Home » کالم » ملک میں آئین وقانون کا تماشا۔کب تک چلے گا

ملک میں آئین وقانون کا تماشا۔کب تک چلے گا

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 8 نومبر2018 کومسیحی خاتون’آسیہ مسیح کیس’کا اہم فیصلہ صادرہوااْس فیصلے کے مندرجات زیر نظرکالم میں ہماراموضوع نہیں ہیں، چونکہ مذکورہ کیس کے مدعی فریق نے سپریم کورٹ آف پاکستان لاہوررجسٹری میں نظرثانی کی اپیل دائر کردی ہیلہذاء4 اب یہ’کورٹ میٹر’ہے ظاہر ہے کہ کورٹ میٹر’پرنہ تو کالم لکھا جاسکتا ہے نہ ہی تبصرہ کیا جاسکتاہے لیکن اس کیس کا براہ راست تعلق بہت حساس اور مذہبی نکتہ نظرسے جڑا ہوا ہے کہ کھیتوں میں کام کرنے والی ایک مسیحی خاتون پراْس کی ساتھی خواتین نے یہ اہم’ ذمہ داری ‘عائد کی کہ یہ مسیحی خاتون اْن کے سامنے’ گستاخی رسول‘ کی مرتکب ہوئی ہے یوں یہ کیس کئی سالوں سے شیخوپورہ کے ضلعی کورٹس سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ لاہور تک پہنچاجس میں ماتحت عدالتوں نے اس مسیحی خاتون کوسزائے موت سنائی جس کے نتیجے میں آخری اپیل کے لئے یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان کے سامنے آگیا 8 نومبر 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے تین رکنی بینچ نیماتحت عدالتوں کی سزا کو رد کردیا ناکافی شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ دیا کہ ‘شہادتیں ثابت نہیں کرسکیں کہ واقعی اس مسیحی خاتون نے شان رسالت میں گستاخی کی ہے’اس موضوع پرقلم اْٹھانے کی راقم کو اس لئے ضرورت پیش آئی ہے کہ 8 نومبرکے بعد کے د دودن تک سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس فیصلہ کی آڑمیں چند نام نہادمذہبی علماء نے دنیا بھرمیں پاکستان کوبحیثیت اسلامی ریاست کے تماشا بنائے رکھا پور ے ملک کے عوام کو بے پناہ مشکلات کاسامنا کرناپڑا، یہی نہیں بلکہ مذہبی اشتعال انگیزی کو جی بھر کے ہوا دی گئی، ملک میں انارکی پھیلائی گئی، عوام کی دکانیں لوٹی گئیں، خوف پھیلا گیا کرڑوں رو پے مالیت کی قیمتی گاڑیاں’ٹرکس’موٹرسائیکلز اور املاک نذرآتش کی گئیں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا یہ بلاوجہ کا احتجاج کیوں کیا گیا اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگئی؟ ہے کسی کے پاس ان سوالوں کے جواب؟ گزرے 72 گھنٹوں میں بحیثیت ایک ذمہ داراسلامی ریاست کیدنیا کے روبرو ہماری کیا پہچان ہوئی ملکی اعلیِ عدالتوں کا ہم پاکستانی احترام کرتے ہیں یا نہیں؟کوئی معاشرہ اْس وقت تک مہذب اورمثالی نہیں کہلا سکتا جب تک وہاں قانون کی عملداری اورملکی آئین کے احترام کا دوردورہ نہ ہوقانون کی عملداری سے مراد یہ ہے کہ پورانظام حکومت اورقومی اداروں کے تعلقات کارملکی آئین اور قانون کے تابع ہوں پاکستان میں آئین ہے قانون ہےآئین کیدائرے میں پارلیمنٹس وجود میں آتی ہیں پارلیمنٹس کیامور رواں دواں ہیں ہرقومی ادارہ اپنیتفویض کردہ آئینی حدود میں ریاست کی سلامتی اورمعاشی ترقی کویقینی بنانیمیں سرگرم عمل ہے اور جمہوری ادارے متحرک ہیں ایسے میں 8 نومبرکوسپریم کورٹ آف پاکستان سے جاری ہونے والے فیصلے میں ایسے وہ کون سے سقم باقی رہ گئے تھے جن پر چند مذہبی گروہوں نے ازخود یہ تسلیم کرلیا کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے آسیہ مسیح کیس کے فیصلے میں انصاف نہیں کیا؟ سپریم کورٹ آف پاکستان ایک آزاد آئینی ادارہ ہے جبکہ آسیہ مسیح کیس کے مدعی کے وکیل نے فیصلہ آنے کے فورا بعد پریس کو بیان جاری کردیا تھا کہ اْن کے پاس ابھی ایک موقع ہے وہ اس فیصلے کیخلاف اپیل میں جاسکتے ہیں اوروہ اپیل میں گئے ہیں ایسی صورت میں ملک کے امن وامان کو تہہ وبالا کیوں کیا گیا جن ‘رہنما عناصر ‘ نے اس دوران میں اعلی معززعدالتوں کے فیصلہ دینے والے ججز کے قتل کے ‘فتوے’ جاری کیئے کیا اسلامی قانون اور انصاف کی رْو سے اُنہیں عوام کواس وحشت زدہ پیمانے پراکسانا جائزتھا؟ آئینی حکومت کی رٹ کوچیلنج کرنا اْنہیں زیب دیتا تھا؟ ناجائزغیر اخلاقی اور گھٹیا سرکشی پر مبنی لب ولہجہ اختیارکرتے ہوئے پاکستانی فوج کے چیف آف اسٹاف پر من گھڑت الزام لگانا اور اْن کی شخصیت پر کفر کے فتوے لگانا اورفوج کے دیگراسٹار کمانڈروں کو آرمی چیف کے خلاف اکسانے جیسی غیرآئینی زبان استعمال کرنا وہ کس کی زبان بول رہے تھے؟ ’تحریک لبیک’ کے ذمہ داراس کا قوم کو اپنے لغو بے سروپا الزامات کاجواب دیں گے؟ پاکستان کی فوجی اسٹبلیشمنٹ کوآسیہ مسیح کیس کے ساتھ منسلک کرنے والوں کے آخرعزائم کیا تھے جبکہ آزاد عدلیہ نے معروف ملکی قوانین کی روشنی میں کلمہ طیبہ پڑھ کر قرآن واحادیث کے حوالے تحریر کرکے ایک موثرو موثق فیصلہ ایک دستاویز کی صورت میں دیا جبکہ متاثرہ فریق میں اس فیصلے خلاف اپیل میں جانے کا ایک موقع تھا جو کہ مدعی کے وکیل نے اپیل داخل کرکے اْس موقع سے فائدہ اْٹھابھی لیا ہے اس کے باوجود جنونی و جذباتی اورغیرسنجیدہ اور غیر معتبرمذہبی کہانتیں گھڑکر نیم خواندہ لوگوں کے حواس کو برانگیختہ کیا گیا سوشل میڈیا پر ایک عجب طوفان بدتمیزی امڈآیا، پاکستان کے کروڑوں عوام کی ایک واضح اکثریت تحریک لبیک کے ذمہ داروں سے متذکرہ بالا سوالوں کے جواب چاہتی ہے، اس موقع پر راقم ایک بات ضرور کرنا چاہتا ہے’’ نجانے ملک میں ایسی وہ کون سی شیطانی قوتیں کہیں چھپی بیٹھی ہیں جو ہر کچھ دنوں بعد جب بھی عوامی احتجاج کا کوئی لمحہ ملک میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ افواج پاکستان اور سیکورٹی کے حساس اداروں کو ان واقعات میں کیوں لاگھسیٹتی ہیں؟‘ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک جس کے چاروں اطراف میں ہمارے دشمنوں کی تعاقب نما نظریں لگی ہوئی ہیں، ملکی فوج پاکستان کے تحفظ کی پاسبان’ملکی سرحدوں کی واحد امین‘ افغانستان میں امریکی شکل میں دنیا کی یک قطبی طاقت پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہے ادھر مشرقی سرحد کے پار ہمارا ازلی دشمن ملک بھارت جس کے کھرے ایران میں چاہ بہاربندرگاہ تک پہنچنے ہوئے ہیں اور ایسی انتہائی نازک وحساس علاقائی آلارمنگ صورتحال میں پاکستان کی فوج کو ملک کے اندرسے باربار چیلنج دینے والے اچانک کیسے باہر نکل آتے ہیں عوام کے اکساتے بھڑکاتے ہیں یہ سوچنا اور اس کا کوئی مستقل حل ڈھونڈنا حکومت وقت کی ایک بڑی اہم اور فوری ذمہ داری ہے بہت ہوگیا، اب ملکی عوام موجودہ صاحبان اقتدار اور ملکی آئین سے وفاداری کا حلف اْٹھانے والے حزب مخالف ممبران پارلیمنٹس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ملک میں عدالتی فیصلوں پریا کسی اورحکومتی اقدام کو جواز بناکر کب تک ملک کے بڑے تجارتی شہروں کو مفلوج کیا جاتا رہے گا؟ کب تک نیم خواندہ اور ناپختہ علمی معلومات رکھنے والے ملکی آئین وقانون کو اپنے گھروں کی لونڈی سمجھتے رہیں گے؟ ۔

*****

About Admin

Google Analytics Alternative