Home » تازہ ترین » نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم پر پنجاب حکومت کا مؤقف مسترد کردیا

نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم پر پنجاب حکومت کا مؤقف مسترد کردیا

لاہور: نیب نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم پر پنجاب حکومت کا مؤقف ایک مرتبہ پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

نیب لاہور نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات میں پیش نہ ہونے پر سابق ڈی جی لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) احد چیمہ کوحراست میں لے لیا تھا جس پر پنجاب حکومت کا کہنا تھا کہ گرفتاری غیرمناسب اقدام ہے، ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں۔

نیب کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں پنجاب حکومت کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ احد چیمہ کی گرفتاری بلاجواز نہیں بلکہ ملزم نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور ہمارے پاس ملزم کے خلاف ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ نیب نے اپنے اعلامیئے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے 20 جنوری 2015 کو پی ایل ڈی سی سے معاہدے کے تحت آشیانہ اقبال اسکیم ایل ڈی اے کو دی، مارچ 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملی بھگت سے 14 ارب کا کنٹریکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کاسا ڈویلپرز کو دیا، احدچیمہ نے مجرمانہ انداز میں ناصرف پروپوزل ریکویسٹ تیار کیا بلکہ پیش کرتے ہوئے پاس بھی کروایا۔ جے وی کے 90 فیصد شیئرز بسم اللہ انجینئرنگ کی ملکیت جب کہ سپارکو کنسٹرکشن کے جی وی کے تحت 9 فیصد شئیرز تھے لیکن ملزم نے سپارکو کنسٹرکشن کو کاسا ڈویلپرز کی فرنٹ کمپنی ظاہر کیا جو غیرقانونی تھا۔

نیب کے مطابق جے وی کی اصل لیڈ ممبرکمپنی بسم اللہ انجینئرنگ تھی جو بذات خود بڑی مالیت کا پروجیکٹ لینے کے لئے نااہل تھی، پی پی پی ایکٹ کی شک 14 ڈی، ایچ اور جے کے تحت جے وی کے شیئرہولڈرز کی تفصیلات حاصل کرنا لازم ہے تاکہ کنٹریکٹ دیا جاسکے لیکن احد چیمہ نے جے وی ممبران سے ملی بھگت کرکے ایم او یو منظور کیا جس کے تحت شیئرہولڈرز کی تفصیلات کو پوشیدہ رکھا گیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا  کہ جے وی معاہدے جمع کروائے جانے کے باوجود ملزم نے بدنیتی کے ذریعے کنٹریکٹ اوارڈنگ جاری رکھی جس کی وجہ سے قومی خزانے کو خطیر رقم کا نقصان پہنچا اور 3 سال میں آشیانہ اقبال منصوبہ شروع بھی نہ ہوپایا، تقریباً 61 ہزار غریب افراد کی 6 کروڑ روپے کی رقم فیس کے نام پر ہڑپ کرلی گئی اور اس دوران حکومت کی جانب سے بھی 19 کروڑ کی بھاری رقم خرچ کی گئی، لکویڈیشن ڈیمج کے نام پر کاسا ڈویلپرز نے 45 کروڑ 50 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا جب کہ حکومت اور ڈویلپرز کی ملی بھگت اور بدنیتی سے پروجیکٹ کے تعمیری خرچے میں سیکڑوں گنا اضافہ ہوا۔

نیب اعلامیے میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پیراگون سٹی کے ڈی ایچ اے برانچ اکاؤنٹ نمبر 0010013691650013 سے  پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ندیم ضیا کے الائیڈ بینک کے اکاؤنٹ نمبر 0010010627750021 صادق پورہ برانچ میں 3 کروڑ 90 لاکھ روپے منتقل ہوئے، رقم منتقل کرنے کا مقصد موضع تیڈھا میں 32 کنال اراضی خریدنا تھا اور بعد میں وہ اراضی ملزم احد چیمہ، بھائی سعود چیمہ، بہن سعدیہ منصور اور کزن احمد حسن کے نام منتقل ہوئی۔

About Admin

Google Analytics Alternative