Home » کالم » مہنگائی کوکنٹرول کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایات
adaria

مہنگائی کوکنٹرول کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایات

وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں اپنے منشور میں کہاتھاکہ وہ اقتدار میں آئیں گے تو کوئی بھوکانہیں سوئے گا، اگر دیکھاجائے تو اس وقت ملک میں مہنگائی عروج پر ہے ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ اس وقت عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پاءوں مار رہے ہیں ، سابقہ حکومتوں کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے سوا اور کچھ نہیں دیا جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔ اب موجودہ حکومت اورعمران خان کے پاس موقع ہے کہ وہ غریب عوام کےلئے کچھ نہ کچھ کرکے دکھائیں اورعمران خان اپنے وعدے کو پورا کریں ، جب ملک میں مہنگائی ہوتی ہے تو کرپشن کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اورکچھ لوگ اس سے ناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں اوراس کانقصان غریب عوام ہی بھگتتے ہیں اس کے علاوہ غربت سے بہت سے جرائم جنم لیتے ہیں ۔ وزیراعظم کی یہ بات درست ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص بھوکانہ سوئے ۔ حکومت کو غربت کے خاتمے کے لئے دوررس اقدامات کرنے چاہئیں ۔ مہنگائی کی حالیہ لہر سے عام آدمی بھی پریشان ہے ۔ ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ عمران خان کے اعصاب مضبوط ہیں نکلے ۔ انہوں نے شدید دباوَ کے حالات میں اپنا حوصلہ قائم رکھا ہوا ہے ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے عوام کو نہ جمہوریت سے دلچسپی ہے اور نہ آمریت سے بلکہ عوام کو ایک ایسے صالح نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل کرسکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے ۔ اس حوالے سے گزشتہ روزوزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی اور قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں عام ;200;دمی کے استعمال میں ;200;نے والی اشیاضروریہ مثلاً ;200;ٹا، گھی، چینی، دالیں اور چاول کی وافر فراہمی اور ان اجناس کی قیمتوں میں کمی لانے کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں ۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی فرد بھوکا نہ سوئے ۔ حکومت ریاست کا یہ فرض پورا کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ ہماری ذمہ داری نہ صرف اشیاضروریہ کی وافر فراہمی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ان کی قیمتوں پر بھی قابو پانا ہے تاکہ کم ;200;مدنی والے اور غربت کے شکار افراد اور خاندانوں کو ضرورت کی بنیادی اشیا با;200;سانی میسر ;200;ئیں ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیا ضروریہ کی وافر فراہمی اور غریب افراد کےلئے ان اشیاکی کم قیمت پر فراہمی سے متعلق تجاویز کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر عملدر;200;مد کیا جاسکے اور عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے ۔ وزیراعظم عمران خان کا بنیادی مقصد انسانیت کا احساس اور سہولتیں دینا ہے، قانون سازی کے ذریعے غریب کی قانونی معاونت کیلئے مربوط نظام بنایا ہے ۔ بظاہر حالات یہ بتارہے ہیں کہ وقت مشکل ضرور ہے لیکن مشکل وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے کیونکہ گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی دیکھی جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ذاتی مفاد کو زیادہ ترجیح دیاور ملکی وقومی مفاد کوپس پشت ڈال کررکھا ۔

قومی اسمبلی میں طویل عرصے بعدقانون سازی

طویل عرصہ بعدقومی اسمبلی میں قانون سازی ہوئی ہے ، گزشتہ روز اجلاس کے دوران حکومت نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود 9 آرڈیننس سمیت11 بلز منظورکر لئے ۔ حکومت کی جانب سے اس یکطرفہ قانون سازی میں اپوزیشن کے ارکان کو بحث کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا اور ان کے اعتراضات کو اسپیکر نے یکسر مسترد کردیا ۔ اجلاس کے آغاز پر حکومت کی جانب سے و قفہ سوالات معطل کرنے کی اپیل کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا ۔ اس موقع پر بھی ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کے احتجاج کو نظر انداز کیا اور اپنی تمام توجہ حکومتی بنچوں پر ہی رکھی ۔ وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے مختلف بل منظوری کےلئے پیش کیے جن میں سے کئی حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل تھے ۔ قومی اسمبلی نے خواتین کے جائیداد میں حق کے حوالے سے بل 2019، انصرام تولید اور وراثت بل 2019، لیگل اینڈ جسٹس ایڈ اتھارٹی بل 2019 اور پسماندہ طبقات کےلئے قانونی معاونت و انصاف اتھارٹی بل منظور کر لیے ۔ اجلاس میں اعلیٰ عدلیہ میں ڈریس کوڈ کے نفاذ سے متعلق بل 2019، تحفظ مخبر نگراں کمیشن کے قیام کا بل، نیا پاکستان ہاءوسنگ اتھارٹی بل، مجموعہ ضابطہ دیوانی ترمیمی بل اور انسداد بے نامی ٹرانزیکشن ترمیمی بل 2019 کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ اراکین نے قومی احتساب بیورو ترمیمی بل 2019 کی بھی منظوری دی جس کے تحت احتساب آرڈیننس 1999 میں ترمیم کی گئی ہے ۔ ایوان میں مجموعی طور پر 15 بل پیش کیے گئے جن میں سے 11 کی منظوری دی گئی، 9 آرڈیننسز کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا جن میں سے 7 حالیہ جاری ہونے والے آرڈیننسز بھی شامل ہیں جبکہ 3 آرڈیننس میں 120 دن کی توسیع دی گئی جن آرڈیننس کو توسیع دی گئی ان میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز اتھارٹی، انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم سے متعلق آرڈیننس شامل ہیں ۔

ایس کے نیازی کی زیرک گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرزکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پاکستان کے سیاسی مستقبل کو عیاں کردیا ،ایک نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی ضیاء شاہد کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دھرنے سے دراصل ن لیگ اور پی پی کو فائدہ ہوا ہے البتہ مولانا فضل الرحمن کو اس لحاظ سے کامیابی ملی ہے کہ انہوں نے ایک کامیاب ’’پاور شو‘‘ کیا اور پارلیمنٹ میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کم اکثریت حاصل کرنے کے باوجود کامیاب دھرنا دے کر اپوزیشن کا بھرپور کردار ادا کیا جس کا فائدہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہوگا جبکہ مولانا فضل الرحمن کو یہ اعزاز بھی جاتا ہے کہ انہوں نے مختلف مکتب فکر کے مذہبی لوگوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کر قومی لیڈر کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ اس کے علاوہ مولانا یہ اجتماع بغیر کسی نقصان کے منعقد کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ لینے کے مطالبے کے جواب میں ایس کے نیازی نے کہا کہ یہ مطالبہ غیر ;200;ئینی ہے ۔ ایک سال سے زائد عرصہ ہونے کے باوجود حکومت معاملات کو بہتر نہیں کرسکی مہنگائی کا سلسلہ ہمارے سامنے ہے ۔ عام ;200;دمی کیلئے روزمرہ کی اشیاء خریدنا بھی مشکل ہوچکا ہے ۔ عوام کو مایوسی سے نکالنے کیلئے پی ٹی ;200;ئی کی حکومت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے بارے میں جلد سوچنا ہوگا ۔ پی ٹی ;200;ئی کی حکومت ٹیکس کا نظام بہتر بنانے میں بھی ناکام ہوئی ہے حالانکہ میرا خیال ہے کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم کا ویژن رکھتے ہیں مگر ان کیساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ایک تو ان کے ساتھ دوسری سیاسی پارٹیوں سے ;200;ئے ہوئے وزراء ہیں اور ان ;200;زمودہ لوگوں سے بہتر نتاءج کی توقع رکھنا دشوار بات ہے ۔ ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس عوامی مسائل کے ادراک کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ ایس کے نیازی نے پیشنگوئی کی کہ الیکشن ڈیڑھ سے دو سال کے عرصے میں ہونگے اور الیکشن فوج کے بغیر نہیں ہوسکتے ۔ فوج کو جب بلایا جاتا ہے تب ;200;تی ہے اور برسر اقتدار حکومت فوج کو بلاتی ہے لہٰذا فوج پرالزام نہیں لگانا چاہیے ۔

About Admin

Google Analytics Alternative