Home » کالم » ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم
adaria

ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا عزم

وزیراعظم عمران خان نے قوم کو ایک بار پھرامید دلاتے ہوئے گورنر ہاوَس پشاور میں قبائلی مشران، خیبر پختونخوا کابینہ اور شوکت خانم پشاور میں فنڈ ریزنگ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک چلانے کیلئے اسی قوم سے پیسہ اکٹھا کرکے دکھاءوں گا، ملک کو بحرانوں اور مشکلات سے نکالنا ہم سب کا امتحان ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 10سال کے دوران پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت نے معیشت تباہ کر دی ۔ کوشش ہے بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر کم پڑے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے خسارے سے حکومت شروع کی تھی ۔ حکومت سنبھالی تو 100ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا ۔ انہوں نے اپوزیشن کے متوقع اتحاد پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹ ٹولے کے اکٹھے ہونے پر حیرت نہیں ہے ۔ سیاسی مافیا بلیک میل کرنا چاہتا ہے،لیکن کسی کی بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار کیاہے اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے ملکی معیشت کے ساتھ جو کھلواڑ کیا ہے اسکے اثرات آنے والی کئی نسلیں بھگتیں گی ۔ 100ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ پچھلی حکومتوں کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے،موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والا معاشی بحران ایک بڑی حقیقت ہے جس سے عہدہ براء ہونا آسان نہیں لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان پرامید ہے کہ وہ ملک کو اس بحران سے نکال کر رہیں گے ۔ انہوں نے جس امید کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ قوم سے پیسہ نکال کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے یہ بات بھی دل کو لگتی ہے کیونکہ اس قوم میں اتناٹیلنٹ ہے کہ اگر اسے کوئی مخلص لیڈر مل جائے تو وہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے خودانحصاری کی منزل پا سکتی ہے ۔ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اسے اب تک کوئی مخلص قیادت نصیب نہیں ہوئی ہے ۔ جسے بھی اقتدار ملا اس نے اپنی ذاتی تجوریاں اور بنک اکاوَنٹ بھرے اور ملک کو غیر ملکی قرضوں کے رحم و کرم پرچھوڑدیا ۔ یہ جعلی بنک اکاونٹس کے قصے، یہ لندن فلیٹس کی سزائیں اسکا ثبوت ہیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی ایک دو جماعتوں کا تازہ شور شرابا بے معنی نہیں ہے ،ملک کا بچہ بچہ باخبر ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کےلئے کوشاں ہیں ۔ اسی لئے عمران خان نے اپوزیشن کے متوقع اتحاد پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ کرپٹ ٹولے کے اکٹھے ہونے پر حیرت نہیں ہے ۔ ان سطور کے ذریعے وزیراعظم اور ان کی ٹیم سے گزارش ہے کہ وہ اپنے عزم پر ڈٹی رہے ،کوئی بھی کرپٹ کردار جس نے ملک کو آج اس حالت تک پہنچایا ہے اس سے لوٹی ہوئی رقم چھین لینے چاہئے ۔ یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں اور نہ کوئی خاندان اس ملک کے لئے لازم ملزوم ہے ۔ سب کا احتساب اور بلا امتیاز احتساب وقت کا تقاضہ ہے ۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر قبائلی نظام کے خدوخال پر بھی بات کی اور واضح کیا کہ نیا نظام قبائلیوں کے رہن سہن اور روایات سے متصادم نہیں ہے،ہم مسائل کوقبائلی عوام کی مشاورت سے حل کرینگے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قبائلی عوام اور مشران نے ملک میں قیام امن کیلئے لازوال قربانیاں دی ہیں ، اب وقت آگیا ہے کہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلی میں قبائلی اضلاع کی نشستوں میں اضافے سے عوام کو وہ نمائندگی ملے گی جو پہلے کبھی نہیں ملی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قبائلی علاقے ماضی میں بری طرح نظر انداز ہوتے رہے ہیں ،جس سے یہاں کی عوام کے مسائل میں اب تک بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے ۔ یہ امر نہایت خوش کن ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی حکومت آئی ہے جو صحیح معنوں میں قبائلی عوام کے مسائل حل کرنے میں مکمل دلچسپی لے رہی ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک کئی بار ان علاقوں کا دورہ کر چکے ہیں ۔ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی ان کی ترجیح ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ بنیادی ضرورت ہر قبائلی کو اس کی دہلیز پر ملے ۔ اس سلسلے میں حکومت کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔ صحت کے شعبے کو ہی لیا جائے تو کینسر ہسپتال کی تعمیر ایک اہم اقدام ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم پشاور جو حال ہی میں کے پی کے اور قبائلی عوام کے لئے تعمیر کیا گیا ہے کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہے، 90فیصد پاکستانیوں کے پاس کینسر کے علاج کیلئے وسائل نہیں 30سال قبل ہم نے مفت کینسر اسپتال کی تعمیر کے سفر کا آغازکیا تاکہ کینسر کا کوئی مریض اسپتال جائے تو اس کو یہ فکر نہ ہوکہ اسکے پاس پیسے نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانی کھلے دل کے لوگ ہیں جو اپنے لئے نہیں بلکہ دوسرے کیلئے جیتے ہیں ۔ اس ہسپتال کی تعمیرسے یقینی طور پر قبائلی عوام کو بھی فائدہ ہو گا جنہیں پہلے لاہور اور کراچی کے دکھے کھانا پڑتے تھے ۔

آرمی چیف کا افغان سرحد پراگلے مورچوں کا دورہ

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اگلے روزپاک افغان سرحد پر شمالی وزیرستان کے علاقے داوتوئی میں اگلی چوکیوں کا دورہ کیا ۔ جہاں آرمی چیف کو سرحد پر آہنی باڑ لگانے کی پیشرفت، آپریشن اور سماجی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے علاقے میں استحکام کیلئے کردار اور جوانوں کے بلند حوصلوں کو سراہا ۔ اس موقع پر پاک فوج کے جوانوں اور افسران سے خطاب میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ موثر بارڈرمنیجمنٹ کیلئے سرحدی باڑ کے ساتھ ایف سی قلعوں کی تعمیر بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کو بدستور چیلنجز درپیش ہیں لیکن ایسے کڑے حالات نہیں جن سے پاکستان ماضی قریب سے گزرا ہے ۔ کامیابی کی جانب سفر جاری رکھنے کیلئے ہ میں صبر، عزم اور اتحاد کی ضرورت ہے ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گاہے گاہے سرحدی علاقوں کا دورہ کرتے رہتے ہیں جہاں وہ نوجوانوں کی صرف کارکردگی کا جائزہ نہیں لیتے بلکہ ان کے عزم و ہمت کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں ۔ بلاشبہ ہمارے وہ بہادر نوجوان جو سرحدوں پر فولاد کی مانند دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ان کے جذبے لائق تحسین ہیں ،پوری قوم ان کے عزم کو سلام پیش کرتی ہے ۔

تیل و گیس کے ذخائر کے حوالے سے مایوس کن اطلاع کیوں

کراچی کے قریب سمندر سے تیل و گیس کے ذخائر کے حوالے سے چند روز قبل تک جو خوش کن اطلاعات آرہی تھیں اچانک اس وقت مایوسی میں بدل گئیں جب گزشتہ روزپیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کہا کہ گہرے سمندر میں کیکڑا ون کے مقام پر 5ہزار 500میٹر سے زائد ڈرلنگ کی گئی، تاہم تیل و گیس کے ذخائر نہ مل سکے اور کیکڑا ون میں ڈرلنگ کا کام ترک کر دیا گیا ہے ۔ یہ مایوس کن اطلاع عوام پر بم بن کر گری ۔ اس ڈرلنگ کے کام پر 14ارب روپے اخراجات کا تخمینہ ہے اور امریکی کمپنی ایگزون موبل، ای این ;200;ئی، پی پی ایل اور او جی ڈی سی ایل پر مشتمل کنسورشیم تیل و گیس کی تلاش پر کام کر رہا تھا ۔ رواں سال جنوری میں کیکڑا ون بلاک میں تیل و گیس کی تلاش کا عمل شروع کیا گیا تھا ۔ ہفتہ کے روز ہی پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان نے پرامیدتھے اور کہہ رہے کہ کراچی کے قریب سمندر میں گیس کا بڑا ذخیرہ بر;200;مد ہوجائے مگر دوسری طرف اچانک ناکامی کی اطلاع آ گئی ۔ اس اچانک ناکامی کی اطلاع نے بہت سے سوال کھڑے کر دیئے ہیں ،حکومت کو چاہئے کہ وہ تمام معاملات کا باریک بینی سے جائزہ لے اور پیش کی گئی رپورٹ عوام کے سامنے لائے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative