Home » تازہ ترین » مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 2 دن کی مہلت

مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم کو مستعفی ہونے کے لیے 2 دن کی مہلت

اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو مستعفی ہونے اور اداروں کو حکومت کی پشت پناہی ختم کرنے کیلئے صرف 2 دن کی مہلت ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 کے میٹرو گراؤنڈ میں مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جے یو آئی کا آزادی مارچ اور احتجاجی جلسہ ہوا۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے جلسے میں شرکت کی۔

2 روز کی مہلت

مولانا فضل الرحمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اداروں سے تصادم نہیں بلکہ ان کا استحکام چاہتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں، اگر ہم محسوس کریں کہ ناجائز حکومت کی پشت پر ادارے ہیں اور اس کا تحفظ کررہے ہیں، تو پھر 2 دن کی مہلت ہے، پھر ہمیں نہ روکا جائے کہ اداروں کے بارے میں کیا رائے قائم کرتے ہیں، وزیراعظم عمران خان کے پاس مستعفی ہونے کےلیے 2 دن کی مہلت ہے، وگرنہ عوام کا سمندر طاقت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کے گھر جاکر انہیں گرفتار کرلے۔

حکومت کو مزید مہلت نہیں دے سکتے

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پوری قوم کا عوامی اجتماع ہے، تمام سیاسی جماعتوں کا یکجہتی کا فیصلہ دراصل قومی مطالبہ ہے، سب کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ 25 جولائی کے الیکشن فراڈ تھے اور دھاندلی کا شکار تھے، حکومت کو بہت مہلت دے دی، مزید مہلت دینے کے روادار نہیں، ہم مزیدصبروتحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتے، اب ایک ہی فیصلہ کرنا ہے اس حکومت کو جانا ہے، قوم ان سے آزادی چاہتی ہے۔

پاکستانی گورباچوف ناکامی کا اعتراف کرکے مستعفی ہوجائے

جے یو آئی کے رہنما نے کہا کہ حکومت نے 50لاکھ گھر بنانے کے بجائے50لاکھ گھر گرا دیے، ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے25لاکھ لوگوں کو بیروزگار کر دیا، عوام کو ان نااہل حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے، حکومت کی نااہلی کے نتیجے میں ملکی معیشت تباہ ہوگئی، معیشت ختم ہوجائے تو ملک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا، پاکستان کےگورباچوف کو اپنی ناکامی کا اعتراف کرکے مستعفی ہوجانا چاہیے۔

شرکا دھرنے میں موجود رہیں

مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے اور حکومت کو جانا ہی جانا ہے، میری بات نواز شریف، آصف زرداری نے بھی سن لی اور جنہیں ہم سنانا چاہ رہے ہیں انہوں نے بھی سن لی، تحمل کے ساتھ دھرنے میں موجود رہیں، اپوزیشن جماعتیں باہمی رابطے میں ہیں، جو بھی فیصلہ ہوگا اس سے شرکاء کو آگاہ کیا جائےگا۔

کرپشن میں اضافہ ہوگیا ہے

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کہتی ہے کہ بھارت سےکشیدگی ہے،دوسری طرف دوستی کاہاتھ بڑھاتی ہے، کرتارپور راہداری کھولنے کیلئے ہندوستان کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہیں، کشمیر کو انہوں نے مودی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، کہتےتھےباہرسےلوگ نوکری کےلیےآئیں گے، باہر سے کوئی نہیں آیا صرف آئی ایم ایف کے2بندےضرور پاکستان آئےہیں، پرانی کریشن تودورکی بات نئی کرپشن میں تین فیصد اضافہ ہوگیا ہے، دوسروں کو آئینہ دکھانےوالےوزیراعظم اپنے شکل بھی آئینےمیں دیکھ لو، فارن فنڈنگ کیس میں ساری پی ٹی آئی اور ساراٹبر ہی چورہے۔

سانحہ تیزگام میں دہشتگردی کی تحقیقات کا مطالبہ

مولانا فضل الرحمان نے سانحہ تیزگام ایکسپریس کے متاثرین کےلیے دعا کرتے ہوئے واقعے کی دہشت گردی کے پہلو سے بھی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا۔

نماز جمعہ

آزادی مارچ کے شرکاء نے مولانا عبد الغفور حیدری کی امامت میں جلسہ گاہ میں نماز جمعہ ادا کی۔

کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت

کشمیر ہائی وے پر سجے پنڈال میں کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور پارٹی ترانوں سے ان کے حوصلوں کو گرمایا گیا۔ کارکنوں کے لیے واش رومز،وضواور پینے کے لیے پانی کی وافر مقدار موجود ہے۔  جلسہ گاہ سے ملحقہ سڑکیں کنٹیرز لگا کر بند کر دی گئی ہیں۔

شہباز شریف

شہباز شریف نے آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی پہلے نہیں آئی تھی بلکہ اب آئی ہے، عمران خان کی کنٹینر کی سیاست آج یہاں دفن ہورہی ہے، عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر عمران خان کی سلیکٹڈ حکومت کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائے گا، اب عمران خان کی چیخیں نکالنے کا وقت آگیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جب تک ملک کی عمران خان سے جان نہیں چھوٹتی ہم اس کی جان نہیں چھوڑیں گے، عمران خان کا دماغ خالی ہے،جادو ٹونے سے حکومت چل رہی ہے اور پھونکیں مار کر تعیناتیاں ہورہی ہیں، اقتدار میں آکر ملک کو ترقی دیں گے، نہ کر سکے تو میرا نام عمران نیازی رکھ دینا۔

بلاول بھٹو زرداری

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھر بھیجیں گے، 70 سال میں ہم صاف وشفاف الیکشن نہیں کراسکے، یہ کیسی آزادی ہے جہاں نہ سیاست آزاد ہے اور نہ صحافت، عوام کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کو نہیں مانتے بلکہ صرف جمہوریت مانگتے ہیں، ہم سلیکٹڈ وزیراعظم کو گھربھجوا کر چھوڑیں گے۔

خواتین کو پنڈال میں داخلے سے روکا گیا

جلسہ گاہ میں خواتین رپورٹرز اور اینکرز کو پنڈال میں داخلے سے روک دیا گیا۔ رضاکار فورس کے اہلکاروں نے خواتین صحافیوں کوجی نائن سگنل پرروکتے ہوئے کہا کہ پنڈال سے باہر رہ کر کوریج کریں۔

کارکنان خواتین کا احترام کریں

مولانا عبد الغفور حیدری نے جلسہ گاہ میں اعلان کیا کہ آزادی مارچ میں لاکھوں لوگ شریک ہیں اور خواتین سے بدتمیزی کی شکایات ملی ہیں، کارکنان خواتین کا احترام کریں اورانہیں راستہ دیں۔ مولانا عبد الغفور حیدری کی ہدایت کے بعد رضاکار اہلکاروں نے خواتین صحافیوں کو پنڈال میں اسٹیج کے قریب پہنچنے کی اجازت دی۔

حکومت کا سخت ردعمل

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماء بابراعوان نے اس اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنا آئین کے آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی ہے۔

فردوس عاشق اعوان نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھے انتہا پسندانہ ذہنیت نے خواتین پر مشتمل پاکستان کی نصف سے زائد آبادی کے حقوق پر کاری ضرب لگا دی، مارچ انتظامیہ نے خواتین اینکرز اور رپورٹرز کو کوریج کی اجازت نہ دےکر پتھر کے زمانے کی یاد تازہ کر دی۔

About Admin

Google Analytics Alternative