1

مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچ گیا

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کا آزادی مارچ اپنی آخری منزل اسلام آباد پہنچ گیا جہاں جے یو آئی نے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے، جلسے میں شرکت کے لیے پی پی کے چیئرمین بلاول بھی اسلام آباد پہنچ گئے۔

حکومت سے طے پائے گئے معاہدے کے مطابق سیکٹر ایچ 9 کے اتوار بازار کے قریب میدان میں جے یو آئی (ف) کے جلسے کی تیاریاں مکمل ہیں، شرکاء کے کھانے پینے کے لیے میدان میں ہی کینٹین اور 5000 بیت الخلاء بنائے گئے ہیں۔ آزادی مارچ کے شرکاء اپنے کھانے پینے کا سامان بھی اپنے ساتھ لائیں گے جبکہ آزادی مارچ کے شرکاء کو بستر، اضافی کپڑے اور راشن لانے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

جلسے کے شرکاء کی پارکنگ کے لیے جگہ مختص کر دی گئی ہے جس کے مطابق موٹروے اور پشاور جی ٹی روڈ سے آنے والے شرکاء 26 نمبر چونگی براستہ کشمیر ہائی وے، پروجیکٹ موڑ اور جی نائن ٹرن کشمیر ہائی وے کے دونوں اطراف گاڑیاں پارک کریں گے۔

اسی طرح لاہور سے براستہ جی ٹی روڈ ایکسپریس وے اور مری بارہ کہو سے آنے والے حضرات فیض آباد سے ڈھوک کالا خان فلائی اوور سے واپس فیض آباد براستہ نائنتھ ایونیوچوک سے سروس روڈ ویسٹ پر گاڑیاں پارک کرکے جلسہ گاہ میں داخل ہوں گے۔

وزارت داخلہ کے انتظامات

آزادی مارچ کے حوالے سے وزارت داخلہ میں منعقدہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت معاہد ے کی پاسداری کرنے والوں کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ سیکیورٹی کے لیے پہلے لیول پر پولیس، دوسرے لیول پر رینجرز اور حساس مقامات کی حفاظت کے لیے آرمی کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔

ٹریفک پلان

اسلام آباد میں مقیم اور گردو نواح سے آنے والے لوگوں کی سہولت کے لیے ٹریفک پلان بھی مرتب کیا گیا ہے۔ شہری اسلام آباد کی طرف آنے جانے کے لیے براستہ 26 نمبر چنگی فلائی اوور سے مہر آباد پیر ودھائی، آئی جے پی روڈ سے فیض آباد فلائی اوور سے مری روڈ، ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

حاجی کیمپ چوک سے اسلام آباد چوک تک ٹریفک کے لیے ڈائیورژن ہوگی، شہری آمدورفت کے لیے پشاور جی ٹی روڈ سے اسلام آباد آنے جانے کے لیے براستہ 26 نمبر چنگی فلائی اوور سے ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو استعمال کرسکتے ہیں۔

کشمیرہائی وے جی الیون سے بجانب اسلام آباد چوک ٹریفک کے لیے ڈائیورژن ہوگی، شہریوں کی آمدورفت کے لیے حاجی کیمپ چوک سے آنے والی ٹریفک مہر آباد آئی جے پی روڈ پر موڑ دی جائے گی، جی نائن، جی ٹین، جی الیون سے موٹر وے پشاور اور نیو اسلام آباد ائیرپورٹ جانے والے حضرات جی الیون، جی ٹین، جی نائن سروس روڈ استعمال کرتے ہوئے براستہ جی الیون سگنل سے کشمیرہائی وے استعمال کریں۔

حکومتی حکمت عملی

آزادی مارچ سے متعلق حکومتی حکمت عملی بھی تیار ہے، وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزراء کو دھرنے کے دنوں میں اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا۔ وزیراعظم نے حکومتی ترجمانوں کو ہدایت کی ہے کہ آزادی مارچ کے پس پردہ مقاصد میڈیا پر نے نقاب کیے جائیں۔ مارچ کے جلسہ گاہ پہنچنے تک کوئی رکاوٹ نہیں کھڑی کی جائے گی۔

دھرنے کی صورت میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی ایک بار پھر اپوزیشن رہنماوں سے مذاکرات کرے گی، اپوزیشن نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو سخت ایکشن لیا جائے گا۔ دھرنا دینے پر پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی کمیٹی اپوزیشن رہنماؤں سے مذاکرات کرے گی تاہم مذاکرات میں وزیر اعظم کے استعفے کی شرط عائد نہیں ہوگی۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن معاہدے پر قائم رہتی ہے تو حکومت بھی پاس داری کرے گی، احتجاج میں اسلام آباد کے رہائشیوں کو کسی قسم کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتی اور پارٹی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے موجودہ میڈیا حکمت عملی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی ایجنڈے کے بجائے حکومتی پالیسی کا دفاع کیا جائے، حکومتی اقدامات اور پالیسی کو موثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔

حکومت ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے

دوسری جانب رات گئے گوجرانوالہ میں حیدری انڈر پاس پر مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فصل الرحمان نے کہا کہ میرے گوجرانوالہ کے غیور دوستوں آپ نے جس خلوص کے ساتھ آزادی مارچ کا استقبال کیا میں آپ کا شکر گزار ہوں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ یہ قومی آواز ہے کہ 25 جولائی کا الیکشن فراڈ ہے، عوام کے  مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا، میرا ملک داؤ پرلگا ہے، آزادی مارچ وطن عزیز کی بقا اور سلامتی کیلیے ہے، تمام سیاسی جماعتیں آج ایک پیج پر ہیں کہ حکومت ناجائز ہے اور ناجائز، نا اہل حکومت کا پاکستان پرمسلط ہونے کا حق نہیں۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کی کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، پاکستان معاشی حالات سے بیٹھ رہا ہے جب تک نااہل حکمران ملک پر مسلط ہے تب تک پاکستان کی معشیت بہتر نہیں ہو سکتی، 50 لاکھ گھر بنانے کے دعوے کیے گئے گھر بنائے تو نہیں گرائے گئے، خواتین استاتذہ کو سڑکوں پر کھینچا جا رہا ہے، آج اگر کشمیر پر بھارت نے یلغار کی ہے تو ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرکی ہے لیکن کشمیریوں کی آزادی اورحق خودارادیت کی جنگ لڑتے رہیں گے، ملک کے حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں ہم تمام سیاسی رہنما مل کر اپنے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، اب بھی موقع ہے ناجائزحکومت دستبردار ہوجائے، ہمارے اسلام آباد پہنچنے تک مستعفی ہوجائے اور قوم کومزید اذیت سےنجات دلائے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت کے خلاف نیب کو استعمال کیا جا رہا ہے، احتساب کے نام پر سیاسی قیادت کو دیوارسے لگایا جا رہا ہے، سیاسی قیادت کو دیوار سے لگانے کا ڈرامہ ختم ہونا چاہیے، ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں بیمار ہے خدا ان کو صحت یاب کرے۔

آزادی مارچ میں موٹر سائیکلوں سوار نوجوانوں کی بڑی تعداد

جے یوآئی کے آزادی مارچ کے ساتھ موٹر سائیکلوں پر نوجوانوں کی بڑی تعداد لاہور سے اسلام آباد پہنچی، کئی موٹر سائیکل سوار ایسے بھی تھے جو ملتان سے آزادی مارچ کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔

موٹر سائیکل سواروں میں سے کئی ایسے بھی تھے جنہوں نے بستر اور کھانے کا سامان بھی ساتھ باندھ رکھا تھا، ماضی میں ہونے والے لانگ اور آزادی مارچز سے مولانا فضل الرحمن کا مارچ اس حوالےمنفرد تھا کہ اس کے شرکا کی اکثریت کے پاس لوٹے بھی تھے۔

آزادی مارچ لاہور اور گوجر خان میں غیر ضروری طویل قیام کی وجہ سے لیٹ اسلام آبادپہنچا، گوجر خاں سے اسلام آباد کی طرف سفر کے دوران مولانا صرف نماز کی ادائیگی کے لیے رکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں