Home » سا ئنس اینڈ ٹیکنالوجی » نسان کمپنی کے سابق چیئرمین پر فرد جرم عائد، نئے وارنٹ گرفتاری جاری

نسان کمپنی کے سابق چیئرمین پر فرد جرم عائد، نئے وارنٹ گرفتاری جاری

معروف کار ساز جاپانی کمپنی نسان کے سابق چیئرمین کارلوس گھوسن پر فنانشل رپورٹس میں آمدن کم بتانے کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد ان کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہیں کہ کارلوس گھوسن کرسمس جیل میں گزاریں گے۔

خیال رہے کہ 19 نومبر کو مشہور کمپنی نسان کے چیئرمین کارلوس گھوسن کو کمپنی کے مالی معاملات میں ہیراپھیری کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے 2010 سے 2015 کے درمیان اپنی آمدن 5 ارب ین سے کم ظاہر کی تھی۔

تاہم جاپانی حکام نے انہیں آج ( 10 دسمبر کو ) علیحدہ الزامات کے تحت ایک مرتبہ پھر گرفتار کیا ہے، انہوں نے گزشتہ 3 سالوں میں اپنی آمدن کو 4 ارب سے کم ظاہر کیا تھا۔

جاپان کے قانون کے مطابق مشتبہ شخص کو مختلف الزامات کے تحت کئی مرتبہ گرفتار کیا جاسکتا ہے، جس میں پروسیکیوٹرز کو طویل مدت تک پوچھ گچھ کرنےکی اجازت ہوتی ہے،اس نظام کو بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔

آج پروسیکیوٹرز کے پاس کارلوس گھوسن اور ان کے ساتھی گریگ کیلی پر فرد جرم عائد ہونے یا دوبارہ گرفتاری سے قبل تحویل میں رکھنے کا آخری روز تھا اور پروسیکیوٹرز کی جانب سے دوبارہ گرفتار کیے جانے کی صورت میں انہیں پوچھ گچھ کے لیے مزید 22 دن کی اجازت مل سکتی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق کمپنی کی جانب سے ذرائع آمدن سے متعلق دستاویزات جمع کروانے کے بعد پروسیکیوٹرز نے کارلوس گھوس سمیت گریگ کیلی اور نسان کمپنی پر بھی الزامات عائد کیے ہیں۔

رینالٹ ذرائع کے مطابق ’ کارلوس گھوس خود پر عائد کیے الزامات کو مسترد کرکے ان کا مقابلہ کرنے کا ذہن بناچکے ہیں‘۔

خیال رہے کہ فرانسیسی کار بنانے والے کمپنی رینالٹ کی جانب سے نگران چیئرمین کی تقرری کے باوجود کارلوس گھوسن اب تک کمپنی کی سربراہی کررہے ہیں۔

لبنانی پس منظر رکھنے والے برازیلی نژاد فرانسیسی شہری کارلوس گھوسن جاپانی کمپنی نسان اور مٹسوبشی کے علاوہ یورپ میں کاریں بنانے کے حوالے سے مشہور کمپنی رینالٹ کی بھی سربراہی کررہے تھے۔

آٹو سیکٹر کے کروڑ پتی شخص کارلوس گھوسن کو پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے تنقید کا سامنا رہتا تھا،اب ٹوکیو کی ایک جیل میں 5 اسکوائر فٹ کے چھوٹے سے کمرے میں تنہا قید ہیں۔

انہوں نے سفارت خانے سے آنے والے افراد کو یقین دلایا ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جارہا ہے تاہم ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے انہیں زکام کی شکایت ہے۔

وہ اپنا وقت کتب بینی اور خبریں پڑھ کر گزارتے ہیں لیکن چاول پر مبنی غذا دیے جانے کی وجہ سے ناخوش ہیں۔

مقامی خبرایجنسی کیوڈو کے مطابق انہوں نے دستاویز پر دستخط کرنے کا اعتراف کیا ہے جس کے مطابق وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آمدن کے ظاہر نہ کیے جانے والے حصے سے انحراف کریں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ اس رقم کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ باقاعدہ طے شدہ نہیں تھی۔

تحقیقاتی ٹیم کے قریبی ذرائع کے مطابق کارلوس گھوسن اور گریگ کیلی نے نیا قانون آنے کے بعد ایسا کیا تھا، نئےقانون کے مطابق زیادہ تنخواہ دیے جانے والے کمپنی ملازمین کو اپنی آمدن کا اعلان کرنا تھا۔

کارلوس گھوسن نے اپنی تنخواہ کا حصہ دیگر عملے اور شیئر ہولڈرز کی تنقید سےبچنےکے لیے خفیہ رکھا تھا کیونکہ ان کی آمدن کافی زیادہ تھی۔

ٹوکیو میں مقیم تجزیہ کار ستارو تکادا کا کہنا تھا کہ ‘ ہم اس چیز کو قریب سے دیکھ رہے ہیں کہ ان پر واقعی الزام لگایا اور وہ قصوروار نکلتے ہیں یا نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ اگر انہیں پروسیکیوشن سے استثنیٰ دی گئی یا وہ بے قصور قرار پائے تو اس وجہ سے نسان کمپنی کی انتظامیہ شدید کنفیوژن کا شکار ہوجائے گی۔

تاہم ٹرائل سے قبل کارلوس گھوس کی ضمانت پر رہائی واضح نہیں ہے۔

جاپان میں پروسیکیوٹرز اور دفاعی وکیل ضلعی عدالت میں ٹرائل کا آغاز کرکے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرسکتے ہیں، اس طریقے سے حتمی فیصلہ آنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔

اگر کارلوس گھوسن قصوروار قرار پائے تو انہیں 10 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

یاد رہے کہ رینالٹ نے 1999 میں خسارے میں جانے والی کمپنی نسان کو بہتر بنانے کے لیے کارلوس گھوسن کی خدمات حاصل کی تھیں جس کےبعد کمپنی کو زبردست مالی فائدہ ہوا تھا۔

تاہم اب نسان کی جانب سے کارلوس گھوسن کی جگہ نیا سربراہ منتخب کرنے کے عمل کا آغاز کردیا گیا ہے جس کا حتمی فیصلہ 17 دسمبر کو کیا جائے گا۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری نے رینالٹ کی بداعتمادی میں اضافہ کردیا ہے جس کا کہنا ہے کہ انہیں کارلوس گھوسن پر عائد کیے گئے الزامات کی تفصیل کا علم نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آٹو کمپنی رینالٹ ، نسان کمپنی کے 43 فیصد حصص کی مالک ہے۔

کارلوس گھوسن کی گرفتاری پر لبنان کے عوام غم و غصے میں مبتلا ہیں اور بیروت میں ’ ہم کارلوس گھوسن ہیں ‘ کے ڈیجیٹل بل بورڈز کے ذریعے ان کے حق میں آواز اٹھارہے ہیں۔

لبنان کے وزیر داخلہ نہاد مشنوق نے اعلان کیا تھا کہ ’ لبنانی ققنس ( کارلوس گھوسن ) کو جاپان کے سورج سے جلنے نہیں دیا جائے گا‘۔

About Admin

Google Analytics Alternative