adaria 1

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت، گو مگو کا شکار

حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو انسانی اور صحت کی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر ایک اچھی اور جمہوری روایت قائم کی ہے تاہم اس سلسلے میں شورٹی بانڈ بنیادی رکاوٹ ہے ۔ جب تک نواز شریف وہ نہیں فراہم کریں گے اس وقت تک وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے ۔ ن لیگ نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم یہاں کہتے ہیں کہ جان ہے توجہان ہے ۔ یہ دنیا کا جاوحشمت یہیں رہ جانا ہے یہ جتنے بھی میلے ہیں سب زندگی سے منسوب ہیں ۔ حکومتی اقدام سے ن لیگ اور خصوصی طورپر نواز شریف کو مستفید ہونا چاہیے اور اس حوالے سے جو شرائط عائد ہیں ان کو پورا کرکے ہی بیرونی دنیا کا رخت سفر باندھا جاسکتا ہے ۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ آئینی اور قانونی طور پر شورٹی بانڈ لے سکتی ہے جبکہ ن لیگ اس کی مخالف ہے ۔ ماضی کے جھرونکے میں جھانکا جائے اور جو بھی سیاسی راہنما باہر گئے پھر وہ وطن واپس نہیں آئے انہیں واپس لانے کیلئے حکومت کو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں لیکن پھر بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ بہت دور کی بات نہیں اسحاق ڈار جوکہ ن لیگ کے وزیر خزانہ تھے انہیں حکومت نے وطن واپس لانے کیلئے کیا جتن نہیں کیے ۔ مگر نتاءج زیرو ہیں ۔ اسی وجہ سے حکومت نے شورٹی بانڈ کی شرط عائد کی ہے ۔ حکومت کے مطابق چونکہ کیس کرپشن کا ہے اور عوام کی دولت لوٹی گئی ہے لہذا سکی واپسی ہر صورت لازمی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ وہ کیونکر معاف کرسکتے ہیں ۔ یہ اختیار صرف عوام کو حاصل ہے کیونکہ لوٹی عوام کی دولت گئی ہے بلکہ یہ شورٹی بانڈ کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ کوئی بھی کسی بھی مقدمے میں ملوث شخص چاہے اس کا تعلق سیاست سے ہو یا زندگی کے کسی شعبے سے ہو وہ ہر صورت شورٹی بانڈ بھرے ۔ پھر المیہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج معالجہ ممکن ہو سکے، عوام بیچارے تو ان ہی ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں پھر یہ سیاسی راہنما کیوں علاج کیلئے باہر جاتے ہیں ۔ بیرون ملک علاج کا سلسلہ ہی ختم ہونا چاہیے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت کی جانب سے عائد شرائط درست اور حقائق پر مبنی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کیلئے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کے باعث کیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری میمورنڈم میں 80 لاکھ پاوَنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1;46;5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی ہے، نوازشریف یا شہبازشریف وزار ت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کو شورٹی بانڈ جمع کرواسکتے ہیں ، جبکہ نوازشریف روانگی کی تاریخ سے چار ہفتوں کا میڈیکل ٹریٹمنٹ کروا سکیں گے ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ

حکومت کو کسی بھی سزایافتہ مجرم سے ضمانت اور سیکیورٹی بانڈ لینے کا حق حاصل ہے، نواز شریف کو شیورٹی بانڈ دینا ہوگا، حکومت شرائط کے ساتھ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ جاری کرے گی، باقی ان کی مرضی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر دوران علاج نواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں ہوتی تو انہیں ملنے والی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے ۔ ماضی میں کچھ لوگ بیرون ملک گئے اور واپس نہیں آئے، کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے;238; ہم سے سوال ہوسکتا ہے کہ جانے کی اجازت دی تو کیا کوئی ضمانت بھی لی ۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط پر بیرون ملک جانے سے انکار کردیا ہے، انہوں نے اپنے اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی آگاہ کردیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد ن لیگ کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایک ایسا درمیانہ راستہ نکالے جس سے ملک میں سیاسی انارکی نہ پھیلے ۔ اس وقت نواز شریف کی صحت اور ان کا علاج ترجیحی بنیادوں پر ہونا لازمی ہے، جب حکومت نے ایک سہولت فراہم کی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا ن لیگ پر منحصر ہے ۔ اب بال ن لیگ کے کورٹ میں ہے کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ کسی بھی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے جس سے ملکی سیاسی حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ دیگر سیاسی رہنماءوں کو بھی ن لیگ کو اس امر پر قائل کرنا چاہیے کہ وہ دنیاوی دولت سے زیادہ نواز شریف کی صحت اور ان کی جان کو ترجیح دیں ۔ شورٹی بانڈ تو ایک ضمانت ہے جب نواز شریف نے ملک واپس ہی آنا ہے تو پھر کس بات کے تحفظات ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اسلام آباد سے دھرنا ختم کرنا خوش آئند اقدام

