2

مودی کا چہرہ بے نقاب

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر جہاں کشمیریوں نے اسے مستر د کر دیا وہاں پاکستان سمیت دنیا بھر کے عوام، حکمران اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارتی اقدام کے خلاف مختلف فورمز پر جلسے جلوس اور مباحثے کر کے مودی کے اصل بھیانک چہرے کو بے نقاب کیا ہے ۔ 5 اگست سے آج تک کوئی دن ایسا نہیں جب کسی بھی ملک میں یا کوئی بھی تنظیم کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ اور احتجاج نہ کرتی ہو اور بھارتی حکومت پر کشمیر کے حوالے سے دباوَ نہ ڈالتی ہو ۔ اسی طرح امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس انسانی حقوق کمیشن کی کھلی سماعت 14 نومبر کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوئی جس میں کمیشن نے اپنے مشاہدات میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو دوبارہ لاگو کیا ۔ کمیشن نے اپنے مشاہدات میں بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں اور انسانی المیہ کو بھی اجاگر کیا ۔ سماعت کے دوران بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک غیر جانبدارانہ فیکٹ فائنڈنگ کمشن بھیجنے کا بھی کہا گیا ۔ امریکی ایوان نمائندگان کی ایشیاء پر ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک ماہ سے بھی کم مدت میں امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس کمشن کی سماعت کا انعقاد کیا گیا ۔ کمیشن نے بھارت کو اپنی ظالمانہ پالیسیوں اور مذہبی و نسلی ظلم و ستم کا تسلسل جاری رکھنے سے روکنے اور بین الاقوامی برادری پرمقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے آزادانہ تحقیقات کرانے کیلئے زور دیا ۔ اس سے بین الاقوامی برادری کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مسلسل تحفظات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ کمیشن کے پینلسٹس کے مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام کی آواز بننے کے حوصلے قابل تحسین ہیں ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز کو مظالم سے خاموش کر رہا ہے تاہم ٹام لینٹس انسانی حقوق کمشن کے اراکین و پینلسٹ نے بھارت کے سب سے بڑی جمہوریت ہونے کی کہانی کا پول کھول دیا ۔ انہوں نے دیانتداری سے بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کے پس منظر میں موجود آمرانہ اور قومی انتہا پسندانہ نظریات و خواہشات کو بے نقاب کیا ۔ کمیشن نے بھارت کی جانب سے اقلیتوں پر ظلم و ستم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ۔ ٹام لینٹس ہیومن راءٹس کمشن کی سماعت پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان امریکی کانگریس کے ٹام لینٹس ہیومن راءٹس کمشن کی مقبوضہ کشمیر پر سماعت کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ اس سے بین الاقوامی برادری کے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر مسلسل تحفظات کی عکاسی ہوتی ہے ۔ پاکستان امریکی اراکین کانگریس کی مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام پر جاری ظلم ستم پر اپنے ضمیر کی آواز بلند کرنے کی کوششوں کو تسلیم کرتا ہے ۔ ان امریکی اراکین کانگریس نے بھارتی حکومت پر اپنے ظالمانہ اقدامات کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ۔ امریکی اراکین پارلیمان کی جانب سے مسلسل جاری بھیانک انسانی خواب کے خاتمے میں اپنے کردار کی ادائیگی کی خواہش بروقت اور بہتر عمل ہے ۔ ہم امریکی قیادت اور اراکین پارلیمان کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق ازادی اظہار رائے حق استصواب رائے اور خطے میں امن و استحام کو درپیش خطرات سے آگاہ ہونے کو سراہتے ہیں ۔ کھلی سماعت کے دوران رائے عامہ دیکھی گئی کہ بین الاقوامی صحافیوں ، غیر جانبدار انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین کو مقبوضہ جموں و کشمیر جانے کی اجازت دی جائے ۔ گواہان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذراءع مواصلات پر پابندیاں ہٹانے انسانی حقوق کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا ۔ مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت کو اپنی ظالمانہ پالیسیوں اور مذہبی و نسلی ظلم و ستم کا تسلسل جاری رکھنے سے روکا جائے ۔ ہمارے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بہترین سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں کشمیریوں کے حق کےلئے آواز اٹھائی ۔ جنیوا میں انسانی حقوق کونسل سے خطاب کے دوران کہا کہ میں یہاں بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے عوام کی استدعا اور مقدمہ لے کر آیا ہوں جن کے بنیادی اور ناقابل تنسیخ انسانی حقوق کو بھارت روند رہا ہے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ایک منظم انداز سے مقبوضہ خطے کے عوام کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے بنیادی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ۔ دہائیوں سے بھارتی جبرو استبداد کا پہلے سے ہی شکار 80 لاکھ سے زائد کشمیریوں کو ایک غیرقانونی آپریشن کے ذریعے عملی طور پر قید کردیا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے دنیا کے مختلف ممالک میں کشمیریوں کے حق میں مظاہرے کئے ۔ ہمبرگ کی مختلف پاکستانی اور کشمیری تنظیموں کے زیر اہتمام میں بھارتی قونصلیٹ ہمبرگ کے سامنے احتجاجی مظاہرے میں خواتین اور بچوں کثیر تعداد شامل تھی ۔ سیاسی اور سماجی رہنماءوں نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو اور سنگین حالات کے حوالے گہری تشویش کا اظہارکیا ۔ نیویارک میں ٹائم سکوائر کی بلڈنگ کشمیر کی آزادی کے نعروں سے جگمگا اٹھی ۔ برطانوی حزب اختلاف لیبر پارٹی نے براءٹن میں اپنی سالانہ کانفرنس کے دوران ایک قرار داد پاس کی جس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ جموں وکشمیر میں مداخلت کرے ۔ قرارداد میں دہائیوں پرانے تنازعہ کشمیرکے حل کیلئے جموں وکشمیر میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری پر زور دیا گیا ۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں کی جانے والی حالیہ کارروائیوں کی مذمت کی گئی ۔ ماہ اگست سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھیانک صورتحال پر ہیومن راءٹس کونسل میں 58 ممالک نے بھارت کے سامنے 5 مطالبات پیش کیے جس میں مطالبہ ہے کیا گیا ہے کہ بھارت کشمیریوں سے جینے کا حق نہ چھینے اور انہیں جینے دیا جائے ۔ کشمیر میں مسلسل کرفیو فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ بھارت سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کشمیر میں مواصلات کے کریک ڈاءون کی تصدیق کرچکا ہے اور کشمیر میں مواصلات کو یقینی بنایا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے ۔ کچھ دیگر مطالبات بھی رکھے گئے ہیں جن کے تحت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا تحفظ، آزادی اور گرفتار افراد کو رہا کرنے کے ساتھ ساتھ پیلٹ گن سمیت طاقت کے بے جا استعمال سے گریز کیا جائے ۔ اسی کے ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے دورے کی اجازت دی جائے ۔ جموں و کشمیر کے حل کیلئے پرامن طریقہ کار اختیار کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں