76

ملک میں آٹے کا بحران نہیں، قیمت کم ہو رہی ہے، حکومت

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے تحفظ خوراک و تحقیق خسرو بختیار نے کہا ہے ملک میں آٹے کا بحران نہیں، گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، سندھ اور خیبر پختونخوا کو آٹے کی فراہمی سے صورتحال بہتر ہو جائے گی، آٹے کی قیمت کم ہو رہی ہے۔

وفاقی وزیر خسرو بختیار نے ایوان بالا میں آٹے پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا سرکاری شعبہ کے پاس 40 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ ہے، جب نئے سیزن کی گندم آئے گی توتب بھی 8 لاکھ ٹن گندم موجود ہوگی، گزشتہ سال 48 لاکھ ٹن رکھی گئی،ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال سے فراہمی متاثر ہوئی، سندھ کو روزانہ 10 ہزار ٹن گندم دی جا رہی ہے،وہاں آٹا 60 روپے کلو تک پہنچ گیا تھا جو 54 روپے کلو ہو گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کوسرکاری اور نجی شعبہ سے 5، 5 ہزار ٹن گندم دی جا رہی ہے، خیبر پختونخوا میں آٹا 58  روپے سے کم ہوکر 52 روپے کلو ہوچکا ہے۔ یوریا بوری پر 400 روپے ٹیکس کم کیا، جس سے قیمت 20 فیصد کم ہو گئی ۔ آٹے کا بحران جلد ختم ہوجائے گا، میڈیا چینلز پر چکی کے آٹے کی قیمت 70 روپے کلو سے زائد بتائی جا رہی ہے، چکی کا آٹا ملکی ضرورت کا چار سے پانچ فیصد ہے،ضرورت سے زائد گندم پر برآمد کی اجازت دی پھر پابندی لگا دی ۔ امدادی قیمت 1300 روپے سے بڑھا کر 1365 روپے فی من مقرر کی۔

قائد حزب اختلاف راجا ظفر الحق نے کہا گندم اور آٹے کے بحران کا معاملہ سنجیدگی کا متقاضی ہے،قائمہ کمیٹی کو بھجوایا جائے،جس پرچیئرمین نے کمیٹی کو بھجوا کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

پسماندہ علاقوں کے مسائل سے متعلق فنکشنل کمیٹی کی رپورٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے ارکان نے کہا پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں سہولیات کی فراہمی کے لئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے، کم ترقی یافتہ علاقوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے برابر لانے کے لئے اضافی وسائل دینا چاہئیں، صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے۔

چیئرمین نے ارکان کے فضائی ٹکٹس کے متعلق تحفظات دور کرنے کیلئے 10 دن میں رپورٹ طلب کرلی۔ اعظم سواتی نے بتایا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 50 لاکھ 10 ہزار مستحقین امدادلے رہے ہیں، حقیقی مستحقین کے انتخاب کے لئے سروے جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں