Home » کالم » وزیراعظم عمران خان کی تاریخی کامیابی اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی
adaria

وزیراعظم عمران خان کی تاریخی کامیابی اور بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی

adaria

71سال سے ایک دیرینہ مسئلہ حل طلب تھا مگر اس دوران بہت سی حکومتیں آئیں سب نے اس حوالے سے مختلف بیانات دئیے، شاید کچھ کاوشیں بھی کی ہونگی لیکن وہ بارآور ثابت نہ ہوسکیں ۔وزیراعظم عمران خان کا خاصہ یہ بتاتاہے کہ انہوں نے ہر ناممکن بات کو ممکن بنایا، کیا کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ 1992ء میں پاکستان کیلئے ورلڈ کپ جیتنے والا ایک کرکٹ کا کھلاڑی کبھی اس ملک کی قسمت کا بھی والی وارث ہوگا، وقت اسی طرح رواں دواں رہا عمران خان نے تحریک انصاف بنائی، اس سیاسی دشت میں نامعلوم کتنے اتار چڑھاؤ آئے، بھنور آئے مگر عمران خان نے ہمت نہ ہاری اور مصمم ارادے سے اپنی منزل کی جانب گامزن رہے اور آخر کار اقتدار حاصل کرکے وزیراعظم پاکستان بن گئے۔ چونکہ جب پی ٹی آئی کو حکومت ملی تو بہت سارے مسائل انہیں ماضی کی حکومتوں کی طرح ورثے میں ملے۔ ان مسائل کو حل کرنے کیلئے عمران خان نے رات دن ایک کیا، وفاقی کابینہ کے100دن کے اندر اندر ریکارڈ اجلاس کیے، کچھ فیصلے کیے ان پر ابھی مزید عمل ہونا باقی ہے۔ ان 100دنوں کے اندر جو سب سے اہم کامیابی ہم سمجھتے ہیں وہ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھنا تھا کیونکہ تقریباً 7دہائیوں سے یہ مسئلہ حل نہ ہو پارہا تھا مگر عمران خان نے اپنی صلاحیتوں کو منواتے ہوئے صرف تین ماہ کے اندر اس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ پوری دنیا انگشت بدانداں رہ گئی یہاں پر مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ وزیراعظم عمران خان نے بہت بڑی منزل حاصل کی ہے۔ ترقی یافتہ قوموں اور تعمیری اپوزیشن کرنے والوں کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ اگر ملک و قوم کیلئے کوئی اچھا فیصلہ کیا جائے تو اس کا سراہنا چاہیے۔ وزیراعظم نے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ پاکستان اور بھارت کو ماضی کی زنجیریں توڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اگر فرانس اور جرمنی ایک یونین بنا کر آگے بڑھ سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔ دونوں ممالک کے مابین سب سے بڑا مسئلہ مسئلہ کشمیر ہے، انسان چاند پر پہنچ چکا لیکن ہم ابھی تک مسئلہ کشمیر میں ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم کی اس بات سے ہم 100فیصد اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان بھارت کے مابین اصل تنازعہ مسئلہ کشمیر ہی ہے اس کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا پھر یہ بھی کہا کہ اگر بھارت ایک قدم بڑھتا ہے تو ہم دوقدم آگے بڑھیں گے۔ پاکستان نے تو ہمیشہ ہی اپنے دروازے کھلے رکھے لیکن بھارت نے اپنی کوتاہ نظری کی روایت برقرار رکھی ، ابھی ادھر راہداری کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب ختم ہی ہوئی تھی کہ مودی کی حکومت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہوگئے، وہاں کا میڈیا بھی سیخ پا ہوگیا اور پاکستان دشمنی شروع کرتے ہوئے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہ بیان داغ دیا کہ کرتارپور راہداری کھلنے کا مطلب مذاکرات کا آغاز نہیں اور نہ ہی ہم سارک کانفرنس میں شرکت کرینگے یہ کوئی نئی یاانہونی بات نہیں پہلے بھی اسی بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سارک کانفرنسز سبوتاژ ہوتی رہیں۔تقریب میں آئی ہوئی بھارتی وزیر ہرسمرت کوربادل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں اور انہوں نے کہاکہ میں نے کبھی زندگی میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں یہاں تک پہنچ جاؤں گی ہماری قوم کیلئے یہ بہت خاص دن ہے، آج ہم مریدوں کی مراد پوری ہونے جارہی ہے، ہم بارڈر سے چارکلو میٹر دور کھڑے ہوکر دیدار کو ترستے رہتے تھے، یہ راہداری دونوں ممالک کے مابین امن کی ضمانت ہوگی، پاکستان کی دھرتی سکھ کمیونٹی کیلئے بہت مقدس ہے جبکہ سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان ایسی چابی بن گئے ہیں جو ہر تالے کو لگ سکتی ہے، کرتاپور صاحب کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو سب سے پہلا نام عمران خان کا لکھا جائے گا۔ مگر حیف ہے بھارت پر کہ وہ کوئی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جس میں وہ پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی نہ کرے۔ انتہا تو اس وقت ہوگئی جب بھارتی میڈیا نے ایک نئی احتراع نکالتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان کرتارپور راہداری کو خالصتان کے معاملے میں استعمال کرے گا، یہ حد ہے بھارت کی اور اس کے گھناؤنے عزائم کی وہ کسی طرح نہیں چاہتا کہ خطے میں امن و امان قائم ہو، وہ پاکستان سے تعلقات ہی نہیں چاہتا، مقبوضہ کشمیر میں کسی طرح ظلم و ستم کی تاریخ کو جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ آج بین الاقوامی برادری نے دیکھ لیا کہ پاکستان خطے میں کس قدر قیام امن کا خواہاں ہے۔ عمران خان نے وہ کام کردکھایا جو شاید کوئی خوابوں میں سوچتا ہوگا، ابھی یہ تو بارش کا پہلا قطرہ ہے امید کی جارہی ہے کہ اور بھی دیگر مسائل اسی تیزی سے حل ہونگے کیونکہ حکومت بھی یہ بات کہتی ہوئی نظر آرہی ہے کہ آنے والے دنوں میں بہت زیادہ تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد ان ہی مثبت تبدیلیوں کا ثبوت ہے۔

ایس کے نیازی کی تعمیری صحافت،ہرکوئی معترف
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی کا ہمیشہ سے یہ طرہ امتیاز رہا کہ انہوں نے جب سے صحافت میں قدم رکھا تو ہمیشہ معیاری اور صاف ستھری صحافت کے علمبردار نظر آئے۔ روز نیوز پر ان کا نشر ہونے والا پروگرام’’سچی بات‘‘ آج اپنی بلندیوں کو چھو رہا ہے، اس پروگرام میں انہوں نے ہمیشہ عوامی مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی۔ بہت سارے ایسے ایکشن ہوئے جن کی نشاندہی سچی بات میں کی گئی اور حکومت نے اس مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا ۔گزشتہ روز سچی بات کے پروگرام میں وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم مدعو تھے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے متعین کردہ مختلف چھ نکات کا ذکر کیا لیکن جب ایس کے نیازی نے ان کی توجہ ایک ایسے اہم نکتے کی جانب مبذول کرائی تو انہوں نے بھی اس سے اتفاق کیا۔ ایس کے نیازی نے کہاکہ جہاں تک ماحول کی بات ہے تو آپ اس کے انچارج مشیر ہیں کیا قومی اسمبلی کے ماحول کی جانب کبھی آپ نے توجہ دی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس پر لاکھوں کروڑوں روپے کے اخراجات آتے ہیں ، وہاں پر قوم نے آپ کو قانون سازی اور مسائل حل کرنے کیلئے بھیجا ہے لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں پر تو کچھ اور ہی دیکھنے اور سننے کو ملتا ہے، ذاتیات کی سیاست اور اخلاقیات کا تیاپانچہ کیا جاتا ہے، نہ کوئی روکنے والا ہے ، نہ کوئی وہاں پر ایس او پی دینے والا ہے ، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایوان کے ماحول کو مثبت انداز میں رواں دواں رکھے۔ ملک امین اسلم نے اس سے بالکل اتفاق کرتے ہوئے کہاکہ نیازی صاحب آپ بالکل صحیح فرمارہے ہیں آپ نے جو نکتہ اٹھایا ہے یہ بہت اہم ہے اور انشاء اللہ ہم اس پر عمل بھی کرینگے۔ ایس کے نیازی نے ماحو ل کے حوالے سے گاڑیوں کے دھوئیں کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہاکہ ہر گاڑی کی ایک خاص عمر ہوتی ہے اور اس کی چیکنگ ہونی چاہیے جس پر امین اسلم نے کہاکہ بالکل ہم اس حوالے سے بھی کام کررہے ہیں اور گاڑی کی صحت بھی ضروری ہے، برطانیہ کے تعاون سے ہم مختلف ایسے سینٹرز قائم کررہے ہیں جہاں پر باقاعدہ گاڑیوں کی چیکنگ کی جائیگی۔ آج اسی وجہ سے ایس کے نیازی کی تعمیری صحافت کا ہر کوئی معترف ہے کیونکہ سچی بات میں پوائنٹ سکورنگ نہیں اصل مسائل کی جانب توجہ مبذول کرائی جاتی ہے ۔وزیراعظم سے لیکر کابینہ کے وفاقی وزراء ، اپوزیشن کے اہم رہنما، سیاسی و سماجی شخصیات سب اس پروگرام میں شرکت کرچکی ہیں، صحت کا مسئلہ ہو، پانی کا مسئلہ ہو، ڈیم کی تعمیرات کا مسئلہ ہو، ملکی معیشت کا مسئلہ ہو،خارجہ و داخلی امور ہوں،دفاع اور سرحد کا معاملہ ہوغرض کہ ہر جانب ایس کے نیازی ان تمام چیزوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نظریات کا تحفظ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

About Admin

Google Analytics Alternative