء کی آپس کی چپقلش کے باعث چند سال کیلئے لندن چلے گئے تھے لیکن اُن کی غیرموجودگی میں علامہ اقبال کو 1930 کے خطبہ الہ آباد میں ہندوستان میں مسلمانوں کی مستقبل کی مملکت کے بنیادی خدوخال کی وضاحت کرنے کا موقع ملا ۔ بہرحال علامہ اقبال چونکہ فلسفی شاعر ہونے کے ناطے قومی ویژن کے خالق تھے ، لہٰذا ، اُنہوں نے مسلم لیگ کی صدارت کے دوران محسوس کیا کہ مسلمانانِ ہند کی قیادت قائداعظم سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا چنانچہ علامہ اقبال نے قوم کا درد رکھنے والے چند دیگر قائدین بشمول لیاقت علی خان قائداعظم کو ہندوستان واپس آ کر قوم کی قیادت سنبھالنے کا مشورہ دیا ۔ قائداعظم واپس آئے ، مسلم لیگ کی تنظیم ء نو کی اور 1937 میں تحریک پاکستان کی ابتدا کی ۔ تحریک پاکستان کی دس سالہ تاریخ گواہ ہے اور تحریک کے دوران قائداعظم کے سینکڑوں بیانات اُن کی فکر و نظر کے شاہد ہیں لہذانوجوان نسل کی تشفی کیلئے قائد کی تقریروں کے چند اقتباسات ہی کافی ہیں جن کے مطالعہ سے ہندوستان میں قائداعظم کے اسلامی فکر و نظر اور تشخص کے بارے میں کسی اور وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی :

(1) 15 اکتوبر 1937 میں لکھنؤ کے خطبہ صدارت میں قائداعظم نے فرمایا ، آٹھ کروڑ مسلمانوں کو خائف ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اُن کی تقدیر اُن کے اپنے ہاتھوں میں ہے اور وہ ایک متحد ، ٹھوس ، اور منظم طاقت کی حیثیت سے ہر خطرے اور مزاحمت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، مسلمانوں ، تمہارے اپنے ہاتھوں میں ساحرانہ قوت موجود ہے ، اب تمہیں اپنے اہم فیصلوں پر ڈٹ جانا چاہئیے ۔
(2) 26 دسمبر 1938 میں ہندو واردھا سکیم پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پٹنہ میں قائداعظم نے فرمایا کہ ہندو ذہنیت اور ہندو نظریہ کی ترویج کی جا رہی ہے اور مسلمانوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں اِسے قبول کرنے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے ۔کیا مسلمانوں نے کہیں بھی ہندوؤں کو اسلامی ثقافت پڑھانے کی کوشش کی ہے لیکن اِس کے باوجود اگر مسلمان کہیں خفیف سی آواز بھی بلند کرتے ہیں کہ ہندو ثقافت کیوں ہمارے سر منڈھے جا رہی ہے تو اُنہیں فرقہ پرست اور اور شورش انگیز ٹھہرایا جاتا ہے ۔
(3) 22 جون 1939 میں مسودہء قانون مال گزاری پر ہندو اکثریت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : تمہاری تعداد سب سے زیادہ ہوا کرے اور تم سمجھا کرو کہ سروں کی گنتی ہی آخری فیصلہ ہے لیکن تم ہماری روح کو کبھی فنا کرنے میں کامیاب نہیں ہو گے ، تم اس تہذیب کو مٹا نہ سکو گے ، اُس اسلامی تہذیب کو جو ہمیں ورثہ میں ملی ہے ۔ ہمارا نور ایمان زندہ ہے ، زندہ رہا ہے اور زندہ رہے گا ، تم ہمیں مغلوب کرو ، ہمارے ساتھ بدترین سلوک کرو ، ہم ایک نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر مرنا ہی ہے تو ہم لڑتے لڑتے مر جائیں گے۔
(4) 13 نومبر 1939 میں یوم عید کے موقع پر قائداعظم نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : ہمیں قرآنی دلائل کی روشنی میں اپنے اخلاق و عقائد کو درست کرنا چاہئیے اور اِسی روشنی میں حق و صداقت کی جستجو بھی کرنی چاہئیے ، اگر ہماری صداقت پرستی بے لاگ ہے تو ہم ضرور اپنی منزل کو پا لیں گے ۔ صداقت کے راستے پر چلتے ہوئے ہمیں اتنے ہی حصے پر قناعت کرنی چاہئیے جس کو ہم دوسروں کی حق تلفی کئے بغیر حاصل کر سکتے ہیں ، آخر میں میری یہ تاکید نہ بھولنا کہ اسلام ہر مسلمان سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنی قوم کیساتھ مل کر اپنا فرض ادا کرے ۔
(5) 25 فروری 1940 میں قائداعظم نے مسلم لیگ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ہمارا مقصد کیا ہے ، اگر اب بھی تم نے ہمارا مقصد نہیں سمجھا تو میں کہونگا کہ تم کبھی نہ سمجھ سکو گے ، یہ بالکل صاف ہے ، برطانیہ عظمیٰ ہندوستان پر حکومت کرنا چاہتا ہے ، مسٹر گاندہی اور کانگریس مسلمانوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہم نہ برطانیہ کو اور نہ مسٹر گاندہی کو مسلمانوں پر حکومت کرنے دیں گے ، ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں ۔
(6) 23 مارچ 1940 میں لاہور میں تاریخی خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے قائداعظم نے فرمایا : قومیت کی تعریف چاہے کسی انداز میں کی جائے ، مسلمان ہر طرح سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور اِس بات کے مستحق ہیں کہ اُن کی علیحدہ اور خود مختار ریاست ہو ۔ ہم مسلمان چاہتے ہیں کہ کہ ہندوستان کے اندر ہم ایک آزاد قوم کی حیثیت سے اپنے ہمسائیوں کیساتھ امن و امان کی زندگی بسر کریں ، ہماری تمنا ہے کہ کہ ہماری قوم اپنی روحانی ، اخلاقی ، اقتصادی ، معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشو نما بخشے اور وہ طریق عمل اختیار کرے جو اُس کے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے عطیاتِ قدرتی اور نصب العین سے ہم آہنگ ہو ۔ اے خادمانِ اسلام ، اپنے اربابِ ملت کو اقتصادی ، سیاسی ، تعلیمی ، اور معاشرتی تمام پہلوؤں سے منظم کرو ، پھر تم دیکھو گے کہ تم یقیناًایسی قوت بن گئے ہو جس کی طاقت ہر شخص تسلیم کرے گا ۔
(۔۔۔جاری ہے)

About Admin

Google Analytics Alternative