Home » کالم » مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج
riaz-ahmed

مودی کی آمد پر کشمیری سراپا احتجاج

riaz-ahmed

بھارتی وزیراعظم نریند مودی کی مقبوضہ کشمیر کے ایک روزہ دورہ پر آمد کے موقع پر پوری وادی سراپا احتجاج بن گئی۔ سرینگر میں غیراعلانیہ کرفیو نافذ تھا۔ شہریوں کی نقل و حرکت پر مکمل پابندی تھی۔ پوری ریاست کو عملاً فوجی چھاو¿نی میں تبدیل کردیا گیا۔ مودی کا اعلان کردہ 12.1 ارب ڈالر (8 سو ارب بھارتی روپے) کا اقتصادی پیکیج بھی کام نہ آیا۔کٹھ پتلی حکومت نے پوری مقبوضہ وادی میں تاریخ کا سب سے بڑا کریک ڈاو¿ن کرتے ہوئے سرینگر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا۔ وادی میں تمام کاروباری سرگرمیاں‘ موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی۔ سرینگر کی گلیاں سنسان رہیں جن میں قابض بھارتی فوج گشت کرتی رہی۔مودی کی وادی مےں آمد کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لئے خصوصی طور پر دہلی سے شیو سینا کے کارندے بھی بلائے گئے تھے۔ شیرکشمیرسٹیڈیم کے آس پاس تمام علاقوں میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئےں کسی شخص کوچلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سٹیڈیم کو پولیس اور فورسز نے چاروں اطراف سے گھیر لیا گےا تھا۔ پل پل کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کےلئے سٹیڈیم کے گردونواح میں نہ صرف اضافی خفیہ کیمرے نصب کئے گئے تھے بلکہ فورسز کی ایسی درجنوں گاڑیاں گشت کررہی تھےں جن پر سی سی ٹی وی نصب تھے۔ زیرو برج سے سٹیڈیم کی طرف جانے والا راستہ رام منشی باغ تک گاڑیوں کی آمدورفت کےلئے بند کر دیا گیا۔ رام منشی باغ تھانے کے قریب لکڑی کا ایک بڑا گیٹ تیار کیا گیا تھااور علاقہ میں سیکورٹی کا جال بچھایا گیا تھا۔ ملےن مارچ کے راستوں کو سےل کر دےا گےا تھا۔ اہم پلوں اور چوراہوں پر خار دار تارلگائی گئی۔ سڑکوں اور چوراہوں پر پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے۔ لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا۔ سخت ترین پابندیوں کی وجہ تاریخی جامع مسجد اور دیگر کئی چھوٹی بڑی مساجد میں نماز کی ادائیگی نہ ہوسکی۔ کئی مقامات پر راہ گیروں کی جامہ تلاشی لی گئی۔ لال چوک میں اگرچہ لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندی عائد نہیں تھی لیکن بازاروں میں کاروباری سرگرمیاںمعطل رہیں اور ہڑتال کی گئی۔ ٹریفک کی نقل و حرکت بند رہی سکول اور کالجوں کے ساتھ ساتھ سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود مودی کی آمد پر کشمیریوں نے احتجاجی مظاہرے کئے، کئی مقامات پر بھارتی فوج اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔ کشمیریوں نے سیاہ پرچم لہرائے۔ سرینگر سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ کل جماعتی حرےت کانفرنس کے قائدےن علی گےلانی، مےر واعظ عمرفاروق، ےاسےن ملک، شبےر شاہ سمےت تمام قےادت بدستور نظر بند تھی۔حریت رہنما علی گیلانی نے نظربندی توڑ کر گھر سے نکلنے کی کوشش کی جس پر پولیس نے انہیں گرفتار کرکے تھانے میں بند کردیا ۔ کشمیریوں کی طرف سے نریندر مودی کی آمد پر احتجاجاً سیاہ غبارے فضا میں چھوڑے گئے۔ نریندر مودی کی آمد پر احتجاجی ریلی کی قیادت کرنے والے ایم ایل اے انجینئر رشید کو سیاہ پرچم لہرانے پر گرفتار کر لیا گیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمےر پر روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، اس معاملے پر بےن الاقومی کردار اور کسی کے مشورے کی ضرورت نہےں، میں کشمیر پر دنیا میں کسی کی نہیں سنتا۔ کشمیر کے بغیر بھارت ادھورا ہے،کشمیریوں نے بہت کچھ جھیلا اور مشکلات دیکھی ہیں۔ کشمیریت، خدمت اور انسانیت کے جذبے سے آگے بڑھیں گے۔حریت رہنماو¿ں نے نریندر مودی کا 12 ارب ڈالر کا پیکیج مسترد کردیا ہے۔ بزرگ حریت پسند رہنما سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری آزادی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ کشمیر میں مالیاتی پیکیجز مسائل کا حل نہیں، کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے سے ہی مسائل حل ہوں گے کشمیر میں بھارت نواز قوتیں بھارتی فوج کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ نریندر مودی عالمی امن کیلئے خطرہ ہیں۔ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والی زیادتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے مسئلے کے جلد سے جلد حل کو یقینی بنائے۔ محمد یاسین ملک نے جیل سے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارتی وزیاعظم نریندر مودی کے جلسے کو کامیاب بنانے اور آزادی پسندوں کے احتجاج کو روکنے کیلئے بھارتی پولیس اور انتظامیہ نے ہزاروں گرفتار افراد کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ مفتی کی کٹھ پتلی حکومت تھانوں، جیل خانوں اور دوسرے مراکز پر قید حریت پسندوں پر 1990ءکی دہائی کی طرح مظالم ڈھا رہی ہے۔ نظربندوں کو باہر کی دنیا سے لاتعلق رکھا جاتا ہے اور ان کو گھر والوں کے ساتھ ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جاتی۔ مودی پیکیج پر ردعمل میں مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مودی نے کشمیر کے مسئلے کو روپے پیسے میں تولنے کی غلطی دہرائی ہے۔ سات لاکھ بھارتی فوج اور ایک لاکھ پولیس کو وسیع اختیار دیکر وادی کو عملاً جیل میں تبدیل کر دیا گیا ۔ بھارت کشمیریوں کا حق آزادی زیادہ دیر تک دبا کر نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری اپنی منزل پر پہنچ کر دم لیں گے۔ ملین مارچ ہو ہوگا اور دنیا جان لے گی کہ کشمیری کشمیریوں کے ساتھ ہیں۔ مودی کی جماعت بھارت میں فسادات کرنے کی ذمہ دار ہے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ مودی نے کشمیر پیکج دے کر کشمیریوں کو خریدنے کی کوشش کی۔ مودی کے اس حربے پر کشمیریوں کو ڈوگرہ راجہ کی یاد آگئی جس نے کشمیر کو پچھتر لاکھ روپے میں انگریزوں سے خرید لیاتھا۔ عمر عبداللہ نے بھی کہا ہے کہ مودی نے کشمیریوں کی قیمت لگانے کی غلطی دہرائی ہے۔ گلی گلی رکاوٹیں، سڑکوں پر سناٹا، شہروں میں ہو کا عالم، مقبوضہ سری نگر پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹی، آج یہاں بھارتی وزیراعظم مودی اترے ہیں۔ کشمیری کشمیر کے مسئلے کا سیاسی حل چاہتے ہیں، پیکیج مسئلہ کشمیر کا حل نہیں۔ نریندر مودی کا دورہ کشمیر مظلوم کشمیری مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ بھارت سرکار پاکستان سے بات چیت کیلئے تیار نہیں اور حریت قیادت کو مذاکرات کی دعوت دیکر دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔اقتصادی پیکج کے اعلانات سے کشمیریوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا۔کشمیریوں کا احتجاج اور شدید ردعمل دیکھ کربھارت سرکار کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative