Home » کالم » مودی کے منہ پر طمانچہ
uzair-column

مودی کے منہ پر طمانچہ

uzair-column

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی جو اس وقت انڈیا میں ایک مطلق العنان کی حیثیت اختیار کرچکا ہے شاید وہ اب تک یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی مخالفت کرنے والوں کو اس زمین سے نیست ونابود کردیا جائیگا ۔کبھی وہ پاکستان کیخلاف زہرافشانی کرتا ،کبھی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی جاتی پھر اس نے گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور وہاںپر کشمیریوں کے خون کا اس نے سودا بھی کیا اور ہر طرح سے جھوٹ سچ جوڑ کر مودی نے چاہا کہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی حمایت حاصل کرلے ۔پیکجز کا بھی اعلان کیا گیا اور بھی بڑے سبزباغ دکھائے گئے اور مودی نے یہ بھی کہا کہ میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لوں گا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر پرکسی کی رائے قبول کی جائے گی ۔اس کے دورے سے قبل وادی میں ایک ہو کا عالم تھا کشمیری رہنماﺅں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا گیا تھا ،نوجوانوں کیلئے سڑکوں پرنکلنا ممنوع قرار دیدیا گیا تھا،فضائی نگرانی علیحدہ کی جارہی تھی جبکہ سڑکوں پر اس کے پالتو فوجی ہی فوجی نظر آرہے تھے ۔اتنے سخت حفاظتی اقدامات میں مودی کا آنا اس بات کی واضح مثال تھا کہ اس کو یہاں پر کوئی حمایت حاصل نہیں پھر یہ بھانڈا اس وقت پھوٹ گیا جب مودی کے جلسے میں آنیوالوں نے انڈیا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زبردستی ٹرکوںمیں بھر کر لایا گیا اس کے عوض پیسے دئیے گئے اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ تمہاری ملازمتیں پکی یعنی کہ ریگولر کردی جائیں گی ۔اس دھوکا دہی سے لوگوں کو لاکر اس جلسے کو کامیاب بنانے کی ناکام کوشش کی گئی چونکہ مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی کشمیری نے مودی دہشتگرد کے جلسے میں شرکت نہیں کی پھر کانگریس کے رہنما اور سونیا گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا کہ مودی ایک فاشسٹ حکمران ہے اس کے دن اب گنے جاچکے ہیں ۔جیسے ہی یہ دورہ ختم کرکے گیا اگلے دن بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار میں انتخابات کا انعقاد تھا ۔دراصل مقبوضہ کشمیر کا مودی کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کیخلاف اورکشمیر کیخلاف زہراگلے گا اور پھر اسے بہار میں ووٹ ملیں گے ۔مگر اس کے ظلم وستم سہ سہ کر اب بھارتی عوام یہ جان چکی ہے کہ اگر مودی حکمران رہا تو بھارت میں کوئی مذہب ،کوئی غریب ،کوئی مسلمان ،کوئی سکھ ،کوئی شودربھی محفوظ نہیں،ظلم تو یہاں تک پہنچا کہ اگر کسی نے گائے کا گوشت کھانا تو دور کی بات یہ بھی کہہ دیا کہ یہ صحت کیلئے مفید ہے تو اس کیخلاف مودی کے پالتو شرپسند سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے وہ انارکی مچائی جس کی وجہ سے جمہوریت کا منہ سیاہ ہوگیا اورشاید اب کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے ۔ریاست بہار کے انتخابات میں مودی کے منہ پر طمانچے ہی طمانچے لگے اوراس بری طرح سے اسے شکست ہوئی کہ شاید وہ خواب میں بھی نہ سوچ سکتا ہو اس کا کوئی بھی منجن فروختگی میں کامیاب نہ ہوسکا اورجوبھی اس نے دارو کیے وہی اس کے کیخلاف گئے ۔لالو پرساد نے تو مودی کو کہہ دیا ہے کہ وہ یا تو حکومت چھوڑ دے نہیں تو ہمیں دہلی پر چڑھائی کریں گے ۔جہاں تک انتخابات کا معاملہ ہے تو بھارت کی شمال مشرقی ریاست بہار کے انتخابات میں مودی سرکار کی انتہا پسندی ہار گئی ،بی جے پی کو عبرتاک شکست کا سامنا،جنتا دل نے سادہ اکثریت حاصل کر لی، حکمران جماعت نے شکست تسلیم کرلی ۔مودی کو نہ پاکستان کی مخالفت کام آئی ، نہ گائے کے گوشت کا منجن بِکا۔بہار نے مودی کو آئینہ دکھادیا ،مودی سرکار کے حکومت میں آنے کے بعد سے اب تک پاکستان اور مسلم مخالف اقدامات،بیانات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔بھارتی جنتا ، نے بی جے پی کے تخت کا تختہ کردیا۔ فیصلہ سنادیا کہ بھارت میں عوام کو ایک دوسرے سے نہیں لڑایا جاسکتاہے۔بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق کل 243سیٹوں میں سے جنتا دل یونائیٹیڈاور آر جے ڈی نے 177پر کامیابی حاصل کر لی جبکہ بی جے پی محض 60سیٹیں ہی لے سکی ہے ،6سیٹیں دیگر جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔اسد الدین اویسی کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کبھی کسی وزیر اعظم نے کسی ریاستی انتخابات کی مہم اس قدر حصہ نہیں لیا تھا۔دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال نے بہار اسمبلی الیکشن کو نفرت کی سیاست کرنے والے لوگوں کے ’گال پر طمانچہ‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی کو ’بیرون ممالک گھومنا چھوڑ کر‘ حکومت چلانے پر توجہ مرکوز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔بی جے پی کے جنرل سیکریٹری رام مادھو نے کہا رےاستی انتخابات مےں ناکامی کے وزیراعظم مودی یا کوئی ایک ذمہ دار نہیں ، پارٹی کی شکست کے اسباب کا جائزہ لےا جائے گا۔جبکہ لالو پرساد نے بی جے پی حکومت کے خلاف تحرےک چلانے کا اعلان کردیا اور کہا کہ تیش کمار ہی بہار کے وزیر اعلی رہیں گے،مودی سرکار کو بھارت سے اکھاڑ پھینکیں گے۔اب بھارتی عوام مودی کو اس طرح نیست ونابود کرے گی کہ نہ صرف مودی عبرت کا نشان بنے گا بلکہ شیوسینا کو بھی بھارتی قوم زمین کی گہرائیوں میں اتار کر ہی دم لے گی ۔آنیوالے بھارتی انتخابات میں بھی مودی کو کہیں بھی منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative