Home » کالم » مولانا فضل الرحمن کی بے وقت کی راگنی،ازادی مارچ کی ہوا نکل گئی
adaria

مولانا فضل الرحمن کی بے وقت کی راگنی،ازادی مارچ کی ہوا نکل گئی

مولانافضل الرحمان کا;200;زادی مارچ بے وقت کی راگنی ہے ،اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ جب سے عنان اقتدار سے باہر ہوئے اسی روز سے ;200;بِ بیماری کی طرح تڑپ رہے ہیں ، پہلے انہوں نے بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے مابین دوریاں ختم کرنے کی انتھک کاوشیں کیں ، کسی حد تک کامیاب بھی نظر;200;ئے لیکن شاید قسمت کی دیوی ان پرکوئی خاطر خواہ مہربان نظر نہ ;200;ئی، پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ سیاسی سمندر میں تنہا ہی غوطہ زن ہوجائیں اس کے لئے انہوں نے پھر سے کاوشیں شروع کیں لیکن وہ بھی بار ;200;ور ثابت ہوتی نظرنہیں ;200;رہیں ، جب نوازشریف اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے واضح طورپرکہہ دیا کہ(ن) لیگ ;200;زادی مارچ کی قیادت نہیں کرے گی، جبکہ ;200;صف علی زرداری سے اس بابت پوچھاگیا تو انہوں نے بھی کوئی حوصلہ افزا جواب نہ دیا، بلاول بھٹو زرداری نے بھی مولانافضل الرحمان کاساتھ دینے کے حوالے سے واضح اوردوٹوک بیان نہیں دیا اب جوستائیس اکتوبر کی مولاناصاحب نے تاریخ دی ہے وہ یہ تاریخ دینے سے قبل سوچ لیتے کہ اسی روز بھارت نے مقبوضہ وادی پر370 اور 35اے ختم کرکے شب خون مارا تھا ۔ گزشتہ روز وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی وپارٹی ترجمانوں کا اجلاس ہوا ۔ اجلاس کے دوران ملک کی معاشی و سیاسی صورتحال پر بھی غور کیاگیا ۔ اجلاس میں فضل الرحمان کی طرف سے ;200;زادی مارچ کے اعلان پر گفتگو ہوئی ۔ اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان مدارس اصلاحات سے پریشان ہیں اصلاحات ہوگئیں تو مدارس کے طلبہ کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکے گا، مولانا اپنی ڈوبتی سیاست بچانے کی کوشش کررہے ہیں مولاناکے دھرنے سے کوئی پریشانی نہیں احتجاجی تحریکوں کا مقصد این ;200;ر او کیلئے دباءو ڈالنا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کیخلاف طبلِ جنگ بجا چکے ہیں اور 27اکتوبر کو اسلام ;200;باد کی طرف کوچ کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔ مولانا بہت منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور انہوں نے یہ بات ذہن نشین کرلی تھی کہ ان کے لشکر میں باقی سیاسی جماعتیں بھی شریک ہوں گی لیکن پیپلزپارٹی اورنون لیگ نے مولاناکے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ مگر یہ دونوں مولانا فضل الرحمان کے احتجاج کی مکمل حمایت کررہی ہیں ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تو یہ کہا ہے کہ ہم ہر جمہوری احتجاج میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ہیں لیکن اگر شک ہوا کہ مولانا کسی قوت کے اشارے پر ہیں تو اپنی حمایت واپس لے لیں گے، احتجاج ہرکسی کاجمہوری و;200;ئینی حق ہے ، مدارس کے طلبا کو سیاسی احتجاج کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہئے سڑکوں پر فیصلے نہیں ہوتے ۔ مولانافضل الرحمان کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنی چاہیے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بھی مولانافضل الرحمان سے کہاہے کہ وہ اسلام ;200;باد کی طرف مارچ سے گریز کریں کیونکہ یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کادن ہے ۔ انہوں نے مولانافضل الرحمان کو تجویز دی کہ وہ احتجاجی مارچ کی تاریخ پرنظرثانی کریں کیونکہ یہ دن کشمیر کے لئے مخصوص ہے اور کشمیر کا نصب العین متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔ بھارت نے ستائیس اکتوبر کووادی پرقبضہ کیا اوراسی روز مولانافضل الرحمان اسلام ;200;باد کی طرف مارچ کر رہے ہیں جس سے کشمیر کاز اور پاکستان کو نقصان پہنچ سکتاہے ۔ وزیراعظم نے سٹیل ملز سے متعلق کہاکہ سٹیل ملز کی بحالی کے ذریعے قومی خزانے پر بوجھ کم کرنے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ یہ ملک کی ترقی میں اپنا کردارادا کرسکے ۔ سٹیل ملز کی بحالی حکومت کی اولین ترجیح ہے ،ماضی کی حکومتوں نے خسارے میں جانے والے اس ادارے کی بحالی پر توجہ نہ دے کر قوم پر بہت بڑا ظلم کیا جو سالہا سال سے ایک اضافی بوجھ بن گیا ہے ۔ وزیراعظم کو بتایاگیاکہ چینی اور روسی کمپنیوں نے پاکستان سٹیل ملز کی بحالی میں دلچسپی ظاہر کی ہے اوراس سلسلے میں متعدد تجاویز زیر غور ہیں ۔ ملک اقتصادی بحران سے نکل ;200;یا ہے اور اب عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف کی فراہمی کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ داخلی اور خارجی چیلنجوں کے باوجود معیشت مثبت سمت میں گامزن ہے ۔ حکومت افراط زر میں کمی لا کر ملک میں استحکام کیلئے کوشاں ہے اور بلاتفریق احتساب کیا جا رہا ہے جس کے ملکی معیشت پر مثبت نتاءج مرتب ہو رہے ہیں ۔ حکومت حزب اختلاف لاک ڈان کی دھمکی سے خوفزدہ نہیں ہے حکومت نے اس وقت مسئلہ کشمیر پر توجہ دے رکھی ہے اور ملک کو اقتصادی بحران سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جمہوریت میں احتجاج کرنا ہر کسی کا ;200;ئینی حق ہے ۔ دوسری جانب گوجرانوالہ ڈویژن کے ارکان قومی اسمبلی سے اسلام ;200;باد میں ملاقات میں وزیراعظم کاکہناتھا کہ عوام کی خدمت اور ان کامعیار زندگی بلند کرنا پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ حکومت نے احساس پروگرام شروع کیا ہے جو ملک کی تاریخ میں غربت کے خاتمے اور عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کا سب سے بڑاسماجی فلاحی منصوبہ ہے ۔ صحت سہولت کارڈ عوام کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریگا ۔ وزیراعظم نے ارکان پارلیمنٹ پر زوردیا کہ وہ اپنے حلقوں کے عوام کو درپیش مسائل کے حل میں موثر کردارادا کریں ۔

پاکستان کی کامیابی،افغان طالبان اور زلمے خلیل زاد ملاقات پررضامند

طالبان زلمے خلیل زاد سے ملاقات کرنے کےلئے رضامندہوگئے ہیں چونکہ دوحہ قطر کے مذاکرات کے بعد ملابرادر کی سربراہی میں وفد چین اورروس کے دورے کے بعد پاکستان ;200;یا ،یہاں اہم ملاقاتیں کیں ، افغانستان کےلئے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد بھی یہاں موجود ہیں ، وزیرخارجہ نے بتایا کہ اب طالبان اور ان کے مابین مذاکرات ہوں گے کیونکہ افغانستان کے مسئلے کاحل فوجی نہیں مذاکرات ہی ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،افغان طالبان کے وفد کی زلمے خلیل زاد سے بھی ملاقات ہو گی،کچھ قوتیں چاہتی ہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحد سے فارغ نہ ہو لیکن ہم پر امید ہیں کہ افغانستان کے حالات بہتر ہوں گے ، ہم امن کی طرف جائیں گے ، افغانستان میں بھی قائم ہوگا، ہم اس کیلئے بھی کوششیں جاری رکھیں گے ،مسئلہ افغانستان کو جتنا طول دیا گیا مشکلات اتنی ہی بڑھیں گی ۔ افغانستان میں ہونے والے انتخابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ افغانی کیا چاہتے ہیں ، 36ملین رجسٹرڈ ووٹر میں سے صرف 2ملین ووٹرز نے ووٹ کیا ، افغانستان میں دیرپا بہتری کیلئے مذاکرات دوبارہ شروع کئے جائیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات تقریبا ًطے ہو چکی تھی تاہم چند معاملات کی وجہ سے تعطل ;200; گیا ۔ امن کے بعد افغانستان گوادر کی بندرگاہ سے فائدہ اٹھا سکیں گے جس سے ان کی معیشت بہتر ہو گی ۔ عمران خان کے ساتھ طالبان کی ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں وزیراعظم طالبان کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن افغان حکومت کی درخواست پر وہ رک گئے، اب بھی ہم نے انہیں اعتماد میں لیا ہوا ہے ۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جہاں ختم ہوا وہیں سے دوبارہ شروع ہو ۔ امریکہ کو پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی کوششوں پر کوئی اعتراض نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں پاکستان کی کوششوں کو سراہ چکے ہیں ۔

یوم یکجہتی کشمیر

بھارت کیلئے واضح پیغام

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے 61ویں روزبھی کرفیو پابندیوں کیخلاف اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے جمعہ کو ملک بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا ۔ ;200;زادکشمیر سمیت، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلیاں نکالی گئیں اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے، پورے پاکستان میں انسانی زنجیریں بنانے کے علاوہ عوامی ریلیوں کا اہتمام کیا گیاجبکہ سیمینارز اور دیگر پروگرامز میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی گئی ۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں کشمیر کی ;200;زادی کیلئے دعائیں کی گئیں ۔ بھمبر سے چکوٹھی تک ;200;زادی مارچ کیا گیا ۔ ریلیوں میں مودی سرکار کے مکروہ عزائم کو بے نقاب کیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے ۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے ۔ بھارتی عدلیہ مقبوضہ کشمیر میں حکومت کے مظالم نظر انداز کررہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کے80لاکھ سے زائد عوام چاہتے ہیں کہ عدلیہ کشمیر میں حکومتی اقدامات کیخلاف دائر درخواستوں پر فوری فیصلے کرے کیونکہ انہیں پانچ اگست سے محاصرے اور شدید مصائب و تکالیف کاسامنا ہے ۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ علاقے کو ایک کھلے حراستی مرکز میں تبدیل کردیا ہے ۔ بی جے پی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے ظالمانہ قوانین کا استعمال کرتے ہوئے سیاستدانوں ، تاجروں ، کارکنوں اور صحافیوں سمیت ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرلیا تاکہ انہیں احتجاج سے روکا جاسکے ۔ بھارت اپنے اندرونی مسائل پرتوجہ دے کیونکہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی وجہ سے معاشی بحران روز بروز خطرناک صورتحال اختیار کررہا ہے ۔ انتہا پسند جماعت بی جے پی کے دور حکومت میں بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ادھراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریز نے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جہاں لوگوں کو گزشتہ 62دنوں سے سخت پابندیوں کا سامنا ہے ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈیوجیرک نے نیویارک میں معمول کی بریفنگ کے دوران مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر تشویش ہے اور انہوں نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان پر بحران کے حل کیلئے مذاکرات کرنے پر زور دیا ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پرانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں باعث تشویش ہیں بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں دانستہ طورپر مسلمانوں کی نسل کشی کررہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکی خصوصی ;200;ئینی حیثیت کے خاتمے کافیصلہ نام نہادبھارتی جمہوریت کے چہر ے پر سیاہ دھبہ ہے ۔ پاکستان اورعالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بند کرانے کےلئے بھارت پر دباءو ڈالنا چاہیے ۔ حق خودارادیت کےلئے کشمیریوں کی گرانقدر قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔

About Admin

Google Analytics Alternative