4

نیند کی کمی کے اثرات توقعات سے زیادہ سنگین

محض ایک رات نیند کی کمی کے ذہن پر اثرات توقعات سے زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔

یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا

مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگر ایک رات کی بے خوابی کے بعد آپ کو سوچنے میں مشکلات کا سامنا ہے تو یہ آپ کا وہم نہیں بلکہ حقیقت ہے کیونکہ نیند کی کمی کے اثرات ماضی کے اندازوں سے بہت زیادہ سنگین ہوتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی کمی کے نتیجے میں گھر اور دفاتر میں روزمرہ کے کاموں میں لوگوں کی جانب سے غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے جبکہ توجہ مرکوز کرنے میں مشکلات کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے جو چونکا دینے والا ہے۔

محققین کے مطابق ایسے افراد کو عام روزمرہ کے کاموں کو کرنے کے لیے کافی جدوجہد کرنا پڑتی ہے جو لوگ عام طور پر بہت آسانی سے کرلیتے ہیں۔

تحقیق کے دوران 77 رضاکاروں کو پوری رات جگائے رکھا گیا جبکہ 61 افراد کو گھر میں سونے کا موقع دیا گیا۔

ان کی اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے شام کو اور پھر اگلی صبح 2 قسم کے ذہنی آزمائش کے ٹیسٹ لیے گئے جس کے دوران ان رضاکاروں کو مداخلت کا بھی سامنا ہوا۔

ایک ٹیسٹ ان کے ردعمل کے وقت کے حوالے سے تھا جبکہ دوسرا روزمرہ کے کاموں کی اہلیت کی جانچ پڑتال کے لیے تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ شام میں غلطیوں کی شرح 15 فیصد تھی مگر اگلی صبح نیند کی کمی کے شکار افراد میں یہ شرح 30 فیصد تک جاپہنچتی جبکہ اچھی نیند کا مزہ لینے والے افراد نے شام جیسے ہی اسکور حاصل کیے۔

محقین کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار ہے جب نیند کی کمی کے روزمرہ کے کاموں پر اثرات کا تجزیہ کیا گیا اور نتائج سے یہ عام خیال رد ہوگیا کہ ہماری توجہ کی صلاحیت ہی نیند کی کمی سے متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیند کی کمی کے شکار کچھ افراد ہوسکتا ہے کہ روزمرہ کے کاموں کو کرنے میں کامیاب ہوں مگر نتاءجسے عندیہ ملتا ہے کہ کسی سرگرمی کو مکمل کرنے کے لیے عام طور پر متعدد اقدامات کرنا پڑتے ہیں اور نیند کی کمی میں یہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ایکسپیرمنٹل سائیکولوجی: جنرل میں شائع ہوئے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں