Home » کالم » ملکی ضرورت
Mian-Tahwar-Hussain

ملکی ضرورت

Mian-Tahwar-Hussain

ہم ماشاء اللہ ایسی قوم ہیں جو کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی مشکلات ناگہانی سرپر پڑ جائیں تو پھر عمل کی بجائے پہلے دعاؤں کا سہارا لیتے ہیں کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے اور ہمیں اس مشکل سے نکال لے عمل کی طرف آنے میں کتراتے ہیں ۔ کھابے کھانے سے فرصت نہیں ملتی پورے ملک میں اتنی فوڈ سٹریٹس قائم ہوچکی ہیں کہ حلال جانور بھی پناہ مانگتے ہونگے کہ کیا مصیبت ہے یہ قوم روزانہ ہماری نسل کی واضح تعداد نگل کر فضلہ بناتی رہتی ہے۔ ہنسی مذاق قہقہے اور کھانا زندگی کا اہم مشغلہ بن چکا ہے ، پانی جو زندگی کی بنیاد ہے اسکے کم ہونے یا ضیاع ہونے یا پھر سیلاب کی صورت اختیار کرنے پر کوئی توجہ ہی نہیں دیتے نہ وافر پانی کو ذخیرہ کنے کی سہولتیں قائم کیں اور نہ ہی اس نعمت خداوندی کے کم ہونے کی صورت میں لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ اللہ کے خزانوں میں کبھی کمی نہیں آسکتی زمین پانی پر ہی قائم ہے لیکن جب اس کا بے دریغ استعمال کیا جائے تو پانی کی سطح کئی کئی فٹ نیچے چلی جاتی ہے ، میں نے پہاڑی علاقوں میں دیکھا ہے خواتین کئی کئی میل دور جاکر مشکل راستوں سے گزر کر دو گھڑے پانی سر پر رکھ کر گھر لاتی ہیں مجھے یقین ہے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں رہنے والے جی بھر کے پانی بھی نہیں پیتے ہونگے کیونکہ اسکا انتظام کرنا دودھ کی نہر بہانے سے کم نہیں ، کسی چیز کیلئے ہمارے بڑے جن کو اللہ نے عقل سمجھ بوجھ اختیارات دے رکھے ہیں وہ بجلی پانی اور ڈیمز بنانے کیلئے کئی کئی گھنٹے کی میٹنگ کرتے ہیں اور ان شعبوں میں نہ ختم ہونے والی کمی پر قابو پانے کیلئے تجاویز پر مشتمل موٹی موٹی کتابیں چھاپ دیتے ہیں لیکن نہ تو ان تجاویز پر عمل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ان زخم سفارشات کو غور سے پڑھنے کی زحمت گوارا کرتا ہے۔ اکثر معاملات سیاسی رنگ اختیار کرلیتے ہیں اورپھر صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے بیانات آنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ کالا باغ ڈیم اسکی ایک واضح مثال ہے، کئی ممالک نے بجلی پانی اور ڈیمز جنکا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے خصوصی توجہ اور وسائل کو مختص کرنے کے بعد ملکی معیشت کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا ، ہمارے ہاں ماہرین اگرچہ پانی کو ذخیرہ کرنے اور ڈیمز بنانے کی ضرورت پر توجہ مبذول کراتے رہے ہیں لیکن حکومتی بے بسی اور غفلت کی وجہ سے صوتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ حکومتیں بڑے بڑے دعوے کرتی رہیں لیکن حقیقی اقتصادی ترقی دیکھنے کو نہ ملی تاکہ زراعت اور صنعت مضبوط ترین ہوکر عوامی زندگی میں ترقی اور خوشحالی کے بند دروازے کھول سکتی ۔ غربت کی لکیر سے نیچے جانے والوں کی تعداد کم ہوتی ، تعلیم صحت کی وافر سہولتیں ہر فرد کو میسر آسکتیں ، آپکو یقیناً یاد ہوگا کچھ عرصہ ہوا ایک رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا تھا کہ ملک میں ڈیمز کی تعداد نہ بڑھنے کی وجہ سے اور پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کی صورت میں ملک میں ایسے حالات پیداہونے کے خدشات ہیں جسکی وجہ سے سرسبز اور شاداب علاقے ریگستان میں تبدیل ہوسکتے ہیں ۔ حکومتی عدم دلچسپی اور توجہ نہ دینے کی روش نے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کو بھی پریشان کردیا اور انہوں نے اسے انسانی بنیادی حقوق اور اجتماعی مفاد عامہ کے تحت خصوصی توجہ دی ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بجلی پانی اور ڈیمز کی تعمیر جیسے معاملات ملک کی سلامتی اور بقاء کے موضوع ہیں ۔ ہندوستان جو پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس نے ہمیشہ فوجی جارحیت کا ارتکاب تو کیا ہی ہے لیکن اب وہ پانی کو روک کر پاکستان کے علاقوں کو بنجر بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس دشمن ملک کی جارحیت اب ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ دریائی پانی کے حوالے سے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی ناکام کوششیں بارشوں کے پانی کو ذخیرہ کرنے میں ہماری غلطیوں اور عدم توجہی نے اور مشکلات پر قابو پانے کی بجائے بڑی حد تک اضافہ کیا ہے اب ہم اس مقام پر آچکے ہیں جہاں نہ صرف ہماری زرخیز زمینیں بنجر ہونے کے خدشات سے دوچار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسانوں اور جانوروں کیلئے بھی پانی کی کمی کے خوفناک سائے منڈلا رہے ہیں، کراچی اس صورتحال کی ایک واضح تصویر ہے جہاں پانی کا ایک برتن بھرنے کیلئے لوگ مارے مارے پھرتے ہیں۔ واٹر مافیا منہ مانگی قیمت وصول کررہا ہے کوئٹہ میں زیر زمین پانی کم ترین سطح پر ہے ایسی صورتحال میں بجلی پیدا کرنے میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ، پانی سے پیدا ہونے والی بجلی کے نرخ دو روپے فی یونٹ ہوسکتی ہے اوردیگر ذرائع سے حاصل کی گئی بجلی کی قیمت فی یونٹ گیارہ روپے کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ کالا باغ ڈیم جوکہ ملکی ضرورت ہے اسے سیاست کے غلاف سے الگ کرکے دیکھنا ہوگا سیاسی راہنماؤں کو صوبائی سیاست سے آگے بڑھ کر ملکی معیشت اور اسکے مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ امریکہ اوربھارت کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ایسی صورتحال سے نہ صرف سفارتی بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ ایسے الزامات کا واضح اور مثبت توڑ کیا جائے ۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے اور دشمنوں کے عزائم ہمیشہ خاک میں ملتے رہیں۔

 

 

About Admin

Google Analytics Alternative