Home » کالم » ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام خوش آئند اقدام
adaria

ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام خوش آئند اقدام

کسی بھی ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں تعلیمی نظام بنیادی حیثیت رکھتاہے چونکہ ہمارے ملک میں ابھی تک فرنگی کا نظام تعلیم راءج ہے جس کے نقصانات ہی نقصانات ہیں ، اس طبقاتی تعلیمی نظام نے غریبوں پرترقی کے راستے مسدود کردئیے ہیں ۔ اب اصل حکومت کا امتحان یہ ہے کہ آیا ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام راءج ہوسکے گا ۔ کیونکہ یہاں تو ایسے بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی ادارے یا دیگر تعلیم دینے والے سکول کالج ہیں جن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پر جلتے ہیں کیا اعلیٰ طبقے کے لوگ برداشت کرسکیں گے کہ غریب کا بچہ اے سی ، ڈی سی یا بڑا افسر بنے ۔ حکومت اگر اس اقدام پر صحیح طرح عملدرآمد کرلیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی ۔ وزارت تعلیم کے زیر انتظام دینی مدارس کے طلبا میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انگریزوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کا تعلیمی نصاب ختم کیا انگریزی نظام تعلیم نے معاشرتی تقسیم پیدا کی اسی وجہ سے اردو نظام تعلیم کے ذہین طلبہ کی اکثریت اوپر نہیں آ سکی،انگریز کا بنایا گیا طبقاتی تعلیمی نظام ختم کریں گے ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم راءج کیا جائے گا ایک ہی ملک میں تین قسم کا تعلیمی نصاب بڑی نا انصافی ہے ۔ تعلیم سے دوری کی وجہ سے مسلمان تنزلی کا شکار ہوئے یکساں نظام تعلیم ترقی کے لئے ضروری ہے مدارس کے طلبا کو بھی جدید تعلیم کے ذریعے اوپر آنے کا موقع ملے گاتعلیم کا مقصد پیسہ بنانا نہیں ہونا چاہئے وزیرتعلیم سے کہوں گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں اقبالیات کا مضمون لازمی پڑھایا جائے ،آج ہر جگہ مسلمان قتل ہو رہے ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افراد کو کھلی جیل میں بند کردیا گیا ہے پاکستان، ترکی اور ملائیشیا مسلمانوں کی تاریخ اور موقف دنیا کے سامنے پیش کرنے کےلئے ٹی وی چینل شروع کریں گے ۔ 700 سال تک دنیا کے ممتاز ترین سائنسدان مسلمان تھے، مسلمانوں نے تلوار نہیں بلکہ علم کی وجہ سے ترقی کی دینی مدارس کے طلبا کو بھی دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم کے حصول کا موقع دیاجائے گا تاکہ وہ بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوسکیں کیونکہ اس وقت صرف انگریزی نظام تعلیم حاصل کرنے والے ہی اوپر آسکتے ہیں علامہ اقبال نے مشرق اور مغرب کی تہذبوں کا موازنہ کیا،علامہ اقبال کو سمجھنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی کیا تاریخ اور طاقت تھی اور کس طر ح وہ دنیا پر چھا گئے ۔ تعلیمی نظام میں یکسانیت لا کر تحقیق کی راہ ہموار کی جائے ہر پاکستانی کو ہر طرح کی تعلیم دی جائے، اسلام ہ میں انسانیت کا درس دیتا ہے، تعلیم سے کوئی بھی قوم انسانیت کی طرف جاتی ہے دین ہ میں تعلیم اور انسانیت سکھاتا ہے ۔ ایسی فل میں بنائی جائیں جن کے ذریعے بچوں کو اپنے عروج کا علم ہو ۔ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی تاریخ سے آگاہی کےلئے اسی طر ح کی ایک فلم بنائی ہے ، تعلیمی نظام کو بہتر بنا یاجائے ۔ جب ایک نصاب ہو گا تب ہم ایک قوم بن سکیں گے اور ہمارے اندر تقسیم نہیں ہوگی اور ہر پاکستانی کو ترقی کا موقع ملے گا ۔ موجودہ تعلیمی نظام کے تحت اکثریت اوپرنہیں آسکتی ۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت بدھ کو اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں پر پیش رفت کے ساتھ ساتھ معیشت کے دیگر اہم شعبہ جات میں چین سے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے پر تفصیلی غور کیا گیا ۔ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے اجلاس کو سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر پیش رفت اور مختلف منصوبوں پر عمل درآمدکی رفتار کو تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا ۔ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے سی پیک کے اہم منصوبے مین لائن ۔ ون (;7776;-1) پر اب تک کی پیش رفت اور منصوبے کے ممکنہ ثمرات سے شرکا کو آگاہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاک چین دوستی کامظہر ہے سی پیک منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور ان منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ خطے میں سی پیک گیم چینجر ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی تکمیل سے نہ صرف پاکستان بلکہ متعدد ممالک میں ترقی نمایاں طورپرنظرآنا شروع ہوجائے گی اور سی پیک پاکستان کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہے، ۔ اس کی تکمیل انتہائی ضروری ہے اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا بھی ہے تو انہیں یہ جان لیناچاہیے کہ وہ ملک دشمن عناصر کے ساتھ ملاہوا ہے، چین کی ترقی پوری دنیا کےلئے نہ صرف قابل مثال بلکہ قابل تقلیدبھی ہے ۔ گوکہ چین نے پاکستان سے بعد میں ترقی حاصل کی لیکن وہ آج دنیا کی بڑی سپرپاورز میں شامل ہے ۔