وفاقی دارالحکومت سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دھرنا ختم کرنا احسن اقدام ہے ۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے تقریباً لوگ آہستہ آہستہ روانہ ہورہے تھے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے فضل الرحمن نے یہ ہی بہتر سمجھا کہ دھرنے کو ختم کرکے اسے ملک بھر میں پھیلا دیا جائے ۔ اس طرح فیس سیونگ بھی مل جائے گی اور یہ بات بھی و جائے گی کہ اب احتجاج ملک بھر ہوگا لیکن درحقیقت بات یہ ہے کہ اس آزادی مارچ اور دھرنے میں جے یو آئی (ف) تنہا کھڑی نظر آئی ۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی شامل ہیں وہ اس دھرنے میں شامل نہیں ہوئیں ۔ اس وجہ سے بھی دھرنے کا ختم ہونا ہی بہتر تھا ۔ تاہم ایک بات ضرور ہے کہ اسلام آباد میں چودہ روز رہنے والا دھرنا انتہائی آرگنائز تھا، کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ۔ کوئی ناچ گانا نہیں تھا ۔ اور نہ ہی لوگ ڈی چوک کی جانب بڑھے ۔ اس اعتبار سے ان کو داد بھی دینی چاہیے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور موڑ دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان بی کا اعلان کردیاہے اور کہاہے کہ ملک بھر کی اہم شاہرائیں بند کردی جائیں گی،کشمیری عوام کے ساتھ ہیں ، پرامن دھرنے سے تاریخ رقم کی ہے، پرامن جدوجہد جاری رہے گی ،حکومت نوازشریف کی بیرون ملک روانگی میں رکاوٹیں ڈال کر ظالمانہ اور بدنیتی پر مبنی رویہ اختیار کررہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں خیال تھا اجتماع اٹھے گاتو حکومت کے لئے آسانیاں ہوجائیں گی لیکن گلی گلی احتجاج کے اعلان سے صوبوں اورضلعوں میں حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں ۔ کارکن گھروں سے نکل آئیں ،احتجاج ہمارا حق ہے ،عرصہ دراز سے ڈاکٹرعافیہ کوامریکہ نے قید کیا ہوا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں ،کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔

روزنیوز کے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کے اہم ترین انکشافات

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورروز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے معروف پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ملک کی تازہ ترین صورتحال پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف گیا ، مریم چلی جائے گی مگر پنجاب بھی تحریک انصاف سے چلا گیا ، انہوں نے پیشن گوئی کی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر چوہدری پرویز الٰہی کے امکانات زیادہ جبکہ شہباز شریف کا چانس بھی موجود ہے ، ایس کے نیازی نے کہاکہ عثمان بزدار ایک اچھا آدمی ہے ، نوازشریف کےلئے سات ارب کی کیا اہمیت ہے ، ان کاباہرجانا یقینا ڈیل کا نتیجہ ہے لیکن یہ این آر او نہیں ہے ، قانون میں کسی ایسی بیماری کی صورت میں جس کا علاج ملک میں ممکن نہیں باہر جانے کی اجازت مل جایا کرتی ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلوں میں ایسی ایسی بیماریوں والے لوگ پڑے ہوئے ہیں جن کا علاج یہاں ممکن نہیں ، ایس کے نیازی نے کہا نواز شریف نے دس ارب کی ڈیل کر لی مگر زرداری کچھ دینا نہیں چاہتے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں