7

‘نس دبنے’ کی وجہ کیا ہوتی ہے اور گھر بیٹھے علاج کیسے ممکن ہے؟

کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ جسم میں کسی حصے میں دباﺅ یا طاقت کے نتیجے میں عصبی ریشے دب جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دماغ کو انتباہی سگنل ملتے ہیں۔

عصبی ریشے پر دباﺅ کے نتیجے میں پٹھے یا نبض یا شریان میں کھچاﺅ محسوس ہونے لگتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسے نس دبنے کا مرض بھی کہا جاتا ہے جو کہ Nerve compression بھی کہلاتا ہے

اس مرض میں عصب کو نقصان پہنچتا ہے اور اس کی علامات میں درد، متاثرہ حصہ سن ہونا اور کمزوری قابل ذکر ہیں۔

علامات

اس مسئلے کی انتباہی نشانیاں لوگوں میں مختلف ہوسکتی ہیں کیونکہ ان کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ جسم کے کس حصے میں یہ تکلیف ہورہی ہے۔

تاہم اس کی کچھ عام علامات درج ذیل ہیں:

سنسناہٹ، جلن، سن ہونا، درد، مسلز کی کمزوری، ایسا درد جس میں سوئیاں چبھنے کا احساس ہو، ایسا لگے کہ متاثرہ حصہ سو گیا ہو۔

یہ علامات لیٹنے یا سو کر اٹھنے کے بعد زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہیں۔

عصب دبنے کے اس مسئلے کے شکار فرد میں دیگر مسائل کا خطرہ بڑھ سکتا ہے جیسے پٹھوں یا عضلات کی نسیجوں کا درد، عرق النسا اور ہتھیلی میں عصب دبنے سے انگلیوں میں درد ہونا وغیرہ۔

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

نس دبنے کا مسئلہ جسم میں کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے تاہم زیادہ تر گردن، کمر، کہنیوں اور ہتھیلیوں میں ایسا ہوتا ہے۔

مگر اچھی بات یہ ہے کہ گھر میں رہتے ہوئے بھی چند کام کرکے اس درد میں کمی لانا ممکن ہے اور ایسے ہی چند ‘گھریلو ٹوٹکے’ درج ذیل ہیں۔

وجوہات

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

عام طور پر یہ مسئلہ اس وقت درپیش ہوتا ہے جب ایک عصب کو نقصان پہنچتا ہے اور وہ دماغ کو معمول کے مطابق سگنل بھیجنے سے قاصر ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں سوئیاں چبھنے اور سن ہونے جیسے احساسات سامنے آتے ہیں۔

اس کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسے مہرہ ہل جانا یا ہڈی ہل جانا بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے، جوڑوں کے امراض بھی ایک ممکنہ وجہ ہے۔

کچھ مخصوص عادات اور سرگرمیاں بھی اس کی وجہ بن سکتے ہیں جیسے بیٹھنے، کھڑے ہونے یا چلنے کا ناقص انداز ۔

کھیلوں کے دوران انجری یا ایک ہی جگہ چوٹ لگنے سے بھی عصب پر دباﺅ بڑھ سکتا ہے جبکہ موٹاپے کے شکار افراد میں یہ مسئلہ زیادہ ہوتا ہے۔

اضافی نیند اور آرام

اعصاب کی بحالی کے نیند لازمی ہے، نیند کے دوران جسم اپنی مرمت کرتا ہے، تو اسے زیادہ وقت دینا نس دبنے کی علامات کو زیادہ تیزی سے کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔

بیشتر کیسز میں متاثرہ حصے کو آرام دینے اور اضافی نیند سے نس دبنے کا مسئلہ خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

اس مسئلے کے علاج کے دوران یہ خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اعصاب کا بہت زیادہ استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے یہ مسئلہ زیادہ بدتر بھی ہوسکتا ہے، متاثر افراد کو ایسی سرگرمیوں سے گریز کرنا چاہیے جو متاثرہ حصے کے عصب کو متاثر کرے، انہیں سونے کے لیے ایسی پوزیشن اپنانی چاہیے جس سے اعصاب پر دباﺅ میں کمی آئے۔

بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا انداز

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

اگر آپ کے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کا انداز ٹھیک نہ ہو تو نس دبنے کا امکان بڑھتا ہے یا یہ مسئلہ زیادہ سنگین ہوسکتا ہے، زیادہ دیر تک ناقص انداز میں بیٹھنے یا کھڑے رہنے سے جسم پر غیرضروری تناﺅ بڑھتا ہے جو کہ ریڑھ کی ہڈی اور مسلز کو نقصان پہنچا کر نس دبنے کا باعث بن سکتا ہے۔

کشن کا استعمال، ایڈجسٹ ایبل کرسیاں اور بیٹھنے کے دوران گردن کو آرام فراہم کرنا اس دباﺅ میں کمی لاسکتا ہے اور متاثرہ حصے کی بحالی میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

درد کش گولیاں

بازار میں ملنے والی عام درد کش ادویات سے بھی اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، ورم کش ادویات کا استعمال سوجن میں کمی لانے کے ساتھ درد میں ریلیف فراہم کرسکتا ہے، تاہم کسی بھی دوا کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کرنا بہتر ہوتا ہے۔

اسکریچنگ اور یوگا

ہلکی پھلکی اسکریچنگ اور یوگا بھی متاثرہ حصے پر تناﺅ اور دباﺅ میں کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں، مگر یہ بہت ضروری ہے کہ بہت زیادہ اسکریچنگ سے گریز کیا جائے ورنہ معاملہ الٹ بھی ہوسکتا ہے۔ اگر اس ورزش کے دوران کسی درد یا بے سکونی کا احساس ہو تو فوری طور پر رک جائیں تاکہ عصب کو مزید نقصان نہ پہنچ جائے۔

مساج یا فزیکل تھراپی

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

مساج سے بھی جسمانی درد اور تناﺅ میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے، متاثرہ حصے پر نرمی سے دباﺅ ڈال کر اس پر موجود تناﺅ میں کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ مسل ریلیکس بھی ہوسکتا ہے۔ اسی طرح فزیکل تھراپی جس میں ورزش، مساج اور اسکریچز کا امتزاج ہوتا ہے، سے بھی اس مسئلے سے نجات میں مدد ملتی ہے۔

ٹانگوں کو ذرا اوپر رکھنا

کمر میں نس دبنے کے مسئلے سے دوچار افراد آرام کے دوران اپنے گھٹنوں کے نیچے چبد تکیے رکھ لیں تاکہ ان کی ٹانگیں 45 ڈگری زاویے پر ہو اور اس سے ریڑھ کی ہڈی سے دباﺅ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

برف اور گرمائش سے مدد لیں

گرمائش اور آئس پیک سے بھی سوجن اور ورم میں کمی لائی جاسکتی ہے، گرمائش اور ٹھنڈک کا امتزاج متاثرہ حصے میں تازہ خون کو بہاﺅ میں اضفہ کرسکتا ہے جس سے بھی درد میں کمی لانا ممکن ہوسکتا ہے۔ متاثرہ حصے پر ایک دن میں 3 بار 15 منٹ تک آئس پیک رکھنے سے ورم میں کمی لائی جاسکتی ہے، اسی طرح گرماش پہنچانے والے پیڈا کو دن میں 3 بار ایک گھنٹہ متاثرہ حصے پر رکھنے سے بھی یہ فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

طرز زندگی میں تبدیلیاں

طویل المعیاد بنیادوں پر چہل قدمی یا ہلکی پھلی جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانے سے ان علامات میں کمی لانے اور جسمانی ساخت برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔ اضافی جسمانی وزن کم کرنے سے بھی اعصاب پر دباﺅ میں کمی آتی ہے جبکہ ورک آﺅٹ کو معلوم بنانے سے بھی ورم کو کنٹرول میں رکھنا آسان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

شٹر اسٹاک فوٹو
شٹر اسٹاک فوٹو

جب عصب میں یہ مسئلہ پیش آتا ہے تو وہ دماغ کی جانب انتباہی نشانیاں بھیجتا ہے اور لوگوں کے لیے انہیں سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر کسی فرد کو نس دبنے کے نتیجے میں درد کی شکایت کئی دن تک ہوتی ہے یا علاج کے باوجود درد کم نہیں ہوتا تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کچھ علامات بھی فوری طور پر طبی امداد کا تقاضا کرتی ہیں جیسے مثانے میں یہ مسئلہ سامنے آنا، چیزوں کو پکڑنے میں ناکامی یا ہاتھ سے چیزیں گرجانا اور متاثرہ حصے کے نتیجے میں توازن کھودینا۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں