Home » تازہ ترین » وزرا کی کارکردگی جانچنے کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس

وزرا کی کارکردگی جانچنے کیلئے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس

وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں تمام وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور فیصلہ ہوا کہ ہر وزارت کو 5 برسوں میں عمل درآمد کے لیے ایک خصوصی منصوبہ تفویض کیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کابینہ کا خصوصی اجلاس ہوا۔

کابینہ کے اجلاس میں وزارتوں کی جانب سے خدمات کی فراہمی، سادگی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور مستقبل کے حوالے سے بنائے گئے منصوبوں پر تبادلہ خیال گیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق ہر وزارت کی کارکردگی جانچنے، ضرورت کے مطابق بہتری لانے اور حکومت کے مجموعی کارکردگی کو دیکھنے کے لیے کابینہ کے اجلاس کو ہر سہہ ماہی میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سوشل میڈیا میں جاری ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان حکومت کے 100 روزہ منصوبے کے مطابق ہر وزارت کی کارکردگی کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘تمام وزرا کی کارکردگی پر مکمل نظر رکھی گئی کہ انہوں نے 100 روزہ ایجنڈے کے مطابق کیا ڈلیور کیا ہے’۔

ایک اور ٹوئیٹ میں پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ‘تمام وزارتوں کی کارکردگی 3 بنیادی پہلوؤں سے جانچی جارہی ہے، پہلے نمبر پر سادگی کی مہم کے ذریعے بچت، دوسرے نمبر پر شروع کیے گئے نئے منصوبوں کی تعداد اور ان کی نوعیت اور تیسرے نمبر پر مستقبل کا منصوبہ’ شامل ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ‘احتساب جہموریت کا مرکزی ستون ہے، وزیراعظم عمران خان نے وزیروں کے انتخاب میں میرٹ کو برقرار رکھا اور ایک مرتبہ پھر وہ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے پر تمام وزرا کی کارکردگی جانچ کر میرٹ کو برقرار رکھ رہے ہیں’۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے پر 29 نومبر کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد کی گئی تھی جس میں وزیراعظم عمران خان کے حکومت میں پہلے 100 دن کا جائزہ پیش کیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘100 روزہ کارکردگی کا کریڈٹ بشریٰ بیگم کو دیتا ہوں اور انہیں خراج تحسن پیش کرتا ہوں کیونکہ 100 روز میں صرف ایک چھٹی ملی اور اس دوران انہوں نے بھرپور ساتھ دیا۔’

انہوں نے کہا تھا کہ ‘جانوروں کے معاشرے میں کمزور کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی جبکہ انسانی معاشرے میں رحم اور انصاف ہوتا ہے، ہم نے 100 روز کے اندر جتنی بھی پالیسیاں تشکیل دیں اس میں غریب معاشرے کے بارے میں ضرور خیال رکھا۔’

وزیر اعظم نے کہا تھا کہ ‘ہم نے وزیر اعظم ہاؤس میں اثاثہ جات ریکوری کا شعبہ بنایا اور سوئٹزرلینڈ سمیت 26 ممالک سے رابطہ کرکے معاہدے طے ہوئے تاکہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جا سکے، ان ممالک سے حاصل معلومات کے مطابق پاکستانیوں کے 11 ارب ڈالر ان ممالک میں موجود ہیں جن کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔’

احتساب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ‘سوئٹزرلینڈ سے پاناما پیپرز سے پہلے والے اکاؤنٹس کی تفصیلات کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں۔’

About Admin

Google Analytics Alternative