Home » کالم » ن لیگ کی قیادت مشکل میں

ن لیگ کی قیادت مشکل میں

تارےخ اےسی عبرت ناک مثالوں سے بھری پڑی ہے کہ کل کے بادشاہ آج کے قےدی اور کل کے قےدی آ ج کے بادشاہ بن جاتے ہےں راتوں رات مقدر بدل جاتا ہے ۔ مکافات عمل سے ڈرنا ہی تارےخ کا سبق ہے لےکن اسے ہمےشہ فراموش کر دےا جاتا ہے ۔ ان دنوں وطن عزےز مےں سےاسی موسم گرم ہے ،گرفتارےاں ہو رہی ہےں کہےں پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے کے بےانات ہےں اور کہےں جےل مےں نواز شرےف کےلئے گھر کا کھانا روکنے کی باتےں ہو رہی ہےں ۔ ملک مےں احتسابی عمل جاری ہے ۔ اس احتسابی عمل کی زد مےں کوئی سےاستدان کسی وقت بھی آ سکتا ہے ۔ عوام کی اکثرےت کا منشا بھی ےہی ہے کہ احتساب کا عمل بلا تفرےق ،شفاف اور غےر جانبدارانہ ہو اور لوٹی ہوئی دولت کو واپس لاےا جائے ۔ کسی سےاستدان کا نےب کے ےا کسی اور ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہونا اچنبھے کی بات نہےں لےکن رانا ثنا ا;203; کی اے اےن اےف کے ہاتھوں اچانک منشےات کےس مےں گرفتاری پر ےقےن نہےں آ رہا کہ ےہ بھی ہو سکتا ہے مگر جہاں ملک کا اےک سابق صدر ،تےن سابق وزرائے اعظم ،اےک موجودہ صوبائی سپےکر اور بہت سے موجودہ اور سابق وزراء ملک کے وسائل کی لوٹ مار اور بےرون ملک سمگلنگ اور غےر ممالک مےں درجنوں پلازے ، فلےٹس اور فارم ہاءوس بنانے کے سنگےن قومی جرائم مےں ملوث ہوں تو وہاں اےک سابق سینئر وزےر بھی سنگےن مجرم نکلے تو حےرت کےسی;238;رانا ثنا ء ا;203; کی گرفتاری پر حےرت اس بات پر ہوئی کہ ان کی اپنی سےاسی قےادت کرپشن،بدعنوانےوں اور منی لانڈرنگ جےسے الزامات کے تحت قائم مقدمات کے نتےجے مےں پابند سلاسل ہو اور جس جماعت کی گرفتارےوں کا سلسلہ رکنے مےں نہ آ رہا ہو وہ خود ہمہ وقت کےمروں کی زد مےں ہو وہ اےسی حماقت کےسے کر سکتا ہے کہ اپنی ہی گاڑی مےں 15کلو ہےروئن لے کر نکلے اور وہ بھی موٹر وے پر جہاں ناکوں اور نگرانی کی صورتحال عام شاہراہوں سے کہےں بہتر ہو ۔ رانا ثناء ا;203; پانچ بار اےم پی اے رہے اور اب پہلی دفعہ اےم اےن اے منتخب ہوئے ہےں ۔ ان کی علاقے مےں شہرت اےک اکھڑ اور سخت گےر شخص کی ہے ۔ ساری عمر سےاست کرتے گزر گئی ۔ پہلے پےپلز پارٹی کے مرکزی رہنماءوں مےں شمار تھا ۔ نواز شرےف اور شہباز شرےف کے خلاف سخت بےان بازی اور پھر نواز شرےف کے زےر ساےہ آ کر پےپلز پارٹی کے خلاف مہم مےں کلےدی کردار ادا کےا ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاع پر انہےں لاہور جاتے ہوئے سکھےکی منڈی کے پاس روکا گےا تو رانا ثناء ا;203; کی گود مےں بےگ تھا جس مےں پندرہ کلو کے لگ بھگ منشےات برآمد ہوئی ۔ رانا ثناء ا ;203; کی گرفتاری پر اےنٹی نار کوٹکس فورس نے موقف اختےار کےا کہ اس نے بڑی جدوجہد اور کوششوں کے بعد ےہ کارنامہ سر انجام دےا ۔ رانا ثناء ا ;203; کی گرفتاری سے قبل اے اےن اےف نے چھ سے سات گرفتارےاں کی تھےں ان سے تفتےش کی روشنی مےں بخاری نامی شخص کو بھی گرفتار کےا گےا جس مےں پتہ چلا کہ کافی تعداد مےں فنڈ اکٹھا کر کے کالعدم تنظےموں کو دےا جاتا ہے ۔ کچھ لوگوں کا تو کہنا ہے رانا ثناء ا;203; کی گرفتاری کا سبب عابد شےر علی کی مخبری بنی ۔ حکومت نے پہلے کہا کہ رانا ثناء ا;203; کی گرفتاری سے ہمارا کوئی لےنا دےنا نہےں پھر دو روز بعد وزےر مملکت شہر ےار آفرےدی نے اےنٹی نار کوٹکس کے ہمراہ اےک پرےس برےفنگ مےں انکشاف کےا کہ حکومت کے پاس پہلے ہی اطلاعات تھےں کہ رانا ثناء ا;203; کا نہ صرف منشےات فروشوں سے تعلق ہے بلکہ وہ خود بھی منشےات سمگلنگ کے دھندہ مےں ملوث ہےں اور ان کے متعلق اب ٹھوس شواہد بھی مل چکے ہےں جن کو عدالت کے روبرو پےش کر دےا جائے گا ۔ اس مےں کوئی شک نہےں کہ اے اےن اےف عمومی طور پر اےک بہتر شہرت کا حامل ادارہ ہے مگر جن حالات مےں اور جس انداز سے رانا ثناء ا;203; پر ہےروئن فروشی کا الزام لگا اس نے بہت سے سوال اٹھا دیے ہےں سب سے اہم سوال ےہ ہے کہ رانا صاحب نے مےڈےا پر بتاےا تھا کہ جناب وزےر اعظم کسی نہ کسی الزام مےں ان کی گرفتاری چاہتے ہےں دوسرے عمران خان کا الےکشن سے قبل جلوسوں مےں رانا ثناء ا;203; کو مونچھوں سے پکڑ کر جےل کی دھمکےاں کس امر کی غماز ہےں ۔ اس وقت پنجاب مےں وفادارےاں تبدےل کروانے کا عمل بھی جاری ہے اور رانا ثناء ا;203; نے وفاداری تبدےل کرنے والے ارکان کے گھےراءو کی بات بھی کہی تھی ۔ اےک اور سوال اٹھتا ہے کہ رانا ثناء ا;203; کو گرفتار ہی کرنا تھا تو ماڈل ٹاءون واقعہ مےں کےوں نہ کےا گےا ۔ رانا صاحب پر کئی فوجداری مقدمات قائم کئے گئے ۔ ان پر دہشت گرد گروپوں کی سہولت کاری کا الزام لگتا رہا ۔ ان پر (ن) لےگ کے فےصل آباد سے تعلق رکھنے والے مقامی لےڈر بھولا گجر کے قتل کا الزام بھی ہے بلکہ (ن) لےگ سے تعلق رکھنے والے سابق اےم اےن اے اور سابق مئےر فےصل آباد چوہدری شےر علی نے مےڈےا کو 22مقتولےن کی فہرست دی تھی جو بقول چوہدری شےر علی رانا ثناء ا;203; نے قتل کروائے تھے ۔ فےصل آباد سے بدنام زمانہ پولےس انسپکٹر فرخ وحےد جو ملک سے فرار ہو کر دوبئی چلا گےا تھا اس نے بھی رانا ثناء ا;203; کے خلاف کافی راز افشاکئے ہےں کہ اس نے کس طرح ان کے حکم پر جعلی پولےس مقابلوں مےں رانا صاحب کے مخالفےن کو ٹھکانے لگاےا تھا ۔ فرخ وحےد اس لئے فرار ہوا تھا کہ اسے خطرہ تھا کہ رانا ثناء ا;203; ثبوت مٹانے کےلئے اسے قتل کروانا چاہتا ہے لےکن رانا صاحب کے خلاف ان الزامات کی آج تک تحقےقات نہےں ہو سکےں ۔ اس سب کے باوجود رانا ثناء ا ;203; پر لگائے جانے والے الزامات کے حوالے سے کبھی شنےد نہےں رہی اور آج تک کسی نے ےہ نہےں کہا تھا کہ وہ منشےات فروشی مےں ملوث ہےں ےا ان کی جانب سے منشےات فروشوں کی سر پرستی کی جاتی ہے ۔ ثناء ا;203; اےک زےرک سےاستدان ہےں اتنے نازک حالات مےں ان سے اےسے نادانی کے فےصلے کی توقع تو نہےں کی جا سکتی لےکن اگر ان کو سےاسی انتقام کا نشانہ بناےا گےا ہے تو اےک طرف تو وہ مظلوم بن گئے ہےں دوسرے وہ اےک جھوٹے مقدمے مےں بری ہو کر اپنے دوسرے جرائم پر پردہ ضرور ڈال سکتے ہےں ۔ ہمارے ہاں سےاسی مخالفےن کوسبق سکھانے کےلئے اچھوتے مقدمے بنانے کی رواےت چلتی رہی ہے ۔ بے نظےر بھٹو کے دور حکومت مےں آج کے وزےر رےلوے شےخ رشےد احمد کے بےڈ کے نےچے سے غےر قانونی کلاشنکوف برآمد ہو گئی ۔ چودھری ظہور الٰہی اور مےاں محمود علی قصوری کو بھےنس چوری کے الزام مےں گرفتار کےا گےا ۔ آمرانہ ادوار مےں سےاسی مخالفےن کو کوڑوں کی زد مےں لے آنا تو معمول تھا لےکن جمہوری ادوار مےں بھی سےاسی مخالفےن کو انتقام اور عناد کی بھٹی مےں جلانے کےلئے متنازعہ قوانےن اور طاقت کے استعمال کا رواج ہر دور مےں رہا ہے ۔ نواز شرےف کے دور حکومت مےں ہی آصف علی زرداری اور انگرےزی اخبار ’’ فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کے مالک و اےڈےٹر پر بنائے گئے منشےات کے پس منظر اور قانونی حےثےت سے تمام سےاسی کارکن واقف ہےں ۔ اسی طرح زرداری کے خلاف 35من کپاس چوری کا الزام بھی نواز شرےف اےنڈ کمپنی کی نظر التفات کا ہی نتےجہ تھا ۔ جنرل مشرف کے دور حکومت مےں خفےہ والوں نے رانا ثناء ا;203;سے انسانےت سوز سلوک کےا ۔ انہےں نہ صرف ٹارچر کےا بلکہ ان کے سر کے بال اور بھنوےں تک مونڈ دےں ۔ رانا ثناء ا;203; کا مقدمہ جھوٹا ہے ےا سچا اس کا فےصلہ تو عدالت ہی کرے گی لےکن ےہ کےس اپنی حساسےت کے حوالے سے منفرد ہے ۔ پاکستان کے سےاستدان کرپشن کے حوالے سے پہلے ہی کوئی اچھی شہرت کے حامل نہےں ہےں ان حالات مےں اےک سابق وزےر قانون کی منشےات کےس مےں گرفتاری بےرونی دنےا مےں مزےد منفی تاثر قائم کرے گی ۔ فرض کرےں رانا ثناء ا;203; پر کےس ثابت ہو کر سزا ہو جاتی ہے اور وہ مجرم ثابت ہو جاتے ہےں تو بےرونی دنےا ہمارے بارے مےں ےہ رائے قائم کرنے مےں حق بجانب ہو گی کہ ہمارے سےاسی حکمران منشےات فروشی تک کے غلےظ دھندے مےں ملوث ہےں اور اگر وہ اس الزام سے بری ہو جاتے ہےں تو پھر رےاستی اداروں پر اعتماد ختم ہو جائے گا اور اس خےال کی تصدےق بھی ہو جائے گی کہ ہمارے ماضی کی طرح پھر سےاسی جماعتوں کو ہدف بنا کر انتقامی کاروائےاں کی جا رہی ہےں

About Admin

Google Analytics Alternative