Home » کالم » فصیل حرف » نوازشریف کو کیا حاصل ہوا

نوازشریف کو کیا حاصل ہوا

آخر نوازشریف نے اپنے چہرے سے ایک نام نہادقومی لیڈر ہونے کا بہروپ اپنے ہاتھوں سے یہ کہتے ہوئے اتار پھینکا ہے کہ کیا غیر ریاستی عناصر کو ہمیں اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔ اپنے اس ملک دشمن انٹرویو میں یہ کہتے ہوئے گرہ لگائی کہ ممبئی حملوں کے راولپنڈی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلنے والے مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی۔نواز شریف اور اس کی دختر نیک اختر مریم نواز ایک عرصہ سے قومی راز افشا کرنے کی دھمکیاں دیتے چلے آ رہے تھے جو اگلے روز افشا کردیا۔اگرچہ یہ وہ الزام تراشی ہے جو پہلے ہم مودی کی زبان سے سنتے چلے آ رہے ہیں مگر اقتدار سے ہمیشہ کیلئے محرومی کے صدمے سے ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہوکر بھارتی موقف کی حمایت کر ڈالی ہے۔ نوازشریف کا یہ بیان بلاشبہ سکیورٹی رسک ہے اور قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیلئے ایک چیلنج بھی ہے۔ ایک ایسے ماحول میں جب ملک کو سخت بیرونی چیلنجز درپیش ہیں. FATF کے تحت پاکستان کی قرضوں کے ہمالیہ تلے دبی معیشت کا گھیراؤ کرنے کی ڈیڈ لائن (ماہ جون) سر پر آچکی ہے ایک سابق وزیراعظم کی طرف سے از خود پاکستان کے ملوث ہونے کا اقرار بین الاقومی بھیڑیوں کو نوچنے کی دعوت دینے کے مترادف ہے۔ نوازشریف کے اس بیان کو قومی سطح پر مذمت کے ساتھ مسترد کردیا گیا ہے اور اسے ہوس اقتدار کا نتیجہ کہا جا رہا ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ جس بھارتی موقف کو بین الاقومی سطح پر پذیرائی نہیں مل رہی اسے تین بار وزیراعظم رہنے والا شخص ماننے کو تیار ہے, محض اس وجہ سے کہ حالیہ دنوں میں اسے کرپشن کیس میں احتساب عدالتوں کا سامنا ہے اور کوئی اس کا ہاتھ تھامنے والا نہیں ہے۔پارٹی قیادت بھی ہاتھ سے نکل چکی جبکہ کرپشن کیس میں جلد اسے جیل ہونے والی ہے۔ممبئی حملے 2008 میں ہوئے تھے تب سے بھارت اس کا الزام بلا تحقیق پاکستان پر لگا رہا ہے۔اس سلسلے میں پاکستان نے تحقیقات کے لیے بھارت کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔بھارت کے کہنے پر یہاں مقدمہ بھی درج کیا لیکن بھارت نے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جس سے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔نوازشریف نے اپنے انٹرویو میں اس پر بھی طعنہ زنی کی۔میاں نوازشریف نے یہ طعنہ زنی ایسے کی جیسے گزشتہ پانچ سال سے کسی خلائی مخلوق کی حکومت تھی اور یہ بھولے بادشاہ ایک عام شہری تھے۔جب جناب وزیراعظم تھے تو اس معاملے کو مودی کی منشا کے مطابق حل کر لیتے تو آج انہیں سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔کلبھوشن کے معاملے پر جس طرح ڈھٹائی کے ساتھ پانچ سال خاموشی اختیار کیے رکھی اسی ڈھٹائی کے ساتھ اقبال جرم کر کے عالمی اسٹیبلشمنٹ سے شاباش لے لیتے کس نے روکا تھا انہیں۔تب سب ٹھیک تھا, اب اقتدار سے محرومی کے بعد کبھی عدلیہ کو کاٹنے کو دوڑتے ہیں تو کبھی پاک فوج کی جڑیں کاٹنے کے درپے ہیں۔یہ رویہ اور سوچ ہر اینگل سے قابل مذمت ہے۔نوازشریف کے اس بیان پر کہ تحقیقات کیوں مکمل نہ سکیں تو گزشتہ روز چوہدری نثار علی خان جو میاں صاحب کے ساتھ وزیر داخلہ تھے انہوں نے نواز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممبئی حملہ کیس کے تمام مراحل سے مکمل طور پرآگاہ ہیں،تمام حالات و واقعات اور کوائف کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ بھارت کی دلچسپی اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات اور اسے منطقی انجام تک پہنچانے میں نہیں بلکہ وہ اسے اپنے مذموم سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔بھارتی حکومت نے اس واقعے کو بین الاقوامی طور پر پاکستان کو بدنام کرنے کے آلہ کار کے طور پر استعمال کیا جو وہ آج تک کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ممبئی حملہ بھارت میں ہوا اور اس کے 90 فیصد شواہد اور حقائق اسی کے پاس تھے۔ پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی بھارتی حکومت متعلقہ شواہد پاکستان کے تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تبادلہ کرنے سے گریزاں رھی۔ پاکستانی عدالتوں کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کیا گیا نہ مذکورہ کمیٹی کو بھارت آنے کی اجازت دی گئی اور بعد ازاں مختلف بہانوں سے نئی دہلی نے تمام شواہد اور حقائق پاکستان کے ساتھ شیئر کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا تھا جبکہ اجمل قصاب جو اس واقعے کا واحد زندہ ثبوت تھا اس کو بھارت نے کمال پھرتی کے ساتھ پھانسی گھاٹ پر پہنچا دیا۔مگر نوازشریف بضد ہیں کہ اس نے کیا غلط کہہ دیا ہے۔ہمارے خیال میں نوازشریف کو اپنی حکومت میں صرف اپنے اثاثوں کی بڑھوتری کی تو فکر تھی باقی کیا رہا ہے اس سے وہ بے خبر رہے یا جاننے کی کوشش نہیں کی۔انکے رائٹ ہینڈ اور وزیرداخلہ کی وضاحت انہیں ہوش دلانے کیلئے کافی ہے۔رہ گئی یہ بات کہ ممبئی حملوں کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اور کس نے اس سارے ڈرامے کو سٹیج کروایا اس کی قلعی ایک جرمن اور یہودی النسل دانشور اپنی کتاب Betrayal of India Revisiting the 26/11 Evidence میں پہلے ہی کھول چکے ہیں۔یقیناًیہ کتاب انہوں نے نہ پڑھی ہو گی نہ ہی ان کے گرد مکھیوں کی طرح بھننانے والے مشیروں نے کبھی ان کی توجہ اس طرف دلائی ہوگی۔جن کے دل و دماغ پر سری پائے جیسے کھابے اور اقتدار کی کرسی سوار ہو انہیں کتب بینی سے کیا غرض۔

مزے کی بات یہ ہے کہ ہوشربا انکشافات اور حقائق پر مبنی تجزیے پر مشتمل یہ کتاب بھارتی پبلشر فروز میڈیا، نیو دہلی کی شائع کردہ ہے جبکہ مصنف معروف تحقیقاتی صحافی ایلیس ڈیوڈ سن ہے، جن کا تعلق یہودی مذہب اور جرمنی سے ہے۔ 2017 میں یہ کتاب سامنے آئی جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ دہلی سرکار اور بھارتی اداروں نے حقائق مسخ کیے، بھارتی عدلیہ بھی سچائی سامنے لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہی۔انہوں نے لکھا کہ ممبئی دہشت گرد حملوں کے حقائق چھپانا بھارتی سیکیورٹی و انٹیلی جنس اداروں کی نااہلی نہیں بلکہ منصوبہ بندی تھی.ایلیس ڈیوڈ سن کے نزدیک ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی و عمل درآمد کی سازش میں بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائیلی کردار بھی پنہاں ہے۔ مصنف نے ممبئی حملوں کو خفیہ آپریشنز طرز کے حملے قرار دیا جس سے یہ تاثر قائم کیا گیا کہ بھارت کو دہشت گردی سے مستقل خطرہ ہے۔ ممبئی حملوں میں ہیمنت کرکرے اور دوسرے پولیس افسروں کے قتل کے حوالے سے اہم اطلاعات کو بھی چھپایا گیا۔ ممبئی حملوں کے ان متاثرین اور گواہوں کے بیانات نہیں لیے گئے جو واقعے کے سرکاری بیانیے کو اپنانے پر تیار نہ ہوئے۔ ان گواہوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے نریمان ہاس میں حملوں سے دو روز قبل اجمل قصاب اور چند دیگر افراد کو اکٹھا ہوتے دیکھا۔ کچھ مقامی دکاندار اور رہائشیوں نے یہ گواہی بھی دی کہ شدت پسند کم از کم پندرہ دن نریمان ہاس میں رہتے رہے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی اور اسرائیلی حکومتیں نریمان ہاس واقعے سے متعلق ثبوت گھڑتی رہیں اور مرضی کی گواہیاں حاصل کرنے میں ملوث نظر آئیں۔دہشت گردوں کے سہولت کار جو فون نمبر استعمال کرتے رہے وہ امریکی تھا۔مصنف نے ان حملوں کو پاکستان کو دبا ؤ میں لانے کی امریکہ ، بھارت اور اسرائیلی کوشش قرار دیا مگر میاں صاحب کی گنگا مودی کی طرح اب بھی الٹی بہہ رہی ہے۔اب وقت آ گیا ہے پاکستان مخالف لابیوں کی بیخ کنی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ یہی چلن برقرار رہا تو پھر پاکستان کا بیانہ صدا بصحرا ہی ثابت ہوتا رہے گا۔دانشور طبقہ آگے آئے اور دنیا کو ایسے لغو پروپیگنڈا سے آگاہ کرے۔میڈیا بھی اس میں کردار ادا کرے۔ اگرچہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں کوئی انگلش چینل نہیں ہے جو اپنی آواز بہتر اور موثر طریقے سے دنیا تک پہنچا سکے۔ادھر پی ٹی وی ہے جس کو یہ کام کرنا چا ہیے لیکن وہاں بھی سیاسی اثرورسوخ کے باعث مایوسی ہی ہے۔یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہے۔
*****

About Admin

Google Analytics Alternative