مہنگائی کنٹرول نہ ہوسکی، عوام پریشان حال

مہنگائی ہے کہ کنٹرول ہونے میں نہیں آرہی ۔ پہلے ہی وزیراعظم اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بڑھنے پر ناراض ہوئے تو اب بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ۔ پاکستان بیورو آف شماریات نے بھی تسلیم کیاہے کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوام پرپھر بجلی گرادی گئی ہے،اگست کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں ایک روپے 66 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے جس سے صارفین پر 22 ارب 60 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑے گا ،دواءوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیاجبکہ ملک میں مہنگائی پچھلے سال کی نسبت بڑھ گئی ہے ، پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق مہنگائی کی شرح میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد اضافہ ہوا ہے ، سبزی، چائے، آٹے، آلو، تازہ دودھ ، دال، تیل ، گھی کی قیمتیں بڑھ گئیں ۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ اگست کے مہینہ کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیاہے، اضافے سے300 سے زائد یونٹ استعمال کرنے والے بجلی کے صارفین پر22 ارب 60 کروڑ روپے کا بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی طرف سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی درخواست پر کیا ہے ۔ فیصلے کا اطلاق زرعی صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہو گا، ایک روز قبل ہی حکومت کی جانب سے ایک سال کیلئے بجلی 53 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی، حکومتی اقدام سے صارفین پر سالانہ 53 ارب 52 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا ۔ نیپرا نے ایک روپے66 پیسے کا اضافہ کیا جبکہ اس سے 1;46;8672 روپے کے اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔ سی پی پی اے نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگست میں پانی سے 40;46;33 فیصد، کوئلے سے 13;46;34 فیصد جبکہ مقامی گیس سے 11;46;87 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 22;46;89 فیصد بجلی پیدا کی گئی ۔ فرنس آئل سے 3;46;60 فیصد اورایٹمی ذراءع سے 4;46;66 فیصد بجلی پیدا ہوئی ۔ حکومت کی طرف سے دودن میں پاور ٹیرف میں دو بار اضافے سے ایسے صارفین جو تین سو یونٹس سے زائد بجلی استعمال کرتے ہیں جن میں کمرشل اور اندسٹریل دونوں شامل ہیں کو اکتوبر کے بلوں میں 2روپے19پیسے اضافے کا سامنا ہے ۔ دریں اثنا دو اساز کمپنیوں نے ادویات کی قیمتوں میں 5سے7فیصد اضافہ کر دیا ہے ۔ فارما کمپنیوں کے مطابق یہ اضافہ سالانہ مہنگائی کی شرح کے تناسب سے کیا گیا ہے، کمپنیوں کے مطابق مہنگائی کی شرح کے لحاظ سے حکومت نے سالانہ فارمولا طے کر رکھا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں سات اور دیگر کی قیمتوں میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔ ہول سیلرز کے مطابق اضافے کے ساتھ ادویات مارکیٹ میں پہنچا شروع ہو گئی ہیں ۔ اُدھرپاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق ماہ ستمبر میں ملک میں مہنگائی کی شرح گزشتہ برس ستمبر کے مقابلے میں 12;46;55 فیصد بڑھ گئی ہے ۔ اگست 2019 میں مہنگائی کی شرح 11;46;63 فیصد تھی ۔ نئے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح 11;46;37 فیصد بڑھی اور پرانے پیمانے کے مطابق مہنگائی کی شرح میں 12;46;56 فیصد اضافہ ہوا، اگست 2019کے مقابلے میں مہنگائی میں 0;46;77 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔ اگست کے مقابلے میں شہروں میں جن اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں سبزیوں کی قیمت میں 15;46;78 فیصد، پیاز 10;46;86 فیصد پتی 8;46;15 فیصد، دودھ کی اشیا میں 4;46;74 فیصد، گندم میں 1;46;92 فیصد، گندم کے آٹے کی قیمت میں 3;46;22 فیصد، آلو 3;46;16 فیصد، تازہ دودھ 2;46;83 فیصد، دال چنا 1;46;41 فیصد، خوردنی گھی 1;46;3 فیصد، گڑ 1;46;16 فیصد اور دال مسور کی قیمت میں 1;46;11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

گرتی ہوئی معیشت اور

تاجر برادری کے تحفظات

ملک کی سرکردہ کاروباری شخصیات نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے راولپنڈی میں عشائیے میں ملاقات کی اور انہیں معاشی محاذ پر پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا ۔ بزنس کمیونٹی نے معاشی جمود سے آگاہ کیا جس میں جی ڈی پی کی افزائش انتہائی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھتی جارہی ہے اور اس کے نتاءج کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں رک گئی ہیں ۔ کاروباری طبقے نے آرمی چیف کو شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے انہیں اپنا بزنس معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ تاجروں نے اپنی مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار کے مختلف یونٹس بند ہوتے جا رہے ہیں ، اگر مسائل فوری طور پر حل نہ ہوئے تو پورے کے پورے کاروبار بند ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں ملازمین کی بھی چھانٹی کرنے پڑے گی ۔ لیبر کا بھی روزگار ہمارے کاروبار سے ہی وابستہ ہے ۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ ہم نے جو مال تیار کر رکھا ہے اس کا کوئی خریدار نہیں مل رہا، حالات کی بہتری کے حوالے سے دور دور تک امید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ۔ پاکستان بننے کے بعد سے کاروباری طبقے نے ملک کی ترقی اور بہتری کیلئے جو محنت کی ہے اور مختلف ادوار میں آنے والے نشیب و فراز کا جس طرح سامنا کیا ہے وہ ساری محنت رائیگاں جائے گی ۔ اس موقع پرآرمی چیف نے کہا پاکستان سے ہ میں محبت ہے، آپ کاروباری لوگوں کی پاکستان کیلئے جو خدمات اور قربانیاں ہیں اس سے سب آگاہ ہیں ، آپ کی کوششوں سے ہی ملک آگے چلے گا ۔ آرمی چیف نے کہا کہ آپ کی پریشانیاں سن کر مجھے بے انتہا ہمدردی ہے اور میں ان کے حل کیلئے ضرور ہر ممکن کوشش کروں گا ۔ انہوں نے تاجروں کے وفد سے کہا کہ آپ حکومت سے مکمل تعاون کریں اور حکومت مخالف کسی بھی قوت کی حمایت نہ کریں ، آپ کے مسائل حل کیے جائیں گے ۔ بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کرنے والے اداروں میں پیداواری صلاحیت گزشتہ کئی مہینوں سے زوال کا شکار ہے ۔ ٹیکسٹائل سیکٹر مطلوبہ معیار کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا رہا کیونکہ زیرو ریٹنگ کے خاتمے کے بعد ٹیکس کا بوجھ بڑھ چکا ہے ۔ یاد رہے چند ماہ قبل آرمی چیف نے کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں سے ملاقات کی تھی اور اس وقت ان سے کہا تھا کہ اگر آپ کے مسائل حل نہ ہوں تو آپ براہِ راست مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative